Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
126675

آپ كو دودھ پلانے والى ہر خاوند سے سب بچے آپ كے رضاعى بھائى ہيں

ميں نے ايك عورت كا اس كے بچوں كے ساتھ دودھ پيا، پھر اس كا خاوند فوت ہو گيا عدت كے بعد اس نے اور شادى كر لى اور اس سے بھى اولاد پيدا ہوئى تو كيا اس دوسرے خاوند كى اولاد بھى ميرے رضاعى بہن بھائى ہونگے ؟

الحمد للہ:

اگر واقعا ايسا ہى ہے جيسا سوال ميں بيان ہوا ہے اور آپ نے دو برس كى عمر كے اندر اندر پانچ رضاعت يا اس سے زيادہ دودھ پيا تو اس عورت كى سارى اولاد آپ كے بہن بھائى ہونگے چاہے وہ پہلے خاوند سے ہوں جس كى موجودگى ميں آپ نے دودھ پيا يا پھر اس كے فوت ہونے كے دوسرے خاوند سے.

ليكن اس ميں فرق صرف اتنا ہو گا كہ پہلے خاوند كى اولاد آپ كى ماں اور باپ دونوں جانب سے رضاعى بہن بھائى ہو گى، اور دوسرے خاوند كى اولاد ماں كى طرف سے رضاعى بہن بھائى ہونگے.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم پر حرام كر دى گئى ہيں تمہارى مائيں اور تمہارى بيٹياں }.

پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے اس كے بعد فرمايا:

{ اور تمہارى وہ مائيں جنہوں نے تمہيں دودھ پلايا ہے ( يعنى رضاعى مائيں ) اور تمہارى رضاعى بہنيں }النساء ( 23 ).

اور اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" رضاعت سے بھى وہى كچھ حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے "

متفق عليہ. انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 301 ).
Create Comments