132477: خاوند كو راضى كرنے كے ليے بيوى كا جھوٹ بولنا


ميں نے اپنے خاوند سے شادى اس ليے كى كہ وہ اللہ كى عبادت ميں اخلاص ركھتا اور اسلام سے محبت كرتا تھا، ميں اس وقت جانتى تھى كہ وہ اچھى شكل كا مالك نہيں، يہ ميرے ليے كوئى پريشانى كا باعث نہيں، ميرا خاوند اكثر دريافت كرتا رہتا ہے كہ اس كى شكل و صورت اچھى ہے تو ميں اسے مثبت جواب ديتى رہى ہوں تا كہ اس كے احساس مجروح نہ ہوں.
ليكن ميں جھوٹ بولتى اور اسے بہت برا محسوس كرتى ہوں، اور خوفزدہ ہوں كہ كہيں ميں نے اثبات ميں جواب دے كر كہيں گناہ تو نہيں كيا، كيونكہ ميں اسے مكمل قبيح الشكل سمجھتى ہوں.
ليكن ميں اس كے سامنے اس كى اچھى صفات ہى بيان كرتى ہوں تا كہ گھر قائم رہے اور گھر كا شيرازہ نہ بكھرنے پائے، تو كيا اس كے احساس اور شعور كو محفوظ ركھنے كے ليے جھوٹ بولنے پر گنہگار تو نہيں ٹھرونگى ؟
كيونكہ حقيقت بيان كرنے پر اسے شديد قسم كى تكليف و اذيت ہو گى؛ اس ليے كہ وہ اپنے مظہر ميں اكثر بااعتماد نہيں ہے ؟

الحمد للہ:

ہمارى عزيز بہن: اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو ايك اچھى اور سعادت مند ازدواجى زندگى گزارنے كى توفيق نصيب فرمائے، اس غرض اور مقصد كى بنا پر آپ كا اس شخص سے شادى كرنا اللہ سبحانہ و تعالى كى جانب سے ايك عظيم نعمت اور توفيق ہے، اس ليے آپ اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا كريں كہ وہ يہ نعمت آپ پر ہميشہ قائم ركھے اور اپنے فضل و كرم سے اس ميں اور زيادتى فرمائے.

رہا مسئلہ خاوند كو راضى كرنے كے ليے جھوٹ بولنے كا اور اس كے احساس اور شعور كو محفوظ ركھنے كا كہيں اسے ٹھيس نہ پہنچے تو اس ميں كوئى حرج نہيں ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص لوگوں ميں صلح كرانے كے ليے اچھى بات كہتا يا خير كى چغلى كرتا ہے وہ جھوٹا نہيں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2692 ).

اور صحيح مسلم ميں ام كلثوم بنت عقبہ بن ابى معيط رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے كہ انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" جو شخص لوگوں كے مابين صلح كرانے كے ليے خير كى بات كہے اور اچھى بات نقل كرے وہ جھوٹا نہيں ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2065 ).

ابن شھاب رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" لوگ جسے جھوٹ كہتے ہيں ميں نے انہيں تين جگہوں پر بولنے كى رخصت دى گئى ہے: جنگ ميں، اور لوگوں كے مابين صلح كرانے كے ليے، اور آدمى كا اپنى بيوى اور بيوى كا اپنے خاوند سے بات چيت كرنے ميں "

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ اس حديث كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" اسى طرح خاوند كا اپنى بيوى اور بيوى كا اپنے خاوند سے بات چيت كرنا جس ميں محبت و الفت اور مودت پيدا ہوتى ہو مصلحت ميں سے، مثلا وہ بيوى سے كہے:

تم ميرے ليے بہت قيمتى ہو، اور تم سب عورتوں سے زيادہ ميرے ليے محبوب ہو، چاہے وہ اس ميں جھوٹا بھى ہو ليكن محبت و مودت اور دائمى الفت و پيار پيدا كرنے كے ليے اور پھر مصلحت بھى اس كى متقاضى ہے " انتہى

ديكھيں: شرح رياض الصالحين ( 1 / 1790 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments