126281: كيا دخول كے بعد مطلقہ عورت كو كچھ فائدہ ديا جائيگا


ميں نے پچھلے برس شادى كى اور كويت ميں اپنے خاوند كے ساتھ رہتى تھى، وہاں جانے كے بعد كچھ صحت صحيح نہ رہى تو خاوند نے مجھے علاج كے ليے انڈيا بھيج ديا، اور وعدہ كيا كہ وہ اس كے گھر والے علاج معالجہ كا سارا خرچ برداشت كريں گے.
جب ميں انڈيا آئى تو ڈاكٹر نے چيك اپ كے بعد بتايا كہ مجھے ايك بيمارى ہے جس كى دوائى مجھے سارى عمر كھانى پڑےگى، اس وجہ سے ميرے خاوند كے رشتہ دار اور بھائيوں وغيرہ نے مجھے برا بھلا كہا اور ميرے خاندان والوں كو بھى گالياں ديں اور ميرے علاج كا خرچ برداشت كرنے سے انكار كر ديا.
اس ليے ميں ٹھكانہ حاصل كرنے كے ليے اپنے والدين كے گھر چلى گئى، ميرے خاوند كے رشتہ داروں نے ميرے خاوند كو ميرے اور ميرے والدين كے بارہ ميں غلط معلومات فراہم كيں اور ميرے اور خاوند كے مابين غلط فہمى سے پيدا كر دى، اس ليے ميرے خاوند نے مجھے ايك ہى وقت ميں تين طلاق دے ديں اور ليٹر بھى بھيج ديا جس ميں اس نے بيان كيا كہ:
جب ميں ايك دائمى بيمارى كا شكار ہوں تو يہ چيز ميرے بچے كى صحت پر بھى اثرانداز ہوگى، اور اسى طرح ازدواجى زندگى پر بھى، اس مشكل كو حل كرنے كے ليے ميرا خاوند انڈيا نہيں آنا چاہتا تھا، اس ليے ميں خود كويت گئى تا كہ اپنے آپ كو ہر اس بات برى ثابت كر سكوں جو ميرے متعلق كہى گئى تھى. كچھ اہل علم اور رشتہ داروں كے تعاون سے خاوند كے ساتھ بات ہوئى انہوں نے اسے كہا كہ اس نے جو كچھ كيا ہے وہ دين اور انسانيت كے خلاف ہے، اور ايك ڈاكٹر كے ذريعہ اسے بتايا گيا كہ ميرى صحت حالتى كوئى سيريس نہيں، اور ميں اس كے ساتھ طبعى شكل سے نپٹ سكتى ہوں، ليكن ميرا خاوند ان امور كو قبول نہيں كرتا، بلكہ اس نے عدت كا عرصہ بھى اپنے ساتھ رہنے سے انكار كر ديا، اور ميرے خاوند نے مجھے دو چيزوں كا اختيار ديا كہ يا تو ميں اپنے سسرال چلى جاؤں اور يا پھر اپنے ميكے، اور مجھے اس نے عدت كے عرصہ ميں خرچ كے ليے اسى دينار بھى ديے، اور اس عرصہ ميں ميرے والدين نے جو خرچ كيا تھا وہ اخراجات دينے سے انكار كر ديا.
اب تقريبا عدت ختم ہونے والى ہے، اور مجھے معلوم نہيں ہو رہا كہ ميں كيا كروں، كيا ميرے ليے جائز ہے كہ ميں اپنے خاوند كے رشتہ داروں كے خلاف مقدمہ دائر كروں كيونكہ اس سارى مشكل كا سبب وہى ہيں ؟
اور كيا اپنے حقوق حاصل كرنے كے ليے وضعى عدالت ميں جانا جائز ہے ؟
اور اس طلاق جس نے ميرى زندگى تباہ كر دى ہے كے متعلق شريعت اور دين كى رائے كيا ہے ؟
اور كيا اسلام ميں كوئى ايسا حكم ہے جو آدمى كو اپنى طلاق يافتہ بيوى كا عدت كے بعد خرچ يا اس كا معاوضہ ادا كرنے پر مجبور كرتا ہو ؟
اور كيا ميں شرعى عدالت يا عام عدالت سے اس سلسلہ ميں معاونت حاصل كر سكتى ہوں ؟
اور سورۃ البقرۃ كى آيت نمبر 241 كا معنى كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

جب آدمى اپنى بيوى كو ايك ہى بار تين طلاق دے مثلا وہ كہے: تجھے تين طلاق، يا پھر عليحدہ عليحدہ كلمات تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق كہے تو راجح قول كے مطابق ايك طلاق واقع ہو گى، اور عدت كے اندر اندر اسے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو وہ اس سے نيا نكاح كر سكتا ہے.

دوم:

طلاق رجعى والى عورت عدت ميں اخراجات حاصل كرنے كى مستحق ہے، اور اسے گھر سے نكالنا جائز نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم انہيں ان كے گھروں سے مت نكالو، اور نہ ہى وہ خود نكليں ہاں يہ اور بات ہے كہ وہ كھلى برائى كر بيٹھيں يہ اللہ كى مقرر كردہ حدود ہيں، اور جو كوئى بھى اللہ كى حدود سے تجاوز كريگا اس نے يقينا اپنے اوپر ظلم كيا، تم نہيں جانتے شايد اس كے بعد اللہ تعالى كوئى نئى بات پيدا كر دے }الطلاق ( 1 ).

