Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
126314

بيوى كو كہا: اگر تو نے فلان عورت كو ٹيلى فون كيا تو تجھے طلاق تو بيوى نے ٹيلى فون كر ليا كيا يہ ممانعت مستقل ہو گى ؟

ميرے خاوند نے مجھے كہا كہ ميں اپنى ايك سہيلى سے رابطہ اور تعلق ختم كر دوں، اور مجھے كہنے لگا: اگر تو نے اس سہيلى سے كسى بھى طرح اور كسى بھى وسيلہ سے رابطہ كيا تو مجھے طلاق، ليكن ميں نے اس سہيلى سے رابطہ كر ليا اور چاہيے تو يہ تھا كہ مجھے طلاق ہوتى، ليكن ميرے خاوند نے مجھ سے رجوع كر ليا، اور اب وہ اپنے قول سے بھى رجوع كرنا چاہتا ہے جو اس نے مجھے كہا تھا اور مجھے اپنى سہيلى سے رابطہ كرنے اور بات چيت كى بھى اجازت دے دى ہے، تو وہ اپنى اس شرط سے كيسے رجوع كرے، كيا اس كے ليے زبانى طور پر اپنى بات كو واپس لينا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

اگر خاوند اپنى بيوى كو كہے جب تو نے فلاں عوت سے رابطہ كيا تو تجھے طلاق، اور وہ اس سے طلاق كا ارادہ ركھتا ہو تو يہ شرط پر معلق طلاق ہوگى، اگر بيوى نے اس عورت سے رابطہ كر ليا تو بيوى كو ايك رجعى طلاق ہو جائيگى، اور خاوند كو عدت ميں بيوى سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے.

اور كيا خاوند كو حق حاصل ہے كہ وہ اس شرط كو ساقط كر كے بيوى كو آئند اپنى سہيلى سے رابطہ كرنے كى اجازت دے دے ؟

ا سكا جواب يہ ہے كہ:

جى ہاں اسے حق حاصل ہے، كيونكہ اس كى طلاق تو پہلى بار ہى رابطہ كرنے پر ہوگئى تھى، اور فقھاء اس ميں فرق كرتے ہيں كہ: خاوند نےكہا: اگر تو نے رابطہ كيا تو تجھے طلاق .

يا پھر كہا: جب بھى تو نے رابطہ كيا تو تجھے طلاق.

اس ميں فرق كرتے ہيں، پہلا صيغہ اور پہلى بات تكرار كا فائدہ نہيں ديتى، ليكن دوسرى ميں تكرار ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قولہ: ( وہ كلمہ تكرار كے ليے ہے " يعنى اكيلا كلمہ جب بھى تكرار كے ليے ہے باقى سب حروف تكرار كو چھوڑ كر يہ لفظ كلما كے ساتھ ہى خاص ہے، اس ليے جب خاوند اپنى بيوى كو كہے كہ جب بھى تم كھڑى ہوئى تو تمہيں طلاق، چنانچہ بيوى كھڑى ہوئى تو اسے ايك طلاق، اور پھر جب دوبارہ كھڑى ہوئى تو اسے طلاق اور پھر تيسرى بار كھڑى ہوئى تو طلاق، برخلاف " ان " كے يہ تكرار كا فائدہ نہيں ديتا، اس ليے اگر خاوند نے بيوى كو كہا كہ اگر تم كھڑى ہوئى " ان قمت فانت طالق " تو تمہيں طلاق، پھر وہ كھڑى ہوئى تو اسے طلاق ہو جائيگى، اور جب وہ دوبارہ كھڑى ہو تو اسے طلاق نہيں ہوگى.

تكرار كے اعتبار سے شرط كے الفاظ دو قسموں ميں تقسيم ہوتے ہيں: ايك تو جو تكرار كا فائدہ دے، اور دوسرى جو تكرار كا فائدہ نہ دے، تكرار كا فائدہ دينے والا صرف " كلما " ہے، اور تكرار كا معنى يہ ہے كہ جب بھى شرط ميں تكرار ہو تو طلاق واقع ہو جائيگى "

اس كے بعد شيخ رحمہ اللہ كا يہ كہنا ہے:

" قولہ ( اگر شرط ميں تكرار ہو تو كلما كے علاوہ كسى اور ميں قسم نہيں ٹوٹےگى " يعنى اگر بيوى بار بار كھڑى ہوئى تو طلاق ميں تكرار نہيں ہوگا مگر جب كلما كے الفاظ يعنى جب بھى كے الفاظ بولے تو تكرار ہوگا كيونكہ يہ الفاظ تكرار كے ليے ہيں " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 133 ).

اس بنا پر اگر آپ كے خاوند نے آپ كو كہا: اگر تم فلاں سہيلى سے رابطہ كرو گى تو تمہيں طلاق، اور آپ نے اس سے رابطہ كر ليا تو طلاق واقع ہو گئى، اور ممنوع زائل ہوگيا، اور اس كے نتيجہ ميں آپ كے دوبارہ رابطہ كرنے پر دوسرى طلاق واقع نہيں ہوگى، اور اس كے ليے خاوند كى طرف سے يہ كہنے كى كوئى ضرورت نہيں كہ اس نے اس كلام كو ختم كيا، كيونكہ اس كا قول " اگر تم نے رابطہ كيا " يہ تكرار كا فائدہ نہيں دے رہا جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments