Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
128502

خاوند نماز ادا نہيں كرتا اور دخول سے پہلے ہى معاملہ اچھا نہيں ركھتا كيا طلاق طلب كر لے

ميں شادى شدہ ہوں ميرے خاوند نے ابھى دخول نہيں كيا ليكن وہ ميرے ساتھ برا سلوك كرتا اور مجھے سخت الفاظ بولتا اور ميرى جرح كرتا رہتا ہے، اور تھوڑے سے اختلاف كى بنا پر بھى مجھے طلاق دينے كى دھمكى ديتا ہے، ليكن ميں اس كے قريب ہو جاتى ہوں اور جو مانگتا ہے اس كى طلب پورى كرتى ہوں.
مجھ انكشاف ہوا كہ وہ بہت جھوٹ بولتا ہے، اور نماز ادا نہيں كرتا، اور سگرٹ نوشى كرتا ہے، شادى سے قبل اس نے ظاہر كيا كہ وہ بہت اچھا ہے اور حرام اشياء كے قريب بھى نہيں جاتا مجھے ہميشہ گالياں ديتا ہے، اور ميرا احترام بھى نہيں كرتا، اور ميرى تنخواہ بھى طلب كرنے لگا ہے، اور كہتا ہے كہ شادى كے مصاريف ميں تكلف كيا جائے، اور مجھ پر بالكل كوئى خرچہ نہيں كرتا.
ميرے گھر والوں نے اس كے ساتھ بات چيت كرنے كى كوشش كى ليكن اس نے انكار كر ديا اور كہا كہ ميرے پرسنل اور شخصى معاملہ ميں كوئى دخل نہ دے، وہ اپنى خواہش پورى كرنے اور اپنے آپ كو راضى كرنے كے ليے مجھ سے ايك جسم كى طرح استمتاع كرتا ہے، اور كہتا ہے ميں تم سے محبت كرتا ہوں!! ميں كيا كروں ؟ كيا اس سے طلاق كا مطالبہ كروں ؟ مجھے خوف ہے كہ آج ميں صبر كروں تو كل اولاد ہوگى اور ميرے ساتھ ان پر بھى ظلم ہوگا ؟

الحمد للہ:

اگر تو آپ كا خاوند جيسا كہ آپ نے بيان كيا ہے كہ نماز ادا نہيں كرتا اور جھوٹ بولتا ہے، اور آپ سے برا سلوك كرتا ہے اور آپ كو طلاق كى دھمكى ديتا ہے تو اس كے ساتھ باقى رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں، اس كى دو وجہيں ہيں:

پہلى وجہ:

اس كا نماز ادا نہ كرنا بہت بڑا مسئلہ ہے، كيونكہ سستى اور كاہلى كے ساتھ تارك نماز اور اس سے پيچھے رہنے والے كے كفر كے بارہ ميں اہل علم كے ہاں اختلاف ہے، اور راجح يہى ہے كہ وہ كافر ہے؛ كيونكہ صحيح نصوص اس كے كفر پر دلالت كرتى ہيں.

اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 5208 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور كافر شخص كے ساتھ مسلمان عورت كا نكاح كرنا صحيح نہيں ہے.

اور اس كے كافر نہ ہونے كے قول پر بھى وہ فاسق اور گنہگار شخص ہے، امام مالك اور امام شافعى رحمہما اللہ كے مسلك كے مطابق اس كا قتل كرنا واجب ہے، اور ابو حنيفہ رحمہ اللہ كے مسلك كے مطابق اسے قيد كرنا واجب ہے، اس ليے سب كے مذہب ميں بےنماز رہتے ہوئے آزاد رہنے كا كوئى حق حاصل نہيں.

دوسرى وجہ:

اس كى جانب سے دخول اور رخصتى سے قبل ہى يہ برے سلوك كا صادر ہونا كوئى قابل اطمنان امر نہيں، اور نہ ہى يہ كسى خوشى و خير كى خبر ديتا ہے؛ كيونكہ اس عرصہ ميں تو خاوند اچھے سے اچھا بن كر ظاہر كرتا ہے، اور اگر وہ اس وقت اور اب آپ كے ساتھ سلوك برا كرتا ہے ہم نہيں جانتے كہ اس كے بعد اس كا كيا حال ہوگا.

اور اگر وہ آپ كى تنخواہ كا بھى مطالبہ كرنے لگا حالانكہ يہ اس كا حق نہيں؛ اور اگر آپ اس كے گھر ميں ہوں تو شادى كے بعد اس كا كيا حال ہو گا !!

اس ليے ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ آپ ابھى دخول سے قبل ہى اسے چھوڑ ديں، قبل اس كے كہ اس سے آپ كى اولاد پيدا ہو.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ آپ كے معاملہ ميں آسانى پيدا كرے، اور آپ كو اپنا فضل عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments