Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
130828

رمضان المبارك ميں دن كے وقت بيوى كو كھانا بنانے كا حكم دينا

ميرى بيٹى شادى شدہ ہے، بيٹى اور ہمارا داماد رمضان المبارك ميں ہمارے پاس ہميں ملنے آئے، ايك ہفتہ كے روزے ركھنے كے بعد ميرا داماد اپنے دوست و احباب كے ساتھ سير و تفريح كے ليے گيا تو وہاں انہيں شيطان نے آ گھيرا اور انہوں نے روزہ توڑ ديا، اور دوسرے دن ميرے داماد نے اپنى بيوى يعنى ميرى بيٹى سے كھانا بنانے كا كہا تو ميرى بيٹى نے كھانا تيار كرنے سے انكار كر ديا، تو اس نے قسم اٹھائى كہ اگر كھانا نہ بنايا تو اسے طلاق، اور بيٹى نے بھى قسم اٹھائى كہ وہ كھانا تيار نہيں كريگى.
اس اختلاف سے نكلنے كے ليے ميرى بيٹى نے اپنى بھابھى سے كہا كہ وہ كھانا تيار كر دے، تو اس نے بھى انكار كر ديا، ليكن ميں نے اپنى بہو كو كھانا تيار كرنے پر مجبور كيا تو اس نے كھانا تيار كر ديا حالانكہ وہ كھانا تيار نہيں كرنا چاہتى تھى.
ہمارے داماد اكيلے نے ہى كھانا كھايا ہم نے اس كے ساتھ نہيں كھايا، تو كيا ہم بھى اس كے ساتھ گنہگار ہيں، اور اس گناہ كا كفارہ كيا ہے تا كہ ہم ادا كريں ؟

الحمد للہ:

" بلاشك و شبہ رمضان المبارك ميں بغير كسى شرعى عذر كے روزہ نہ ركھنا اور روزہ توڑنا كبيرہ گناہ ہے، اور عظيم برائى شمار ہوتى ہے، ليكن اگر كسى عذر يعنى سفر جو كہ اسى يا ستر كلو ميٹر تقريبا ہوتا ہے اور پيدل يا سوارى پر ايك رات كا سفر كہلاتا ہے اسے سفر كہا جائيگا تو اس ميں روزہ نہ ركھنے ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن جو گھر ميں ہو يا پھر شہر ايك كنارے سے دوسرے كنارے كے اندر تو يہ سفر نہيں كہلاتا، اور اس ميں روزہ نہ ركھنا كبيرہ گناہ ہوگا.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو، اور برائى و عدوات ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو }المآئدۃ ( 2 ).

چنانچہ بغير عذر روزہ نہ ركھنے والے شخص كى جو كوئى بھى رمضان المبارك ميں مدد كرتا ہے چاہے وہ كھانا پيش كر كے ہو يا پھر چائے اور پانى وغيرہ يا كوئى اور كھانے كى چيز تو وہ بھى روزہ نہ ركھنے والے كے گناہ ميں شريك ہوگا، ليكن اس كا اپنا روزہ صحيح ہے معاونت كرنے كى بنا پر روزہ باطل نہيں ہو گا ليكن گناہ ضرور ہے، اسے اس سے توبہ و استغفار كرنى چاہيے.

سائل بھائى آپ نے جو اپنى بيٹى يا بہو كو كھانا تيار كرنے پر مجبور كيا ہے اس پر اللہ سے توبہ و استغفار كريں، كيونكہ آپ نے اسے كھانا تيار كرنے كا كہہ كر غلطى كى ہے، ليكن اس عورت نے اس كى اطاعت نہ كر كے اچھا كام كيا؛ كيونكہ جب اللہ خالق كى معصيت ہو رہى ہو تو پھر مخلوق ميں سے كسى كى بھى اطاعت نہيں ہو سكتى.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اطاعت و فرمانبردارى تو نيكى و معروف كے كاموں ميں ہوتى ہے "

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:

اللہ كى معصيت و نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت نہيں ہو سكتى "

يہ شخص مسافر شمار نہيں ہوتا كيونكہ وہ ان كے پاس ايك ہفتہ رہا ہے، اور ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس شخص كا چار يوم سے زيادہ ٹھرنے كا عزم تھا، اہل علم كے صحيح قول كے مطابق اسے روزہ ركھنا لازم تھا، جمہور اہل علم كا يہى قول ہے كہ جب سسرال ميں چار يوم سے زيادہ ٹھرنے كا عزم ہو تو ان كے ساتھ روزہ ركھا جائيگا.

ليكن چار يا اس سے كم ايام ميں روزہ لازم نہيں جب وہ مسافر ہوں اور اگر روزہ ركھ ليں تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن اگر وہ چار يوم سے زائد ٹھرنے كا ارادہ ركھتے ہوں تو اس حالت ميں روزہ ركھنا چاہيے تا كہ علماء كے اختلاف سے نكلا جا سكے، اور اكثر كے قول پر عمل ہو جائے.

كيونكہ اصل روزہ ہى ہے، اور روزہ نہ ركھنے كى اجازت ميں شك ہے " انتہى .

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ
ديكھيں: فتاوى نور على الدرب ( 3 / 1266 ).
Create Comments