12592: مشقت والے کام مثلامعدنیات پگھلانا


بدنی طور پرتھکادینے والوں کام کرنے والے مزدورں کا شرعیت اسلامیہ کیا حکم ہے اورخاص کرجب وہ گرمیوں یہ سخت کام کرتے ہوں ، اس کی مثال یہ ہے کہ مثلا وہ لوگ جو معدنیات لوہا وغیرہ کو پگھلانے کے لیے آگ کی بھٹیوں کے سامنے کام کرتےہیں ، توکیا ایسے لوگوں کےلیے رمضان کے روزے چھوڑنے جائز ہیں ؟

الحمد للہ :

یہ توہرشخص کوضرورمعلوم ہے کہ دین اسلام میں ہرمسلمان مکلف پررمضان المبارک کے روزے رکھنے فرض ہیں اورارکان اسلام میں سے ایک رکن بھی ہيں ۔

لھذا ہر مکلف پر ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فرائض ادا کرنے کی حرص رکھے اوراس میں اسے اجروثواب کی نیت ہونی چاہیے اوراس کے ‏عذاب کا خوف ہونا چاہیے لیکن دنیا کا حصہ اورنصیب بھی بھولنا نہيں چاہیے کہ اس کی دنیا آخرت پر اثر انداز نہ اوراسے تباہ ہی کردے ۔

جب اللہ تعالی کی فرض کردہ عبادت اس کے دنیاوی عمل سے تعارض رکھتی ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ ان دونوں کے مابین تنسیق اورموافقت پیدا کرے تا کہ دونوں پر عمل کرسکے ۔

لھذا سوال میں مذکور مثال میں یہ ہے کہ وہ یہ کام رات کو کرلے اوراگر ایسا نہ ہوسکے تو اپنی ملازمت سے رمضان المبارک کے مہینہ کی چھٹیاں حاصل کرلے اگرچہ تنخواہ کے بغیر ہی حاصل ہوں ، اوراگر ایسا نہ ہوسکے تو توکوئي اور کام تلاش کرلے جس میں دونوں واجبات کو ادا کرنا ممکن ہو ۔

لیکن دنیاوی کام اس کی آخرت پر اثرانداز نہيں ہونے چاہییں کہ اس سے آخرت ہی تباہ ہوجائے ، کیونکہ کرنے کے کام اور بھی بہت ہيں اوررروزکمانے کے لیے صرف یہی مشقت اورمشکل کام نہيں ، اور مسلمان کے لیے ایسے کام معدوم نہيں جن کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالی کے فرائض پر عمل پیرا ہوسکتا ہے ۔

کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورجوشخص اللہ تعالی سے ڈرتا اوراس کا تقوی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ، اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے وہم وگمان بھی نہيں ہوتا ، اورجو شخص اللہ تعالی پر توکل کرے گا اللہ تعالی اسے کافی ہوگا ، اللہ تعالی اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا } الطلاق ( 2 - 3 ) ۔

اورفرض کریں کہ اگر اسے مذکورہ کام جس میں مشقت اورحرج والے کام کے علاوہ کوئي اورکام نہ ملے تواسے اپنے دین کو لے کر اس علاقے سے اس جگہ چلے جانا چاہیے جہاں وہ اپنے دینی واجبات اوردنیاوی معاملات میں بھی عمل پیرا ہوسکے اوراس میں مسلمانوں کے ساتھ نیکی وبھلائی کے کاموں پر تعاون کرے ، اس لیے کہ اللہ تعالی کی زمین بہت ہی وسیع ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورجوکوئي اللہ تعالی کے راہ میں وطن کو چھوڑے گا ، وہ زمیں میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اورکشادگي بھی } النساء ( 100 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

{ کہہ دو کہ اے میرے مومن بندو ! اپنے رب سے ڈرتےرہو ، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لیے نیک بدلہ ہے اوراللہ تعالی کی زمین بہت کشادہ ہے ، صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجروثواب دیا جائے گا } الزمر ( 10 ) ۔

اوراگر اس کے لیے یہ سب کچھ میسر نہ ہوسکے اورسوال میں مذکور مشقت والے کام کرنے پر ہی مجبور ہووہ اس وقت تک روزہ رکھے کہ جس میں اسے حرج اورتنگی محسوس ہو اورجب زيادہ تنگي محسوس ہو تو کھاپی لے اورروزہ توڑدے تا کہ اس تنگي سے نکل سکے لیکن اسے اس باقی دن کچھ نہيں کھانا پینا چاہیے تا کہ اس کی حرمت قائم رہے اوربعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کرنا واجب ہوگا ۔

اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتیں برسائے  .

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 233 - 234 ) ۔
Create Comments