12516: نقاب كى حالت ميں حج كرنے پر كيا لازم آتا ہے


ميں نے پچھلے برس حج اور عمرہ كيا تھا، مجھے علم تھا كہ نقاب جائز نہيں، ليكن اس كے باوجود مجھے لازمى نقاب كرنا پڑا كيونكہ ميرے ارد گرد بہت سے لوگ تھے، مجھے كہا گيا ہے كہ آپ نے جو كچھ كيا ہے وہ غلط تھا چاہيے تو يہ تھا كسى اور چيز كے ساتھ چہرہ چھپايا جاتا، اس غلطى كو صحيح كرنے كے ليے مجھے كيا كرنا ہو گا ؟

الحمد للہ :

نقاب پہننا احرام كى ممنوعہ اشياء ميں سے ہے، احرام كى حالت ميں عورت كے ليے غير محرم مردوں سے اپنا چہرہ اس طرح چھپانا ممكن ہے كہ وہ اپنے سر كے اوپر سے چہرے پر كپڑا ڈال لے، ليكن نقاب جيسى ممنوع احرام چيز كا ارتكاب نہ كرے.

عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ايك شخص كھڑا ہو كر كہنے لگا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم احرام كى حالت ميں آپ ہميں كونسا لباس پہننے كا حكم ديتے ہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم نہ تو قميص زيب تن كرو اور نہ ہى سلواريں، اور نہ ہى پگڑياں .... اور احرام والى عورت نقاب نہ كرے اور نہ ہى دستانے پہنے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1741 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ابن منذر كا كہنا ہے: برقع كى كراہيت سعد اور ابن عمر اور ابن عباس اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہم سے ثابت ہے، ہمارے علم كے مطابق اس كى كسى نے بھى مخالفت نہيں كى، امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" عورت نہ تو نقاب كرے اور نہ ہى دستانے پہنے "

اور قريب سے اجنبى مرد گزرنے كى بنا پر اگر اسے اپنا چہرہ چھپانے كى ضرورت پيش آئے تو وہ اپنے سر سے نيچے چہرے پر كپڑا لٹكا لے، يہ عثمان اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے، اور عطاء، امام مالك، الثورى اور امام شافعى، اسحاق، محمد بن حسن رحمہم اللہ كا بھى يہى قول ہے.

ہمارے علم كے مطابق اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اور يہ اس ليے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ہمارے پاس سے قافلہ والے گزرتے اور ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ احرام كى حالت ميں تھيں جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم ميں ايك اپنى اوڑھنى اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹكا ليتى، اور جب وہ ہم سے آگے گزر جاتے تو ہم چہرہ ننگا كر ليتيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1833 ) المغنى ( 3 / 154 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث جلباب المراۃ ميں صحيح قرار دى ہے.

كسى عذر كى بنا پر عمدا محظورات احرام كا ارتكاب كرنے سے فديہ واجب ہوتا ہے اور وہ يہ ہے كہ: يا تو تين روزے ركھے، يا پھر حرم كے مساكين ميں سے چھ مساكين كو كھانا كھلائے، يا پھر حرم كى حدود ميں ايك بكرى ذبح كرے، عذر كى بنا پر محظورات احرام كے ارتكاب كى بنا پر اس پر كوئى گناہ نہيں اور ظاہر يہ ہوتا ہے كہ آپ كى حالت بھى اسى قسم ميں شامل ہوتى ہے كيونكہ آپ نے ذكر كيا ہے كہ:

مردوں كى كثرت كى بنا پر آپ نے نقاب كيا تھا، تو اس طرح آپ پر فديہ لازم آتا ہے جس كا ذكر اوپر ہو چكا ہے، اور آپ پر كوئى گناہ نہيں، يہ تو اس وقت ہے جب آپ نقاب سے مراد نقاب لے رہى ہوں، نہ كہ چہرے كو عام نقاب كے علاوہ كپڑے سے چھپانا، ليكن اگر آپ نے بغير نقاب كيے چہرہ چھپايا، يا پھر عادتا جو طريقہ ہے اس كے علاوہ طريقہ اختيار كيا ہے تو اس ميں آپ پر كوئى چيز لازم نہيں آتى، بلكہ ان شاء اللہ آپ كو پردہ كرنے اور مردوں كى نظر سے دور رہنے كا اجروثواب حاصل ہو گا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

"جب محرم شخص اوپر بيان كردہ محظورات احرام ميں سے كسى كا ارتكاب كرے يعنى جماع يا شكار وغيرہ كرے تو اس كى تين حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

وہ بھول گيا ہو، يا پھر جاہل ہو يا پھر مجبور كر ديا گيا ہو، يا سويا ہوا ہو تو اس پر كچھ لازم نہيں آتا، نہ تو كوئى گناہ ہے اور نہ ہى فديہ اور نہ ہى اس كى عبادت فاسد ہوتى ہے كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اے ہمارے رب اگر ہم سے بھول چوك ہو جائے يا ہم غلطى كر ليں تو ہمارا مؤاخذہ نہ كرنا، اے ہمارے رب ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈالنا جس طرح ہم سے پہلوں پر بوجھ ڈالا تھا، اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس كى ہم ميں طاقت نہ ہو، ہم معاف كر دے، اور ہمارے گناہ بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مولا و آقا ہے، كافروں كى قوم پر ہمارى مدد فرما ﴾البقرۃ ( 286 )

اور ايك مقام پر فرمان بارى تعالى ہے:

﴿جو تم سے بھول چوك ہو جائے اس ميں تم پر كوئى گناہ نہيں، ليكن گناہ اس ميں ہے جو تمہارے دل كے ارادے سے ہوں، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے ﴾الاحزاب ( 5 ).

دوسرى حالت:

محظورات ميں سے كسى چيز كا عمدا ارتكاب ايسے عذر كى بنا پر كرے جو اسے مباح كرتا ہو، تو اس حالت ميں اس پر وہ ہے جو اس كے فعل سے مرتب ہوتا ہے اور اس پر كوئى گناہ نہيں.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اور اللہ تعالى كے ليے حج اور عمرہ مكمل كرو اگر تم روك ديے جاؤ تو جو قربانى ميسر ہو اسے كر ڈالو اور اپنے سر اس وقت تك نہ منڈواو جب تك كہ قربانى قربان گاہ تك نہ پہنچ جائے، البتہ جو بيمار ہو يا اس كے سر ميں كوئى تكليف ہو ( جس كى وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فديہ ہے، خواہ وہ روزے ركھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانى كرے ﴾البقرۃ ( 196 ).

تيسرى حالت:

محظورات ميں كسى محظور كا عمدا ارتكاب بغير كسى ايسے عذر كے ہو جو اسے مباح كرتا ہو، تو اس بنا پر اس كے فعل سے جو مرتب ہو گا وہ گناہ كے ساتھ ہے.

ديكھيں: مناسك الحج والعمرۃ ( الفصل الخامس / محظورات الاحرام )

واللہ اعلم.

الاسلام سوال وجواب
Create Comments