اس بنا پر اگر خاوند كى جانب سے ديے گئے اخراجات كم تھے تو آپ كو دوران عدت كيے گئے اخراجات دينے كا مطالبہ كرنے كا حق ہے، اور آپ اس كے ليے شرعى عدالت ميں بھى مقدمہ كر سكتى ہيں، اور اگر شرعى عدالت نہ ہو اور نہ ہى اہل خير كى جانب سے خاوند كو نصيحت وغيرہ كر كے اخراجات حاصل ہو سكتے ہوں تو اس حالت ميں عام دوسرى غير شرعى عدالتوں ميں بھى جانا جائز ہوگا، ليكن وضعى قوانين سے فيصلہ كروانے كى كراہت كے ساتھ ہوگا، اور اس كے ساتھ ساتھ اگر عدالت حق سے زيادہ فيصلہ كرے تو حق سے زيادہ رقم لينى جائز نہيں ہوگى.

سوم:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور مطلقہ عورتوں كو بہتر طريقہ سے فائدہ دينا متقيوں پر لازم ہے }البقرۃ ( 241 ).

يہ فائدہ دخول سے قبل دى گئى طلاق والى عورت كے لازم ہے جبكہ عقد نكاح كے وقت مہر مقرر نہ كيا گيا ہو، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اگر تم عورتوں كو ہاتھ لگائے اور بغير مہر مقرر كيے طلاق دے دو تو بھى تم پر كوئى گناہ نہيں، ہاں انہيں كچھ نہ كچھ فائدہ دو، خوشحال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنى طاقت كے مطابق دستور كے مطابق اچھا فائدہ دے بھلائى كرنے والوں پر يہ لازم ہے }البقرۃ ( 136 ).

اور اگر طلاق دخول كے بعد ہو تو جمہور فقھاء كے ہاں فائدہ دينا واجب اور لازم نہيں بلكہ مستحب ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ ہر مطلقہ عورت كو فائدہ دينا واجب ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے: ہر مطلقہ عورت كو فائدہ دينا واجب ہے، حتى كہ دخول كے بعد والى مطلقہ عورت كو بھى، اور انہوں نے اس فرمان بارى تعالى سے استدلال كيا ہے:

{ اور مطلقہ عورتوں كو فائدہ دينا متقيوں پر واجب ہے }البقرۃ ( 241 ).

يہاں مطلقات عام ہے، اور اس استحقاق كى تاكيد كو اللہ سبحانہ و تعالى نے حقا كہہ كر كى ہے، اور اس كى تاكيد دوسرے مؤكد كے ساتھ بھى ہوئى ہے وہ " على المتقين " ہے تو يہ اس پر دلالت كرتا ہے كہ يہ فائدہ دينا اللہ كا تقوى اختيار كرنے ميں شامل ہوتا ہے، اور اللہ كا تقوى اختيار كرنا واجب ہے، شيخ الاسلام رحمہ اللہ نے جو كہا ہے وہ اس وقت بہت قوى ہے جب مدت زيادہ طويل ہو جائے، ليكن اگر فى الحال طلاق دے تو ہم كہيں گے:

اول:

اس تھوڑى سى مدت ميں عورت كا مرد سے تعلق بہت قليل سا ہے.

دوم:

اب تك مہر نے اس كا ہاتھ نہيں چھوڑا كيونكہ ابھى كچھ مدت قبل ہى آپ نے اسے مہر ديا ہے.

ليكن اگر مدت ايك برس يا دو برس طويل ہو گئى يا پھر كئى ماہ تو اسے اس قول كى طرف متجہ كيا جائيگا جو شيخ الاسلام رحمہ اللہ نے كہا ہے تو يہ قول ان دو قولوں يعنى مطلق مستحب اور مطلق وجوب كے درميان ہو گا اور يہى راجح ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 308 ).

اور يہ فائدہ خاوند كى حالت كے مطابق ہو گا، يعنى مالدار اور غنى كا اس كے حساب سے، اور فقير و تنگ دست كا اس كے حساب سے، اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور انہيں فائدہ دو خوشحال پر اس كى طاقت كے مطابق اور تنگ دست پر اس كى استطاعت كے مطابق }البقرۃ ( 236 ).

تو اس ميں كوئى چيز محدد اور متعين نہيں ہے.

اس ليے آدمى كو چاہيے كہ جب وہ اپنى بيوى كو طلاق دے تو وہ اسے كچھ نہ كچھ مال دے كر اس كى خاطر مدارت كرے.

رہا يہ مسئلہ كہ خاوند كے رشتہ داروں كے خلاف مقدمہ كرنا تو ميرے خيال مں يہ چيز آپ كو كچھ فائدہ نہيں ديگى، بلكہ آپ اپنا معاملہ اللہ كے سپرد كر ديں، اللہ سبحانہ و تعالى ہر ايك اس كے عمل كے مطابق بدلہ دےگا.

اور پھر آپ نہيں جانتى كہ آپ كے ليے كس چيز ميں بہتر و خير ہے، ہو سكتا ہے اللہ تعالى آپ كو بھلائى و خير عطا فرمائے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو ناپسند كرتے ہو حالانكہ وہ تمہارے ليے بہتر اور اچھى ہو، اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو پسند كرتے ہو حالانكہ وہ تمہارے ليے برى ہو، اللہ تعالى ہى جانتا ہے اور تم نہيں جانتے }البقرۃ ( 216 ).

اس ليے آپ اللہ سبحانہ و تعالى كے سامنے عاجزى وانكسارى كريں اور اسى سے التجا كريں، اور اس پر بھروسہ كر كے معاملہ اسى كے سپرد كر ديں، اور اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى كثرت سے كريں، كيونكہ اللہ تعالى اپنے نيك و صالح بندوں كو ويسے نہيں چھوڑتا.

اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو شفايابى نصيب فرمائے اور عافيت سے نوازے، اور آپ كے ليے بہتر فيصلہ فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments