Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
13268

كيا بيويوں كو ہديہ دينے اور وطئ ميں بھى عدل كرنا واجب ہے ؟

كيا ہديہ دينے اور وطئ كرنے ميں بھى مرد كو اپني بيويوں كے درميان عدل كرنا ہو گا ؟

الحمد للہ:

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اگر مرد بيويوں ميں نان و نفقہ اور لباس ميں ہر ايك كے واجب كو پورا كرتا ہے تو بيويوں كے درميان برابرى كرنا ضرورى نہيں.

امام احمد رحمہ اللہ نے ايك شخص جس كى دو بيوياں تھيں كے معلق فرمايا:

" اس كو حق ہے كہ وہ نفقہ اور شہوات اور لباس ميں كسى ايك بيوى كو افضليت دے، ليكن يہ اس وقت ہے جب دوسرى بيوى كفائت ميں ہو، يعنى اس كو كافى نفقہ اور لباس دے، اور اس بيوى كے ليے دوسرى بيوى سے اعلى لباس خريدنا جائز ہے اور وہ دوسرى بيوى كے پاس كافى لباس ہو.

يہ اس ليے كہ ہر چيز ميں برابرى كرنا مشقت ہے، اور اگر يہ واجب ہو تو اس كے ليے وہ اسے مشكل سے پورا كريگا، چنانچہ اس كا وجوب ساقط ہو جائيگا، جس طرح كہ وطئ ميں برابرى اور عدل كرنا ساقط ہو جاتا ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 7 / 233 ).
Create Comments