Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
12525

عورت كے چہرے كے پردہ پر ايك اعتراض

ميں كچھ جوابات ديكھ رہا تھا كہ ميں نے يہ كلام ديكھى جس كى تعبير يہ ہے كہ " صحيح ترين قول يہ ہے " اور يہ كلام عورت كے چہرہ كے پردہ كے متعلق تھى، حالانكہ ميں نے اسم سئلہ ميں اكثر علماء كرام كا قول اس قول كے خلاف پايا ہے، اس بنا پر مولانا صاحب نے اسے ذكر كيوں نہيں كيا، ميں صرف ايك رائے ذكر كرنے پر ہى اكتفا كرتا ہوں:
ميں يہ سمجھ سكتا ہوں كہ اس مسئلہ ميں شيخ كى رائے ميں يہ قول قوى ہے، ليكن اس كے علاوہ دوسرے بھى يہ رائے ركھتے ہيں كہ اس مسئلہ ميں ا نكى اپنى رائے قوى قول ہے، تو پھر شيخ نے ہمارے ليے يہ كيوں نہيں بيان كيا كہ يہ قول ميرى رائے پر مبنى ہے نہ كہ اكثر علماء كى رائے ميں ؟

الحمد للہ:

يہ تعبير كرنى كہ: صحيح ترين قول يعنى اختيار كردہ قول ہى سب اقوال ميں دليل كے اعبتار سے زيادہ قوى قول ہے، اور يہ لازم نہيں كہ يہ قول اكثر فقھاء كا ہى ہو، بعض اوقات ايسا بھى ہو سكتا ہے كہ اكثر فقھاء كا قول زيادہ قوى ہو، ليكن بعض اوقات دلائل كے اعبتار سے زيادہ قول بعض فقھاء كا بھى ہو سكتا ہے.

اور پھر جو قول ہم نے اختيار كيا ہے ـ كہ عورت كے ليے چہرے كا پردہ كرنا واجب ہے ـ كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ كے دلائل اسى پر دلالت كرتے ہيں، اور كئى صديوں تك مومن عورتوں كا عمل بھى اسى پر رہا ہے، اور ہمارے معاصر علماء مثلا عبد العزيز بن باز، اور ابن عثيمين رحمہما اللہ اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام وغيرہ كا بھى يہى فتوى ہے.

مستقل فتوى كميٹى جس كے چئرمين عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تھے سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا عورت كا چہرہ ستر ميں شامل ہوتا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" جى ہاں علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق عورت كا چہرہ عورۃ يعنى پردہ اور ستر ميں شامل ہوتا ہے "

ديكھيں: مجلۃ البحوث الاسلاميۃ ( 24 / 75 ).

اور آپ يہ بھى علم ميں ركھيں كہ اختلاف ہونے كى صورت ميں مسلمان كے ليے كتاب و سنت كى طرف رجوع كرنا ضرورى اور واجب ہوتا ہے، جس كا حكم ديتے ہوئے اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو اگر تم كسى چيز ميں اختلاف كر بيٹھو تو اسے اللہ اور اس كے رسول كى طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالى اور يوم آخرت پر ايمان ركھتے ہو ﴾.

اور اللہ تعالى اور اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر لوٹانے سے يہ واضح ہوتا ہے كہ مسلمان اجنبى اور غير محرم مردوں كى موجودگى ميں عورت پر اپنے چہرے كا پردہ كرنا واجب ہے، اس كے كچھ دلائل ذيل ميں بيان كيے جاتے ہيں:

1 - اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).

مہاجرين اور انصار صحابہ كرام كى عورتوں نے اس حكم پر عمل بھى كيا.

امام بخارى رحمہ اللہ نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے كہ:

" اللہ تعالى پہلى مہاجر عورتوں پر رحمت كرے جب اللہ تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى:

﴿ اور وہ اپنى چادريں اپنے گريبانوں پر لٹكا ليا كري ﴾.

تو انہوں نے اپنى چادريں دو حصوں ميں پھاڑ كر تقسيم كر ليں اور انہيں اپنے اوپر اوڑھ ليا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4480 ).

2 - اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ ﴾النور ( 31 ).

اس آيت ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے ظاہرى زينت كے علاوں باقى سب زيبائش اور بناؤ سنگھار كو مطلقا ظاہر كرنے سے منع كيا ہے، اور ظاہرى زينت مثلا ظاہرى كپڑوں كا ظاہر ہونا تو ضرورى ہے، اسى ليے اللہ تعالى نے " الا ما ظھر منھا " كے الفاظ بولے ہيں، اور يہ نہيں فرمايا: " الا ما اظھر منھا

پھر اللہ تعالى نے انہيں زينت ظاہر كرنے سے دوبارہ منع كيا ہے، ليكن جن كو اس سے استثنى كيا ہے ان كے سامنے ظاہر كر سكتى ہے، تو اس سے پتہ چلا كہ دوسرى زينت پہلى زينت كے علاوہ ہے، تو پہلى زينت سے مراد ظاہرى زينت ہے جو ہر ايك كے ليے ظاہر ہو گى جس كا چھپانا ممكن نہيں، اور دوسرى زينت سے مراد باطنى زينت ہے ( اور اس ميں چہرہ بھى ہے ) اور اگر يہ زينت ہر ايك كے سامنے ظاہر كرنى جائز ہوتى تو پھر پہلى زينت كو عام كرنے اور دوسرى كو استثنى كرنے ميں كوئى فائدہ معلوم نہيں ہوتا.

3 - ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

اللہ سبحانہ و تعالى نے مومنوں كى عورتوں كو حكم ديا ہے كہ وہ جب كسى ضرورت كى خاطر اپنے گھروں سے نكليں تو اپنے چہرے اپنے سروں كے اوپر سے اوڑھنيوں كے ساتھ ڈھانپ ليا كريں، اور ايك آنكھ ظاہر كريں "

اس كے دلائل اور بھى بہت زيادہ ہيں، آپ مزيد اہم معلومات كے ليے سوال نمبر ( 23496 ) اور ( 21536 ) اور ( 13646 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments