13378: جن


جن کون ہیں ؟ اور اللہ تعالی نے انہیں کیسے پیدا کیا ہے ؟

الحمدللہ

جن اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے مخلوق ہے اور اسے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل آگ سے پیدا کیا گیا ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

" اور یقینا ہم نے انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا فرمایا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا " – الحجر / 26 - 27

اور جیسے ہی آدم علیہ السلام کی اولاد ہے اسی طرح ابلیس کی بھی اولاد ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

" مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست بنا رہے ہو ؟ وہ تم سب کا دشمن ہے ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدلہ ہے " – الکہف 50

اور اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لۓ پیدا کیا ہے تو جو اس کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا ۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

" اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لۓ پیدا کیا ہے وہ صرف میری عبادت کریں نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ ہی میری چاہت ہے کہ وہ مجھے کھلائیں بیشک اللہ تعالی تو خود ہی سب کو روزی دینے والا اور بہت زیادہ طاقت والا ہے " – الذاریات 56 - 58

اور سب کے سب جن بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ان میں سے مومن بھی ہیں اور کافر بھی اور اطاعت کرنے والے اور گنہگار بھی جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے متعلق بیان کرتے ہوۓ فرمایا ہے :

" اور یہ کہ بے شک بعض تو ہم میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ہم مختلف طریقوں سے بنے ہوۓ ہیں " – الجن 14- 15-

اور آخرت میں جنوں کو بھی انسانوں کی طرح جزا وسزا ہو گی – جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : " اور ہاں بیشک ہم میں سے بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں پس جو مسلمان ہو گۓ انہوں نے راہ راست کو تلاش کیا اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گۓ " الجن 14- 15

اور قیامت کے دن جن اور انسان سب رب کے سامنے حساب کے لۓ کھڑے ہوں گے تو ان میں سے نہ تو کوئی تاخیر کرے گا اور نہ ہی فرار ہو سکے گا ۔

فرمان ربانی ہے :

" اے جنوں اور انسانوں کی جماعت اگر تم میں آسمان وزمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو غلبہ اور طاقت کے بغیر تم نہیں بھاگ سکتے " – الرحمان 33

اور جنوں اور انسانوں میں سے جس نے بھی حساب سے بھاگنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ نہیں سکے گا – جیسا کہ اللہ عزوجل نے ان کے متعلق فرمایا ہے :

" تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے " الرحمان /35

اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے تو اللہ عزوجل نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی طرف پھیر دیا تو انہوں نے قرآن سنا اور اس سے متاثر ہوۓ جیسا کہ :

ارشاد باری تعالی ہے :

اور یاد کرو جب کہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں پس جب ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) پہنچ گۓ تو ( ایک دوسرے سے ) کہنے لگے خاموش ہو جا‎‎ؤ پھر جب پڑھ کر ختم ہو گیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لۓ واپس لوٹ گۓ " الاحقاف 29-

اور جب انہوں نے قرآن سنا تو بعض جن ایمان لے آۓ – جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن ) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے اور ہم ہر گز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے " – الجن / 1- 2

اور آدم علیہ السلام اور ابلیس دونوں سے گناہ سرزد ہوا لیکن آدم علیہ السلام اپنے کۓ پر نادم ہوۓ اور توبہ کی تو ان کی توبہ قبول ہوئی – البقرہ / 37

لیکن ابلیس نے تکبر کیا تو وہ کافروں میں سے ہو گیا ۔

" اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو سواۓ ابلیس کے سب نے سجدہ کیا اور اس نے انکار کیا " البقرہ

تو جس نے انسانوں اور جنوں میں سے تکبر کرتے ہوۓ اللہ تعالی کی نافرمانی کی تو وہ شیطان کا پیروکار ہے اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ اس کے ساتھ ہی جہنم میں ہو گا جیسا کہ اللہ تعالی نے ابلیس کو کہا ارشاد باری تعالی ہے :

فرمایا سچ تو یہ ہے کہ میں تم سے سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھروں گا " – ص

اور جنوں اور انسانوں میں سے جو اللہ تعالی کے اولیاء ہیں وہ تقوی اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں اور جنوں اور انسانوں میں سے جو اولیاء الشیطان ہیں وہ گناہ اور دشمنی میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔

فرمان باری تعالی ہے :

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کۓ تھے کچھ آدمی اور کچھ جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تا کہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کر سکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ افترا پردازی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجۓ " الانعام 112

اور جنوں کی آسمان میں جگہیں تھیں جہاں سے وہ چوری چھپے سنتے تھے تو جب اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تو انہیں سننے سے منع کر دیا گیا تو اب جو بھی سنتا ہے اسے شہاب ثاقب جلا دیتے ہیں – جیسا کہ اللہ تعالی نے جنوں کے قول کو بیان کیا ہے :

اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت پہریداروں اور سخت شعلوں سے بھرا ہوا پایا اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لۓ آسمان میں جگہ جگہ بٹھ جایا کرتے تھے اب جو بھی کان لگاتا ہے وہ ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے " – الجن 8- 9

اور ہمارے ساتھ اس زمین میں رہتے ہیں لیکن اللہ تعالی کی رحمت سے وہ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے – جیسا کہ اللہ تعالی نے ابلیس اور اس کے قبیلے کے متعلق مندرجہ ذیل آیت میں ارشاد فرمایا ہے :

وہ اور اس کا لشکر تمہیں ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے – الاعراف

تو جو تجھے دیکھے اور آپ اس کو نہ دیکھ سکیں تو وہ تیرا سب سے زیادہ خطرناک دشمن ہے تو اس لۓ واجب ہے کہ اس سے ہر وقت متنبہ رہا اور اس سے بچا جائے اور جنوں اور انسانوں میں جو شیطان ہیں ان سے بھی حراست کی ضرورت ہے ۔ .

کتاب ۔۔۔ اصول الدین الاسلامی –
تالیف۔۔۔ شیخ محمد بن ابراہیم التویجری سے اقتباس –
Create Comments