Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
133140

نظر كمزور ہونے كى وجہ سے لينز لگانے كا انكشاف اور كمزور نظر والا بچہ پيدا ہونے كى صورت ميں كيا كيا جائے ؟

ميرى نظر كمزور ہے اور ميں نظر كى عينك استعمال كرتا ہوں، ميں جو صفات اپنى شريك حيات ميں ديكھنا چاہتا تھا ان ميں يہ بھى شامل تھا كہ اس كى نظر صحيح ہو تا كہ ہمارى نظر ميں توازن پيدا ہو سكے، ليكن عقد نكاح اور رخصتى كے بعد مجھ پر انكشاف ہوا كہ ميرى بيوى ايك آنكھ كى نظر كمزور ہونے اور ٹيڑھى ہونے كى بنا پر لينز لگاتى ہے، ميں نے سوچا كہ يہ تھوڑا سا نقص ہے جو ليزر كے ساتھ دور ہو جائيگا، ليكن كچھ مہينوں كے بعد اسے حمل ہو گيا اور ميں نے ايك ليڈى ڈاكٹر كو چيك كرايا تو اس نے انكشاف كيا كہ اس نے جس آنكھ ميں لينز لگا ركھا ہے وہ بہت ہى زيادہ كمزور ہے اسے صحيح كرنے كے ليے ليزر كے ساتھ علاج كرنا مستحيل ہے.
ہمارے ہاں ايك بيٹا پيدا ہوا جب وہ دو برس كى عمر كا ہوا تو ميں نے اسى ڈاكٹر كو چيك كرايا تو اس نے بچے كى نظر بھى شديد كمزور پائى اور اب وہ نظر كى عينك استعمال كرتا ہے ميں ايك نئے حمل سے خوفزدہ ہوں كہ كہيں اسے بھى يہى نظر كى كمزورى نہ ہو.
ميں آپ كو بتاتا ہوں كہ ميں اس شادى سے خوش نہيں محسوس كرتا ہوں كہ ميرى بيوى نے مجھے دھوكہ ديا ہے كہ اس نے مجھے اس عيب كا بتايا نہيں، اور ہر وقت غمزدہ رہتا ہوں اور اكثر اس كو طلاق دينے كا سوچتا رہتا ہوں، ليكن بيوى اور اپنے بچے كے انجام كا خطرہ ہے كہ كہيں وہ ضائع نہ ہو جائے.
آپ كو بتانا چاہتا ہوں كہ ميں نے يہ شادى استخارہ كر كے كى تھى ليكن جو ہونا تھا وہ ہو چكا، اور اللہ نے جو چاہا كيا جو مقدر تھا وہ ہوا، آپ مجھے كوئى مشورہ ديں كيونكہ ميں بہت زيادہ پريشان ہوں، اللہ تعالى آپ كى حفاظت فرمائے.

الحمد للہ:

اول:

ہم آپ كو مشورہ ديتے ہيں كہ آپ اپنى بيوى كو اپنے پاس ركھيں اور اسے طلاق دينے كا مت سوچيں، اور اس كے متعلق اللہ سے ڈريں، اور اس كے ساتھ اچھا معاملہ اور حسن سلوك كريں اور آپ دونوں اپنى اولاد كى تربيت كا خيال كريں تا كہ اسے اللہ تعالى كى اطاعت اور احسان كى پرورش كريں كيونكہ بچوں كى اچھى تربيت ايك ايسا بہت اور اچھا عمل ہے جو وہ اپنے رب كے سامنے پيش كرتا ہے.

اور انسان كو علم نہيں كہ اس كے ليے اور اس كے خاندان اور گھر والوں كے كہاں خير و بھلائى ہے، ہو سكتا ہے اس كے ليے يہ بہت بڑى خير ہو جو اللہ نے اسے دى ہے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس ميں ان كى آزمائش اور ابتلاء ہو جسے وہ پسند كرتا ہے اور اس ميں جو دل چاہتا ہے كہ اس كا مالك بنے اس ميں فتنہ ہو اور اس ميں ايسى بھى ہے جسے ہم روك نہيں سكتے.

