12949: کیا حدیث ( عند کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ ) صحیح ہے


کیا حدیث ( ہر مرتبہ قرآن کریم ختم کرنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے ) صحیح ہے ؟

الحمد للہ
یہ حدیث موضوع ہے ، ابونعیم نے اسے حلیۃ میں روایت کیا اور اس کی سند میں یحی بن ھاشم السمسار ایک ایسا راوی ہے جس کے بارہ میں امام نسائ رحمہ اللہ تعالی نے متروک الحدیث کہا ہے ۔

اور یحیی بن معین رحمہ اللہ تعالی نے اسے کذاب کہا ہے ۔

ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ حدیثيں چوری اور وضع ( گھڑتا ) تھا ۔

قرآن مجید ختم کرنے کے بعد دعا کی دو حالتیں ہیں :

پہلی حالت :

نماز میں دعا کرنی ، توختم قرآن کے بعد نماز میں دعا کرنی بدعت ہے ، اس لیے کہ عبادت کی بنیاد شریعت اور اتباع ہے اور طریقہ بھی شرعیت سے ہی لینا ہوگا ، لھذا کسی کے لیے بھی یہ جائز نہيں کہ وہ عبادت اپنے طریقے پرکرے اسے وہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو اللہ تعالی نے مشروع اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون کیا ہو ۔

اس کے علاوہ جوطریقہ بھی اختیار کیا جاۓ وہ بدعت شمار ہوگااس لے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جس نے بھی ہمارے دین میں کوئ نئ چیزبنائ جو دین میں نہیں تھی تووہ مردود ہے ) اسے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت سے بخاری اور مسلم نے بیان کیا ہے ۔

شاطبی نے اپنی کتاب " الاعتصام " اور شیخ الاسلام نے " الاقتضاء " میں بدعت وغیرہ کی تفریق میں ایک عظیم اور نافع قا‏عدہ تحریرکیا ہے وہ یہ ہے کہ :

جس کا سبب اور اس کا تقاضہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دورمیں پایا گيا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام نے پھر بھی اسے نہ کیا باوجود اس کے کہ اسے کرنے میں کوئ مانع بھی نہیں تو وہ بدعت ہے ، مثلا عیدین اور نماز استسقاء کے لیے اذان دینا ، وغیرہ ۔

اورنماز میں ختم قرآن کی دعا کرنا بھی اسی میں سے ہے ، صحابہ کرام رمضان کریم میں لمبے عرصہ تک قیام کرتے اور طول قیام کی بنا پر لاٹھیوں پر سہارے لیتے تھے تو انہوں نے اس حالت میں کئ بار قرآن مجید ختم کیا اوران میں کسی ایک سے بھی ختم قرآن مجید کی دعا منقول نہیں ۔

ابن الحاج نے کتات " المدخل " میں امام مالک رحمہ اللہ تعالی سے ذکر کیا ہے کہ امام مالک کا قو ل ہے : میں نے ختم قرآن مجید کے وقت دعا کا نہ تو سنا اور نہ ہی اس پر لوگوں کا عمل ہی ہے ۔

دوسری حالت :

نماز کے علاوہ قرآن مجید ختم کرنے کے بعد دعا کرنی :

یہ انس بن مالک رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے ۔

اور اسی طرح اہل علم کی ایک جماعت سے بھی ماثور ہے لیکن میرے علم کے مطابق اس میں مرفوعا کوئ ثبوت نہیں ملتا ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ سلیمان بن ناصر العلوان
Create Comments