128856: نصرانى ہوتے ہوئے روزہ ركھنا


ہمارى بستى ميں ايك عيسائى شخص ہے جو رمضان المبارك كے روزے ركھتا ہے، ليكن نماز ادا نہيں كرتا، تو كيا اس كا روزہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

" يہ عيسائى جو روزے ركھتا ہے اور نماز ادا نہيں كرتا اس كے معاملہ كو ديكھا جائيگا اور اسے اسلام كى دعوت دى جائيگى، كيونكہ دين اسلام ميں داخل ہوئے بغير اسے روزہ كوئى فائدہ نہيں ديگا؛ كيونكہ كفر سب اعمال كو باطل كر ركھ ديتا ہے جيسا كہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

{ اور جو كوئى ايمان كے ساتھ كفر كرے تو اس كے اعمال ضائع ہو گئے، اور وہ آخرت ميں خسارہ پانے والوں ميں سے ہوگا }المآئدۃ ( 5 ).

اور اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

{ اور اگر وہ شرك كريں تو جو وہ عمل كرتے رہے سب ضائع ہو جائيں گے }الانعام ( 88 ).

اس ليے سب سے قبل تو وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تصديق كرے اور اسلام ميں داخل ہو جائے، اگر وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر ايمان لاتا اور اسلام ميں داخل ہو جاتا ہے تو پھر اس سے نماز روزے كى پابندى اور زكاۃ اور حج كى ادائيگى كا مطالبہ كيا جائيگا.

ليكن عيسائى رہتے ہوئے نماز روزے كى پابندى كرنا صحيح نہيں، كيونكہ اس كے كفر پر ہونے كى وجہ سے نماز بھى باطل ہے اور روزہ بھى باطل ہوگا، اور اسے كوئى فائدہ نہيں ديگا.

كيونكہ ان عبادات كى شرط ميں اسلام قبول كرنا داخل ہے اس ليے اگر وہ غير مسلم ہونے كى حالت ميں نماز روزہ كى پابندى كرتا ہے تو غير مسلم كى عبادت باطل ہے.

لہذا جو مسلمان بھائى اس كے قريب رہتے ہيں اور اس سے تعلق ركھتے ہيں وہ اسے نصيحت كريں، اور اسلام كى راہنمائى كريں، اور دعوت ديں، اور يہ بات اسے سمجھائيں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى تصديق كرنا اور ان پر ايمان لانا ضرورى ہے اور نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم حقيقتا لوگوں كى جانب اللہ كے سچے رسول ہيں، اور جنوں كى طرف بھى رسول بنا كر بھيجے گئے ہيں.

اور اسے چاہيے كہ وہ دين اسلام كا التزام كرتے ہوئے خالصتا اللہ كى عبادت كرے، اور عيسائى جس عقيدہ اور منھج پر ہيں اس كو چھوڑ دے، كہ مسيح عليہ السلام اللہ كے بيٹے ہيں، يا پھر وہ تينوں ميں تيسرے ہيں.

اس عيسائى كو يہ قول ترك كرنا ہوگا، اور اس كے بعد وہ اللہ وحدہ لا شريك پر ايمان لائے، اور يہ عقيدہ ركھے كہ عيسى عليہ السلام مريم كے بيٹے اور اللہ كے بندے اور رسول ہيں، اللہ كا كوئى بيٹا نہيں؛ اللہ سبحانہ و تعالى اس سے مبرا ہے، اور بہت بڑا ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كے ليے نہ تو كوئى بيوى ہے اور نہ ہى اس كى كوئى اولاد ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

آپ كہہ ديجئے كہ اللہ تعالى ايك ہے، اللہ تعالى بے نياز ہے نہ اس سے كوئى پيدا ہوا، اور نہ ہى وہ كسى سے پيدا ہوا، اور نہ كوئى اس كا ہمسر ہے.

چنانچہ جب وہ عيسائيوں كا عقيدہ چھوڑ دے، اور يہ قبيح قول كہنے سے باز آ جائے، اور نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى تصديق كرتا ہوا ان پر ايمان لے آئے، اور جو آپ لے كر آئے ہيں اس كى تصديق كرے، اور دين اسلام كا التزام كرنے لگے: تو يہ شخص مسلمان ہوگا، اور اسے بھى وہى حق حاصل ہونگے جو مسلمانوں كے ہيں.

اور اسے نماز و روزہ كى پابندى كرنا ہوگى، اور اگر مال ہو تو اسے زكاۃ ادا كرنا ہوگى، اور استطاعت ہونے پر بيت اللہ كا حج كرنا ہوگا، سارے مسلمان بھى اسى طرح ہيں " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ.

ديكھيں: فتاوى نور على الدرب ( 3 / 1217 ).
Create Comments