ہر شخص يہى چاہتا ہے كہ اس كى اولاد خوبصورت ہو اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ ايسا كرنا شريعت كے مخالف نہيں ہے، كيونكہ ايك مباح كى تمنا كر رہا ہے، ليكن جب اللہ تعالى نے اس كے مقدر ميں كوئى دوسرى چيز كر دى تو پھر مسلمان كے ليے اللہ تعالى كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے علاوہ كچھ اور نہيں ہے، اسے علم نہيں كہ اللہ تعالى نے اس كو اور اس كى اولاد خوبصورتى نہ دے كر فتنہ و غرور اور اپنے آپ كو اچھا سمجھنے ميں سے كيا چيز كو دور كيا ہے.

اسى ليے ہميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے كہ اللہ تعالى ہمارى خلقت كى بنا پر ہميں اجروثواب اور سزا نہيں ديگا، بلكہ سزا و اجروثواب تو عمل اور اخلاق كى بنا پر ہو گا.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلاشبہ اللہ تعالى تمہارى شكلوں اور تمہارے مال كو نہيں ديكھتا، بلكہ اللہ تعالى تو تمہارے دلوں كو اور تمہارے اعمال كو ديكھتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2564 ).

ذرا غور كريں درج ذيل حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں خوبصورتى كے آثار بتائيں ہيں كہ كس طرح خوبصورت شخص كو اپنے آپ پر گھمنڈ ہوا اور وہ اچھا و خوبصورت سمجھنے لگا اور پھر اسى وجہ سے اس كى دنياوى و اخروى ہلاكت ہو گئى.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ايك شخص اپنے جبہ ميں چل رہا تھا اور اسے اپنا آپ اچھا لگنے لگا اس نے اپنے بال كنگھى كيے ہوئے تھے كہ اللہ تعالى نے اسے زمين ميں دھنسا ديا اور وہ قيامت تك زمين ميں ہى دھنستا رہے گا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5452 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2088 ).

اللہ تعالى كى كتاب قرآن مجيد كے بارہ ميں اوپر ہم ايك بار عام اور ايك بار خاص كر بيوى كے متعلق كلام كر چكے ہيں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ممكن ہے كہ تم كسى چيز كو برا سمجھو اور دراصل وہى تمہارے ليے بھلى ہو اور يہ بھى ممكن ہے كہ تم كسى چيز كو اچھى سمجھو حالانكہ وہ تمہارے ليے برى ہو حقيقى علم اللہ ہى كو ہے، تم محض بے خبر ہو ﴾البقرۃ ( 216 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ تم ان كے ساتھ اچھے طريقے سے بودوباش ركھو، گو تم انہيں ناپسند كرو، ليكن بہت ممكن ہے كہ تم كسى چيز كو برا جانو اور اللہ تعالى اس ميں بہت ہى بھلائى كر دے ﴾النساء ( 19 ).

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

يعنى: ہو سكتا ہے كہ تمہارا ان كو ناپسند كرنے كے باوجود انہيں اپنے ساتھ ركھنے پر صبر كرنا تمہارے ليے دنيا و آخرت كے ليے بہتر ہے، جيسا كہ اس آيت كے بارہ ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" وہ اس پر نرمى كرے اور اس سے اس كا بيٹا پيدا ہو جائے اور اس بچے ميں اس كے ليے خير كثير ہو گى.

صحيح حديث ميں ہے:

" كوئى بھى مومن مرد كسى مومن عورت سے بغض نہ ركھے اگر وہ اس كى كوئى خصلت سے ناراض ہو گا تو كسى دوسرى خصلت سے راضى ہو جائيگا "

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 2 / 243 ).

دوم:

ہم آپ كو يہ بتانا چاہتے ہيں كہ آپ نے اپنى بيوى ميں جو عيب پايا ہے اگر وہ ان ميں عيوب ميں سے ہوتا جس كى بنا پر آپ كے ليے نكاح فسخ كرنا اور آپ نے اسے جو كچھ ديا ہے وہ واپس لينا جائز ہوتا تو پھر آپ كے ليے اب اس حق كا مطالبہ كرنا جائز نہ تھا؛ كيونكہ آپ نے اس پر راضى ہو كر اس حق كو ساقط كر ديا تھا، اور آپ نے اس پر صبر كيا تھا اور اسے برداشت كر ليا تھا.

تو پھر كيا ہو گا جب آپ كو يہ معلوم ہو جائے كہ يہ ان عيوب ميں شامل ہے جس سے نكاح فسخ ہو جاتا ہے اور آپ نے جو كچھ ديا ہے اسے واپس لينا جائز ہے يہ مسئلہ علماء ميں اختلافى مسئلہ شمار ہوتا ہے.

اور علماء كے اقوال ميں صحيح قول يہ ہے كہ يہ حكم ان عيوب كا ہو گا جو نفرت كا باعث ہيں، اس كے علاوہ كسى عيب ميں نہيں، اور علماء كا اتفاق ہے كہ جب اس كا علم ہو جائے اور وہ اس پر راضى ہو جائے تو يہ حق ساقط ہو جاتا ہے.

اس سلسلہ ميں اہل علم كى كلام كا مطالعہ كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 103411 ) كے جواب ديكھيں.

ہم آپ كو يہى مشورہ ديتے ہيں، اور اللہ تعالى نے آپ كے ليے طلاق دينا مشروع كيا ہے، اور اگر آپ اسے اچھے اور احسن طريقہ سے ركھنا چاہتے ہيں اور اسے اس كے حقوق دينا چاہتے ہيں اور اپنى زندگى سے غم و ندامت دور كرنا چاہتے ہيں جيسا كہ ہم آپ سے يہى چاہتے ہيں اور ان شاء اللہ آپ سے اميد بھى كرتے ہيں تو آپ اس پر عمل كريں جو ہم نے آپ كو نصيحت كى ہے، اور آپ زيادہ بچے پيدا كرنے كى كوشش كريں اور معاملہ اللہ كے سپرد كر ديں، اور ڈاكٹر حضرات كى باتوں پر دھيان مت ديں كيونكہ اولاد كى صفات اس غيب ميں سے ہيں جس كا علم صرف اللہ عزوجل كو ہے كسى اور كو نہيں.

اور اگر آپ كا بيوى كو اپنى عصمت ميں باقى ركھنا نئے سرے سے ندامت كا باعث بنے اور غمزدہ كرے اور آپ اسے اس كے حقوق نہ دے سكيں تو پھر آپ كے ليے اسے اپنے پاس ركھنا حلال نہيں بلكہ اسے طلاق دينا واجب ہو جائيگا، اور آپ كے ليے اس كو اس كے سارے مالى حقوق ادا كرنا ضرورى ہونگے.

شيخ عبد الرحمن السعدى رحمہ اللہ درج ذيل فرمان بارى تعالى كى تفسير ميں كہتے ہيں:

﴿ تم ان كے ساتھ اچھے طريقے سے بودوباش ركھو، گو تم انہيں ناپسند كرو، ليكن بہت ممكن ہے كہ تم كسى چيز كو برا جانو اور اللہ تعالى اس ميں بہت ہى بھلائى كر دے ﴾النساء ( 19 ).

يعنى: تمہارے ـ اے خاوندوں ـ ليے ضرورى ہے كہ تم اپنى بيويوں كو ناپسند كرنے كے باوجود اپنے پاس ركھو؛ كيونكہ اس ميں بہت بڑى خير ہے، اس ميں اللہ كے حكم كى پيروى اور اس پر عمل كرنا، اور اللہ كى وصيت كو قبول كرنا جس ميں دنيا و آخرت كى سعادت پائى جاتى ہے.

اور اس ميں يہ بھى شامل ہے: بيوى سے محبت نہ ہونے كے باوجود اپنے آپ كو اس كے ساتھ ركھنے پر مجبور كرنے ميں نفس كے ساتھ جہاد اور اخلاق حميدہ اختيار كرنا ہے، اور ہو سكتا ہے وہ كراہت و ناپسنديدگى ختم ہو جائے، اور بيوى سے محبت كرنے لگو، جيسا كہ عام طور پر واقع بھى ہے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس سے نيك و صالح بيٹا پيدا ہو جائے جو دنيا و آخرت ميں والدين كو فائدہ دے.

اور يہ سب كچھ اسى صورت ميں ہو سكتا ہے جب خاوند بيوى كے ليے اپنے پاس ركھنا ممكن ہو اور اس ميں كوئى مانع نہ ہو، اور اگر عليحدگى اور جدائى كے بغير كوئى چارہ نہ ہو اور بيوى كو اپنے پاس ركھنا ممكن نہ ہو تو پھر اسے اپنى عصمت ميں ركھنا لازم نہيں.

ديكھيں: تفسير السعدى ( 172 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments