130920: زکاۃ اور ٹیکس میں فرق اور ٹیکس نافذ کرنے کیلئے شرائط


زکاۃ اور ٹیکس میں کیا فرق ہے؟ اور کیا ٹیکس نافذ کرنا جائز ہے؟ اور کیا ٹیکسوں کی ادائیگی بھی فرض ہے؟

الحمد للہ:

زکاۃ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اللہ تعالی نے زکاۃ مالدار مسلمانوں کے مال پر فرض کی ہے، تاکہ معاشرتی کفالت کی ایک شکل بن سکے، اور مفادِ عامہ  مثلاً : جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ کیلئے تعاون کی فضا قائم رہے۔

اللہ تعالی نے متعدد آیات میں  زکاۃ کو نماز کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے، جس سے  زکاۃ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے،  زکاۃ کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماع ِ امت سے  ثابت ہے۔

جبکہ حکومت کی طرف سے لوگوں پر نافذ کئے جانے والے ٹیکس کا لوگوں کے مالوں پر اللہ کی طرف سے فرض کی جانے والی زکاۃ کےساتھ  کوئی تعلق نہیں ہے۔

ٹیکس کی اجمالی تعریف یہ ہے کہ ٹیکس  ان مالی واجبات کو کہتے ہیں جو حکومت کی طرف سے لوگوں پر لگائے جاتے ہیں،اور ان سے حاصل ہونے والی رقم مواصلات، صحت و تعلیم وغیرہ پر مشتمل مفادِ عامہ کے منصوبوں پر لگائی جاتی ہے۔

چنانچہ ٹیکس لوگوں کی طرف سے بنایا گیا ایک نظام ہے، جو کہ اللہ کی طرف سے نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ زکاۃ شریعتِ الہی ہے، اور اسلام میں ایک عظیم عبادت ہے۔

کچھ لوگ حکومت کی طرف سے عائد شدہ ٹیکس ادا کر دیتے ہیں لیکن زکاۃ ادا  نہیں کرتے کہ ہم نے ٹیکس ادا کر دیا ہے، اور یہ جائز نہیں ہے، چنانچہ ٹیکس اور چیز ہے، اور زکاۃ الگ چیز ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کا کہنا ہے کہ:
"مالدار کا اپنے مال میں سے ادا کئے جانے والے ٹیکس کو خود پر واجب زکوۃ میں سے شمار کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ زکوۃ کا شرعی حساب سے نکالنا اور اس کو اللہ تعالی کے بیان کردہ مصارف میں خرچ کرنا واجب ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ۔۔۔ الخ) بیشک صدقات تو فقراء اور مساکین کیلئے ہیں۔۔۔ الخ" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (9/285)

لوگوں پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے بنیادی بات یہی ہے کہ یہ حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور ٹیکس نافذ کرنے والے شخص کو یہ دھمکی دی جا چکی ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور سنت نبوی میں ایسی احادیث بھی موجود ہیں جو یہ بتلاتی ہیں کہ ٹیکس لگانا   زنا سے بڑا گناہ ہے، اور اس بات کا تفصیلی بیان سوال نمبر: (39461) کے جواب میں پہلے گزر چکا ہے۔

البتہ  کچھ استثنائی صورتوں میں حکومت کیلئے  لوگوں پر ٹیکس عائد کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن اسکی چند شرائط ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:

1- عدل و انصاف  پر مبنی ہو، اس طور پر کہ  لوگوں  پر ٹیکس برابری کی بنیاد  لگائے جائیں، یہ نہ ہو کہ کچھ لوگوں پر لگا دیے جائیں اور کچھ پر نہ لگائے جائیں، بلکہ مالدار لوگوں پر انکی مالی حیثیت کے مطابق لگائے جائیں، اس لئے صرف غریبوں پر ٹیکس لگنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی ٹیکس لیتے وقت  امیر و غریب طبقے  میں برابری کی جائے۔

2- بیت المال بالکل خالی ہو چکا ہو، [اسی کو آج کل ملکی خزانہ کہتے ہیں]، اور اگر ملکی مالی حالت اچھی ہو، تو پھر لوگوں پر ٹیکس لگانا جائز نہیں ہے، اس وقت ٹیکس حرام کے دائرے میں شامل ہو جائے گا، اور اسے شریعت نے کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔

3- ہنگامی   صورت حال میں کسی ضرورت کی بنا پر ٹیکس لاگو کیا جائے، چنانچہ ہر وقت ٹیکس لاگو رکھنا جائز نہیں ہے۔

"الموسوعة الفقهية" (8/247) میں ہے کہ بیت المال کے ذرائع آمدن یہ ہیں:
"ایسے ٹیکس جو رعایا پر انکی مصلحت  کیلئے فرض کیے گئے ہوں، خواہ جہاد کیلئے ہوں یا کسی اور مقصد کیلئے، لیکن ایسا ٹیکس لوگوں پر اسی وقت لگایا جائے گا جب بیت المال سے ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو، اور ضروری کام رہ جاتے ہوں، بصورتِ دیگر یہ آمدنی  غیر شرعی ہوگی " انتہی

مسلمانوں کے بیت المال کے جائز  اور شرعی ذرائع آمدن  بہت زیادہ ہیں، ان تمام کا ذکر سوال نمبر: (138115) کے جواب میں پہلے گزر چکا ہے۔
چنانچہ اگر مسلمان ان ذرائع کو استعمال میں  لائیں تو اللہ تعالی انہیں غنی کر دیگا، اور مسلمانوں کو کسی قسم کے ٹیکس لگانے کی ضرورت بہت ہی شاذ و نادر پیش آئے گی۔

4- ان ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو امت مسلمہ کے حقیقی مصارف میں صرف کیا جائے ، چنانچہ ان ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن  کو اللہ کی نافرمانی، یا غیر سود مند جگہ پر خرچ نہ کیا جائے ، مثلاً : اس رقم کو اداکاروں، فنکاروں، اور کھلاڑیوں میں تقسیم نہ کیا جائے۔

شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"حکومتوں کی جانب سے لاگو کیے جانے والے مختلف قسم کے ٹیکس مثلاً: سیلز ٹیکس، پرافٹ ٹیکس، فیکٹری ٹیکس، لیبر ٹیکس وغیرہ یہ سب  اجتہادی ہیں، چنانچہ اگر حکومت  یہ ٹیکس فرض زکاۃ کے بدلے میں جمع کرے تو یہ ادا کرنا لازمی ہے، اور اگر زکاۃ سے ہٹ کر ٹیکس جمع کرتی ہے، اور بیت المال [ملکی خزانہ] مالی تعاون کا محتاج بھی ہے، تا کہ ضروری مفادِ عامہ کی اشیاء مہیا کی جائیں مثلاً: مدارس، مساجد، پُلوں، اور حکومتی کارندوں کے مصارف کیلئے اکٹھا کرتی ہو تو ٹیکس ادا کرنا جائز ہے، اسے چھپانا جائز نہیں ہے۔

اور اگر  حکومت شہریوں  سے زکاۃ  سے زائد ٹیکس لے کر اسے خرچ کرنے میں  ہیرا پھیری سے کام لیتی ہے ،جیسے  لہو و لعب اور حرام کاموں میں صرف کر دے، اور انہیں زکاۃ کے مستحقین کی طرح شرعی مصارف میں خرچ نہ کرے تو اپنی جائیداد چھپانا اور منافع  مخفی رکھنا  جائز ہے، صرف اس لئے کہ حکومت کو حرام کاموں کیلئے پیسہ نہ دیا جائے، اور انکی حرام کاموں میں معاونت نہ ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: (وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون مت کرو" انتہی

شیخ البانی رحمہ اللہ مصالح مرسلہ اور بدعت میں فرق بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"مصالح مرسلہ  ہر اعتبار سے خود ساختہ "بدعت حسنہ" سے الگ تھلگ ہے، چنانچہ مصالح مرسلہ سے  مراد یہ ہے کہ ایسے مفادِ عامہ کو حاصل کیا جائے جو وقت اور جگہ کی ضرورت ہو، اور اسلام بھی اس ضرورت کی اجازت دے، ایسی صورت حال میں امام شاطبی ٹیکس لاگو کرنے  کے بارے بھر پور زور دیتے ہیں، لیکن امام شاطبی کے ہاں ذکر شدہ ٹیکس آج کل لاگو کیے جانے والے ٹیکسوں سے کہیں مختلف ہیں، جو کہ تمام نہ سہی لیکن بہت سے اسلامی ممالک میں لاگو ہیں، یہ سب حکومتوں کی طرف سے کافروں کی  ڈگر پر چلتے ہوئے  کیا گیا ہے، حالانکہ یہ کفار کتاب و سنت میں موجود  منہج الہی سے بالکل محروم ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ کتاب و سنت سے عاری لوگوں  کیلئے خصوصی منہج تشکیل دیا جاتا، اور انکے مسائل حل کرنے کیلئے قوانین وضع کیے جاتے، اور مسلمانوں کو تو اللہ تعالی نے ان پر اپنی کتاب نازل کر کے مالا مال کیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں ہر قسم کی رہنمائی  دی ہے، اس لئے مسلمانوں کیلئے شرعی قوانین کی جگہ لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین  کو لانے کی اجازت بالکل نہیں ہے، کہیں یہ نہ ہو کہ اللہ تعالی یہ فرمان ان کے بارے میں صادق آ جائے: (أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ)  کیا تم اچھی چیز کے بدلے میں گھٹیا چیز لینا چاہتے ہو؟[البقرة:61]، اس لئے مستقل طور پر  مسلمانوں سے ٹیکس وصولی کرنا جائز نہیں ہے، یہ تاثر نہ ہو کہ ٹیکس بھی آسمان سے فرض ہوئے ہیں، اور ہمیشہ لاگوں رہیں گے ! ٹیکس کسی اسلامی ملک کے صرف مخصوص حالات میں فرض کیے جاتے ہیں، مثلاً: -اور مجھے امید ہے کہ امام شاطبی نے بھی یہی مثال ذکر کی ہے- اگر اسلامی علاقے پر حملہ کر دیا جائے، اور ملکی خزانے میں  اتنا مال نہ ہو  جس سے دفاعی فوج کو تیار کیا جا سکے، اوراس  سے  مسلمانوں کا دشمن سے دفاع ممکن ہو، تو ایسے حالات میں حکومت  مالدار مخصوص لوگوں پر  مخصوص مقدار میں  اتنا ٹیکس عائد کرسکتی ہے کہ جو ان کیلئے ادا کرنا ممکن ہو، تاہم یہ ٹیکس پھر بھی دائمی نہیں ہوتا-جیسے کہ پہلے ہم نے بیان کیا ہے- چنانچہ جیسے ہی ٹیکس لگانے کا سبب زائل ہو تو ٹیکس بھی ختم کر دیا جائے، اور فقہائے کرام کے مطابق حکم  علت کے ساتھ ساتھ  چلتا ہے، جہاں علت پائی جائے گی وہاں حکم ہوگا، اور جہاں علت نہیں ہوگی وہاں حکم بھی نہیں ہوگا، چنانچہ جس علت یا سبب کی وجہ سے ٹیکس لاگو کیا گیا تھا اب ختم ہو چکا ہے، چنانچہ ٹیکس بھی زائل ہو جائے گا۔

مختصراً یہ ہے کہ : اسلام میں ٹیکس کا کوئی تصور نہیں ہے، چنانچہ اسلامی حکومت اپنے لئے  مخصوص حالات میں معین مدت کیلئے ٹیکس لاگو کر سکتی ہے، اور  جیسے ہی مخصوص حالات زائل ہوں تو ٹیکس کالعدم قراردئیے جانے ان پر لازم ہے" انتہی


http://audio.islamweb.net/audio/index.php?page=FullContent&audioid=109346-44k

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہر چیز جو بغیر حق کے  لی جائے وہ ٹیکس میں شامل ہے، اور وہ حرام ہے، کسی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے کسی بھائی کا مال بغیر حق کے وصول کرے، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (جب تم اپنے بھائی کو [باغ پر لگا ہوا ]پھل فروخت کرو، اور اسے کوئی بیماری لگ جائے ، تو آپ کیلئے اس سے کچھ لینا حلال نہیں ہے، تم اپنے بھائی کا مال بغیر حق کے کیسے کھا سکتے ہو؟!)لیکن پھر بھی ایک مسلمان پر سمع و اطاعت لازم ہے ، یعنی کہ حکمرانوں کی بات مانے، اور انکی اطاعت کرے، چنانچہ اگر انکی طرف سے مال کا مطالبہ کیا جائے تو انہیں دے دے، پھر اگر اس کا کوئی حق حکومت کے ذمے رہ گیا  تو کل قیامت کے دن اسے مل جائے گا، اور اگر اس کا حق نہیں تھا یعنی حکومت نے لیتے ہوئے عدل و انصاف سے کام لیا تو پھر اس دئیے ہوئے مال پر اس کا کوئی حق نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ ہم حکمران کی بات مانیں، اور انکی اطاعت کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (اپنے حکمران کی بات سنو، اور اطاعت کرو، چاہے وہ تمہاری کمر پر کوڑے برسائے، اور تمہارا مال لے لے)، اور ایسے امور کو حکمرانوں میں قدغن لگانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، کہ اپنی محفلوں میں حکمرانوں پر زبان درازی کرے، وغیرہ وغیرہ، ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں، اور جو دنیا میں ہمیں یہاں نہ مل سکا ، آخرت میں ضرور ملے گا " انتہی

"لقاء الباب المفتوح" (65/12)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments