Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
126292

بيوى كا خاوند سے اتفاق ہوا كہ اگر وہ بيوى كے علم كے بغير كہيں سفر پر گيا تو يہ ان كے مابين آخرى دن ہوگا اور خاوند بتائے بغير سفر پر چلا گيا

بيوى نے اپنے خاوند پر شرط ركھى كہ وہ اس كے علم كے بغير ملك سے باہر نہيں جائيگا، اور اگر وہ بيوى كو بتائے بغير ملك سے باہر گيا تو يہ ان دونوں كے مابين آخرى دن ہوگا، پھر خاوند بيوى كو بتائے بغير سفر پر چلا گيا، بيوى كو يہ علم نہيں كہ آيا خاوند شرط بھول گيا تھا يا كہ اس نے اس ميں سستى كى، تو كيا اس عمل سے ان دونوں كا تعلق ختم ہو جائيگا اور عورت خاوند سے بائن ہو جائيگى، يعنى بيوى كو طلاق ہو گئى اور خاوند اس سے رجوع نہيں كر سكتا، يا كہ اسے ايك طلاق ہوگى ؟
يا كہ جب عورت اپنى شرط پر اصرار كرے تو اسے طلاق ہو گى اور جب وہ شرط سے رجوع كر لے تو طلاق نہيں ہوگى اور كيا اس ميں كوئى كفارہ ہے ؟

الحمد للہ:

طلاق تو خاوند كى طرف سے ہو سكتى ہے، چنانچہ اگر عورت اپنے خاوند كو طلاق دے يا اسے اپنے اوپر حرام كرے تو اس سے طلاق واقع نہيں ہوگى.

ليكن جب خاوند نے بيوى كى جانب سے پيش كردہ شرط قبول كر لى اور كہا: اگر اس نے بتائے بغير سفر كيا تو وہ ان كا آخرى دن ہوگا، تو يہ الفاظ طلاق كے كنايہ ميں شمار ہوتے ہيں اور شرط پر معلق ہے، اور اس ميں خاوند كى نيت كا اعتبار كيا جائيگا.

اس ليے اگر خاوند كى نيت اس سے طلاق دينے كى تھى تو طلاق واقع ہو جائيگى، اور اگر اس نے طلاق كا ارادہ نہيں كيا تو پھر طلاق واقع نہيں ہوگى، اور اگر اس نے اپنے آپ كو بيوى كے علم كے بغير سفر پر جانے سے روكنے كے ليے يہ الفاظ كہے اور طلاق كا ارادہ نہ تھا اور پھر اس نے سفر كر ليا تو اسے قسم كا كفارہ ادا كرنا ہوگا.

اور اگر خاوند كہے: ميں نے شرط سے طلاق كا ارادہ كيا تھا ليكن وہ شرط بھول كر سفر پر چلا گيا تو بھى طلاق واقع نہيں ہوگى راجح قول يہى ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 105998 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور طلاق ہونے كے حكم كى حالت ميں بھى صرف ايك طلاق ہى ہوگى، اگر يہ پہلى يا دوسرى طلاق تھى تو خاوند كو بيوى سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے كہ وہ عدت كے اندر اندر بيوى سے رجوع كر لے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments