Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
12602

فجر سے چندمنٹ قبل کھانا پینا بند کرنا بدعت ہے

کچھ ممالک میں طلوع فجر سے تقریبا دس منٹ قبل ہی سحری کا وقت ختم کردیا جاتا ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ سحری ختم ہونے کا وقت یہی ہے اوروہ اس وقت سے اپنے روزہ کوشروع کرتے ہوئے کھانا پینا بند کردیتے ہیں ، توکیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟


الحمد للہ
ایسا کرنا صحیح نہیں ۔

اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے روزہ دار کے لیے طلوع فجر تک کھانا پینا جائز کیا ہے اس کا ذکر کرتے ہو‏‏ئے اللہ تعالی نے فرمایا :

{ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے } البقرۃ ( 187 ) ۔

اورحديث میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اورعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتے ہيں کہ :

بلال رضی اللہ تعالی عنہ رات کے وقت اذان دیتے تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( عبداللہ بن ام مکتوم رضي اللہ تعالی کے اذان دینے کے وقت تک کھاتے پیتے رہو ، اوروہ طلوع فجر کےوقت اذان دیتے تھے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1919) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1092 ) ۔

امام نوورحمہ اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں :

اس حدیث میں طلوع فجر تک کھانے پینے ، جماع اورسب کچھ کرنے کا جواز ہے ۔ ا ھـ ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی فتح الباری میں لکھتے ہیں :

اس زمانے میں یہ بدعت پیدا ہوچکی ہے کہ رمضان المبارک میں دوسری اذان فجر سے پندرہ منٹ قبل ہی دے دی جاتی ہے ، اورسحری کے وقت کھانے پینے سے روکنے کی علامت کے لیے لگائے گئے چراغوں کو بھی پہلے ہی بند کردیا جاتا ہے ، اوریہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا کرنا عبادت میں احتیاط ہے ۔ ا ھـ دیکھیں فتح الباری ( 4 / 199 ) ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :

کچھ جنتریوں میں سحری کا وقت طلوع فجر سےپندرہ منٹ پہلے محدد کردیا گیا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

توشيح رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

ایسا کرنا بدعت ہے ، جس کی سنت میں کوئي دلیل اوراصل نہیں ملتی ، بلکہ سنت طریقہ تو اس کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنی کتاب عزيز میں کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ کھاؤ پیؤ حتی کہ صبح کا سیاہ دھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے واضح ہوجائے } البقرۃ ( 187 ) ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بلال رضي اللہ تعالی عنہ رات کے وقت اذان دیتےہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم رضي اللہ تعالی عنہ کی اذان سننے تک کھاتےپیتے رہو ، کیونکہ وہ طلوع فجر کے وقت اذان دیتے ہیں ) ۔

جو لوگ سحری کےوقت میں تقدیم کرتے ہوئے پہلے ہی کھانا پینا بند کردیتے ہیں یہ اللہ تعالی کے فرض کردہ پر زيادتی ہے جس کی بنا پر ایسا کرنا باطل ہے اوریہ اللہ تعالی کے دین میں غلو اورمبالغہ ہے ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے :

( غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے ، غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے ، غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2670 ) ۔ ا ھـ

 

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments