131681: میاں بیوی دونوں اکٹھے عمرہ کریں یا پیسہ جمع کرکے صرف خاوند حج کر لے؟


آئندہ سال حج کیلئے رقم جمع کرنا افضل ہے یا ابھی عمرہ کر لینا بہتر ہے؟ میرے اور خاوندکے پاس اتنی رقم ہے کہ اکٹھے جا کر عمرہ کر لیں، لیکن اگر اگلے سال تک ہم عمرہ نہ کریں تو ہو سکتا ہے کہ آئندہ سال تک اتنی رقم جمع ہوجائے کہ میرا خاوند اکیلا حج کر لے، لیکن یہ یقینی بات نہیں ایک اندازہ ہے تو ہمارے لئے کیا بہتر ہے؟

الحمد للہ:

آپکے پاس عمرہ کرنے کی استطاعت ہے اس لئے ہم آپکو نصیحت کریں گے کہ آپ جلد از جلد عمرہ کر لیں، اسکی متعدد وجوہات ہیں:

1- مؤمن کیلئے ضروری ہے کہ نیک اعمال کرنے کیلئے پہل کرے، فرمانِ باری تعالی ہے:

(وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ) آل عمران/133

ترجمہ: اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

(سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ) الحديد/21.

ترجمہ: تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔

سلف سے یہ بات منقول ہے کہ: جس کیلئے خیر کا ایک دروازہ کھلے وہ اسے غنیمت جانے ، اسے نہیں پتہ کہ کب یہ دروازہ بند کردیا جائے۔

2- آپکو آئندہ سال حج کے بارے میں یقین نہیں ہے کہ کیا مالی طور پر میرا خاوند مستحکم ہوگا یا نہیں، بلکہ فرض کر لیں کہ مالی طور پر مستحکم ہوگا، تو کچھ اور مصروفیات بھی آسکتی ہیں جو انہیں حج کرنے سے روک دیں، تو پھر عمرہ جس مقصد سے مؤخر کیا تھا وہ بھی فوت ہوجائے گا اور عمرہ کرنے کا موقع بھی جاتا رہے گا۔

3- اب آپ دونوں عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہو، اور یہ عمرہ آپ دونوں پر واجب ہے، لیکن حج ابھی آپ دونوں پر واجب نہیں ہے، اس لئے کہ آپ حج کی ابھی طاقت نہیں رکھتے، اور یہ کوئی حکمت عملی نہیں ہےکہ انسان واجب کو غیر واجب کی وجہ سے لیٹ کردے، جو ابھی تک آپ پر لازمی نہیں ہے۔

اس لئے آپ دونوں کو طاقت کے ہوتے ہوئے عمرہ کرنے کیلئے جانا چاہئےاور اسی کا آپکو حکم ہے، لیکن حج کرنے کا ابھی آپکو حکم نہیں ہے، اس لئے کہ ابھی آپ اسکی استطاعت نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالی کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے آپ عمرہ کریں ، فرمانِ باری تعالی ہے:

(فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ) التغابن/16

ترجمہ: اپنی طاقت کے مطابق اللہ سے ڈرو۔

ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اتنا اس پر عمل کرو) بخاری (7288) و مسلم (1337)

4- آپ نے یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ بچت کی ہوئی رقم کس کی ہے؟ کیا وہ خاوند کی ہے یا آپ دونوں نے مل کر جمع کی ہے؟

اگر یہ رقم آپ دونوں کی ہے تو علماء رحمہم اللہ نے ذکر کیا ہے کہ واجبات میں ایثار کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے آپ کیلئے جائز نہیں ہے کہ آپ اپنی رقم اپنے خاوند کو دے دیں اور آپ خود عمرہ نہ کریں۔

شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

"نیکیوں میں کسی پر ایثار کرنا دو قسم کا ہے:

پہلی قسم: واجبات میں ایثار کرنا، تو اس قسم میں ایثار کرنا جائز نہیں ہے، مثال کے طور پر، ایک آدمی اسکے پاس اتنا پانی ہے جس سے وہ خود وضو کر سکتا ہے، اور اس نے وضو ابھی کرنا ہے، جبکہ اسکے ساتھی نے بھی کرنا ہے تو ایسی صورتِ حال میں ساتھی کو وضو کیلئے پانی دینا اور خود وضو نہ کرنا جائز نہیں ؛ اس لئے کہ اس طرح سے وہ ایک واجب کا تارک شمار ہوگا، اور وہ ہے پانی سے وضو کرنا، چنانچہ واجبات میں ایثار کرنا حرام ہے۔۔۔" انتہی

"لقاءات الباب المفتوح" اللقاء/35 ص 22

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ دونوں کو اپنے پسندیدہ اعمال کرنے کی توفیق دے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments