Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
13261

غير محرم رشتہ دار كے سامنے چہرہ ننگا ركھنا

دو شادى شدہ بھائى ايك ہى فليٹ ميں رہائش پذير ہيں، تو كيا ان كى بيوياں ايك دوسرے كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كر سكتى ہيں، يہ علم ميں رہے كہ وہ دونوں بھائى صحيح ہيں ؟

الحمد للہ:

اگر پورى فيملى اكٹھى رہتى ہو تو پھر عورت كو غير محرم مرد سے پردہ كرنا واجب ہے، لہذا بھابھى اپنے ديور سے پردہ كريگى، اور اس كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنے خاوند كے بھائى كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كرے، كيونكہ خاوند كا بھائى تو ديكھنے اور حرام ہونے كے اعتبار سے ايك بازار والے مرد كى طرح ہى ہے، اور اگر خاوند گھر سے باہر ہو تو ديور يعنى خاوند كے بھائى كے ليے جائز نہيں كہ وہ بھابھى سے خلوت كرے اور اس كے ساتھ بيٹھے يہ ايك ايسى مشكل ہے جس سے اكثر لوگ دوچار ہيں مثلا:

دو بھائى ايك ہى گھر ميں رہتے ہيں، اور ايك شادى شدہ ہے تو اس شادى شدہ شخص كے ليے جائز نہيں كہ جب وہ ملازمت يا تعليم كے ليے گھر سے باہر جائے تو اپنى بيوى كو اپنے بھائى كے پاس چھوڑے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" كوئى بھى مرد كسى عورت سے خلوت نہ كرے "

اور ايك دوسرى حديث ميں فرمايا:

" تم عورتوں كے پاس جانے سے اجتناب كرو "

تو صحابہ كرام نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: ذرا ديور ( الحمو خاوند كے رشتہ دار مرد كو كہتے ہيں ) كے متعل تو بتائيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ديور تو موت ہے "

ہميشہ اس حالت ميں زنا كے جرم كے وقوع كا سوال ہوتا ہے، كہ مرد گھر سے باہر چلا جاتا ہے، اور بھابھى اور ديور گھر ميں اكيلے ہوتے ہيں، ت وانہيں شيطان ورغلاتا ہے جس كى بنا پر وہ زنا كر بيٹھتے ہيں ( اللہ اس سے محفوظ ركھے ) وہ اپنے بھائى كى بيوى سے زنا كرتا ہے، جو كہ پڑوسى كى بيوى سے زنا كے جرم سے بھى بڑا جرم ہے.

بلكہ يہ معاملہ تو اس سے بھى بڑى ذلت والا ہے، بہر حال ميں ايك بات كرنا چاہتا ہوں جس سے ميں اللہ كے ہاں اپنے آپ كو برى كرنا چاہتا ہوں، وہ يہ كہ: كسى بھى انسان كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنى بيوى كو اپنے بھائى كے پاس گھر ميں اكيلا چھوڑ كر جائے، چاہے ظروف اور معاملات كيسے بھى ہوں، حتى كہ اگر بھائى سب لوگوں سے بااعتماد اور سچا اور نيك و صالح بھى كيوں نہ ہو، كيونكہ شيطان تو انسان ميں خون كى طرح سرايت كر جاتا ہے، اور جنسى شہوت كى كوئى حد نہيں، خاص كر نوجوانى كى حالت ميں.

ليكن سوال يہ ہے كہ اگر دو بھائى ايك ہى گھر ميں ہوں اورايك شادى شدہ ہو تو كيا كيا جائے ؟

كيا ا سكا معنى يہ ہے كہ جب وہ گھر سے باہر ملازمت پر جائے تو بيوى بھى اس كے ساتھ جائے ؟

ا سكا جواب يہ ہے كہ:

نہيں، گھر كو دو حصوں ميں تقسيم كرنا ممكن ہے، آدھا اكيلے بھائى كو دے ديا جائے، اور آدھا خود ركھ لے، جس ميں دروازہ لگا كر اسے جاتے وقت تالا لگا دے، اور چابى خاوند كے پاس ہو، اور عورت ايك مستقل حصہ ميں رہے، اور ديور عليحدہ مستقل حصہ ميں.

ليكن ہو سكتا ہے بھائى اپنے بھائى سے جھگڑا كرتے ہوئے كہے كہ آپ ايسا كيوں كر رہے ہيں، كيا آپ كو مجھ پر بھروسہ نہيں ؟

ا سكا جواب يہ ہے كہ: اسے يہ كہنا چاہيے كہ ميں نے ايسا آپ كى مصلحت كے ليے كيا ہے، كيونكہ شيطان ابن آدم ميں خون كى طرح سرايت كر جاتا ہے، ہو سكتا ہے شيطان آپ كو ورغلائے اور آپ كے نفس پر زبردستى كرے اور آپ كى شہوت آپ كى عقل پر غالب آ جائے، تو اس طرح آپ ايك ممنوعہ اور حرام كام كا ارتكاب كر بيٹھيں، تو ميں يہ چيز آپ كى حفاظت كے ليے كر رہا ہوں، اور اس ميں آپ ہى كى مصلحت ہے، اسى طرح ميرى بھى اسى ميں مصلحت ہے، اور اگر وہ اس وجہ سے ناراض ہوتا ہے تو ناراض ہوتا پھرے، آپ كو اس كى پرواہ نہيں كرنى چاہيے.

ميں يہ مسئلہ آپ تك پہنچا كر اپنے آپ كو اللہ كے سامنے آپ كى مسئوليت سے برى كرنا چاہتا ہوں، اور آپ كا حساب اللہ كے ذمہ.

رہا چہرہ ننگا كرنے كا مسئلہ تو چہرہ ننگا كرنا حرام ہے، اور كسى بھى عورت كے ليے جائز نہيں كہ وہ ديور يعنى خاوند كے بھائى كے سامنے اپنا چہرہ ننگا ركھے، كيونكہ وہ اس كے ليے اجنبى اور غير محرم ہے، وہ بالكل اسى طرح ہے جس طرح كوئى اور بازار والا آدمى ہو.

الشيخ محمد بن صالح العثيمين ديكھيں: الفتاوى الجامعۃ للمراۃ المسلۃ ( 3 / 806 ).
Create Comments