13482: مسجد ميں دوسرى نماز كروانى


بعض لوگ تاخير سے آتے ہيں اور پہلى جماعت ختم ہو چكى ہوتى ہے وہ آكر كسى اور امام كے پيچھے دوسرى جماعت كرواتے ہيں، اس كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

يہ مسئلہ مسجد ميں دوسرى جماعت كرانے كا ہے، اس كے متعلق مستقل فتوى كميٹى سے سوال ہوا كہ:

مسجد ميں دوسرى جماعت كروانے كا حكم كيا ہے ؟

اگر كوئى شخص مسجد ميں آئے اور مسجد كا تنخواہ دار يا غير تنخواہ دار امام جماعت كروا چكا ہو، تو وہ ان لوگوں كے ساتھ مل كر جن كى نماز رہتى ہے دوسرى جماعت كروا سكتا ہے، يا پھر جو لوگ نماز ادا كرچكے ہيں ان ميں سے كوئى صدقہ كرتا ہوا اس كے ساتھ مل كر باجماعت نماز ادا كرے.

اس كى دليل مسند احمد اور ابو داود كى مندرج ذيل حديث ہے:

ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كو اكيلے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا تو كہنے لگے: كيا كوئى شخص اس پر صدقہ كرتے ہوئے اس كے ساتھ نماز ادا كرے گا ؟

تو ايك شخص كھڑا ہوا اور اس كے ساتھ مل كر نماز ادا كى"

اور امام ترمذى نے ابو سعيد رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" ايك شخص آيا تو انہوں نے اس كے ساتھ نماز ادا كى "

امام ترمذى كہتے ہيں: يہ حديث حسن ہے، اور اسے حاكم نے بھى روايت كيا اور اسے صحيح كہا ہے، اور امام ذہبى نے اس ميں اس كى موافقت كى ہے، اور ابن حزم نے اسے المحلى ميں ذكر اور اس كى تصحيح كى جانب اشارہ كيا ہے.

ابو عيسى ترمذى كہتے ہيں:

صحابہ كرام اور تابعين ميں سے كئى ايك كا يہى قول ہے، ان كا كہنا ہے: جس مسجد ميں جماعت ہو چكى ہو اس ميں دوسرے لوگوں كا باجماعت نماز ادا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اور امام احمد اور اسحاق كا بھى يہى قول ہے.

اور دوسروں كا كہنا ہے:

وہ انفرادى نماز ادا كريں باجماعت نہيں، سفيان، ابن مبارك، مالك، شافعى، كہتے ہيں كہ وہ اكيلے اكيلے نماز ادا كريں. اھـ

ان اور ان كى موافقت كرنے والوں نے اس ليے مكروہ سمجھا ہے كہ اس سے تفرقہ اور كينہ و بغض پيدا ہونے كا خدشہ ہے، اور خواہشات كے پيروكار اس كو جماعت سے پيچھے رہنے كا ذريعہ بنا ليں گے كہ وہ دوسرى جماعت كے ساتھ نماز ادا كرليں گے، جس كى امامت ان كى موافقت كرنے والا امام كروائے گا، جو ان كى طرح بدعت اوران كے طريقہ پر چلے.

تو اس تفرقہ كے باب كو بند كرنے اور برى خواہش اورمقاصد ركھنے والوں كے مقصد كو ختم كرنے كے ليے ايك مسجد ميں دوسرى جماعت كروانے كو منع كيا گيا ہے.

احاديث كى بنا پر پہلا قول ہى راجح اور صحيح ہے، اور اس ليے بھى كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اور ڈر اختيار كرو﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كسى چيز كا حكم دوں تو اپنى استطاعت كے مطابق اس پر عمل كرو"

اور اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ نماز باجماعت اللہ تعالى كے تقوى ميں شامل ہے، اور شريعت اسلاميہ نےاس كا حكم ديا ہے، اس ليے حسب استطاعت اس كى حرص ركھنى چاہيے.

يہ صحيح نہيں كہ صحيح احاديث كے مقابلے ميں علتيں پيش كى جائيں جو اہل علم نے ديكھيں، اور اس كى بنا پر مسجد ميں كئى ايك جماعتوں كو ناپسند كيا، بلكہ انسان پر واجب ہے كہ وہ اس پر عمل كرے جس پر صحيح احاديث دلالت كرتى ہيں.

اگر كسى كے متعلق يہ پتہ چل جائے كہ وہ سستى كى بنا پر جماعت سے پيچھے رہتا ہے، اور ان سے يہ عمل تكرار كے ساتھ ہو يا ان كى عادت اور نشانى يہ معلوم ہو جائے كہ وہ اس ليے تاخير كرتے ہيں تا كہ وہ اپنے جيسے لوگوں كے ساتھ نماز ادا كريں، تو انہيں بطور تعزير سزا دى جائے، اور حكمران جس طرح بھى سمجھے ان كو ايسا كام كرنے سے روكے، تا كہ ان اور اس طرح خواہشات كے پيروكاروں كو تفرقہ پھيلانے كا موقع نہ مل سكے، اور اس كا سد باب ہو.

اور اہواء و خواہشات پر عمل كرنے والوں كى غرض كو ختم كيا جائے، اور اگر كسى كى نماز فوت ہو جائے تو وہ دوسرى جماعت كے ساتھ نماز ادا كر سكتا ہے، اس كے دلائل موجود ہيں.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 7 / 309 ).

يہ تو نماز پنجگانہ كے متعلق تھا، رہا مسئلہ نماز جمعہ كى جماعت كا تو يہ دوبارہ نہيں ہو گى، بلكہ امام كى سلام كے ساتھ ہى ختم ہو جائيگى، اس ليے جس شخص كى نماز جمعہ رہ جائے وہ اكيلا يا جماعت كے ساتھ ظہر كى نما زادا كرے گا.

يہ تو حكم كے اعتبار سے تھا، رہا مسئلہ گناہ كے اعتبار سے اگر تو نماز جمعہ سے تاخير كسى شرعى عذر كى بنا پر تھى تو اس پر كچھ نہيں، ليكن اگر بغير شرعى عذر كے تاخير ہوئى اور نماز جمعہ رہ گئى تو وہ گنہگار ہے.

اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 26807 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments