13484: ایسی عورت جودعوتی کام کرنے سے شرماتی ہے


میں منافقوں یا کفارسے جومیری غیبت کرتے اوریا پھر میرے بارہ میں غلط قسم کی باتیں کرتے یا میری طرف غلط نظروں سے دیکھتے تھے شرمندگی محسوس کرتی تھی ، توجب میں نے پردہ کرنا شروع کیا توان سب سے چھپ گئی ۔
پھر بعد میں مجھے یا اطمنان ہوگیا کہ ان سے نہ ملنا ہی فائدہ مند ہے ، میں ان سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی تواللہ تعالی نےاس پر میرا تعاون کیا اورمیرے علم میں یہ بات ڈال دی کہ میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورسے نہ ڈروں اور رضا بھی اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکی نہیں ہونی چاہیے ۔
میں جب لوگوں سے حقیقت بیان کرتی ہوں توبعض اوقات شرمندگی محسوس کرتی ہوں ، اورقرآنی احکام لوگوں تک پہچانے میں بھی شرمندگی محسوس ہوتی مثلا میں مردوں کویہ کہنے سے شرمندگی محسوس کرتی ہوں کہ وہ عورتوں کی طرف نہ دیکھا کریں بلکہ ان پر اپنی آنکھوں کونیچا رکھنا واجب ہے ۔
میں محسوس کرتی ہوں کہ وہ میری بات پرکان نہیں دھریں گے یا یہ کہ میں اس طریقے سے انہیں بات چیت کے ساتھ متوجہ نہيں کرنا چاہتی ۔
اورجب مسلمان غلط کام کرتے ہيں تو ان کے ساتھ بھی مجھے بات کرنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔
میں لوگوں کی غلطیوں کی تصحیح نہیں کرتی باوجود اس کے کہ میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنی غلطیوں سے رک جائيں لیکن شرمندگی آڑے آتی ہے ۔

الحمد للہ
اللہ تعالی آپ کوجزاۓ خیر دے یہ آپ کی دینی غیرت اور دوسروں کودعوت تبلیغ کی رغبت ہے ، لیکن آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ عورت پرمردوں کوبلاواسطہ بغیرکسی محرم کے دعوت دینا واجب نہيں ، اس لیے کہ ایسا کرنے میں فتنہ بپا ہونے کا ڈر ہے ۔

ہم سوال کرنے والی اور دوسری عورتوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت پراپنے آپ کی تربیت کریں ، اوراللہ تعالی کے حقوق بجالائیں ، اوراپنے خاوند اوربچوں اورگھروالوں کے حقوق کا بھی خاص خیال رکھیں ۔

اوراس کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت معاشرہ میں عورتوں کودرس و تقریریا پھر کوئ کتاب پڑھ کے ، اوریا کوئ کیسٹ تحفہ میں دے کر کو دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہیے ، یا پھر اگر آپ کے پاس دینی علم ہے تو کوئ شرعی تعلیم کا پروگرام ترتیب دے کر دعوت کا کام کریں ۔

اوراسی طرح سہیلیوں کو برائ سے روکا جاۓ اورانہیں وعظ و نصیحت کی جاۓ اورعورتوں کی اجتماعی اورمعاشرتی مشکلات حل کرنے میں مدد وتعاون کیا جاۓ ۔

اورآپ کا شرمندگی کے باعث دعوت و تبلیغ سے رک جانا صحیح نہیں اورنہ ہی یہ جائز ہے ( اوریہ شرمندگی مذموم ہے ) لیکن آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ انسان کوئ بھی کام کرے وہ کام ابتدا میں اس کے لیے مشکل ہوتا ہے اوربعض اوقات تو اس کےلیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے ۔

لیکن جب انسان اسے مستقل طورپرکرنا شروع کردے تو اس میں اسے آسانی پیدا ہوجاتی ہے اوراس کے لیے ایک طبعی چيز بن جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تویہاں تک پہنچ جاتے ہے کہ اس عمل کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ۔

اس لیے آپ اس پر صبر کوشش کریں اس لیے کہ دعوت الی اللہ کا کام جس میں امربالمعروف اورنہی عن المنکر بھی شامل ہے صبر کا محتاج ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ عصر کےوقت کی قسم یقینا انسان سرا سر نقصان میں ہے ، سواۓ ان لوگوں کے جوایمان لاۓ اورنیک عمل کيے اورجنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اورایک دوسرے کوصبر کی نصیحت کی } العصر ( 1 -3 ) ۔

لھذا دعوتی کاموں میں صبر مومنوں کا اخلاق ہے بلکہ یہ تو واضح خسارے سے نجات کا ذریعہ و سبب ہے اورایسے خسارے سے نجات ہے جس سے نجات وہ ہی پاسکتے ہیں جن کا اللہ تعالی نے اس سورۃ میں ذکر کیا ہے ، اوریہ وہ لوگ ہیں جن میں چار اوصاف پاۓ جائيں :

1 - ایمان : ایمان وہ چيز ہے جو اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوردین اسلام کے علم کے بغیر حاصل نہيں ہوتا ۔

2 – اس علم پر عمل کرنا ۔

3 - اس علم کی طرف دعوت ۔

4 - علم اورعمل اوراس کی دعوت دینے کے راستے میں آنے والی تکلیفات پر صبر کرنا ۔

اورانٹرنیٹ کے ذریعہ دعوت دینا ایک ایسا معاملہ جو اس دورمیں مطلوب ہے ، لیکن آپ اورہر لڑکی کویہ نصیحت ہے ، ان اشیاء سے دوررہیں جن میں غلط کام اورحق سے پھسلنے والی اشیاء ہوں اوران سے بہت ہی کم لوگ نجات پاتے اورنجات بھی وہ حاصل کرتے ہیں جنہیں اللہ تعالی بچاۓ ۔

اوراس وقت کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنے آپ کواس عظیم کام کے لیے فارغ کر رکھا ہے ، اوریہ کام علم میں رسوخ کا محتاج ہے تا کہ شبھات کا ازالہ کیا جاسکے ، اور ایسے سچے ایمان کی ضرورت ہے جس سے شہوات کوختم کیا جاۓ ۔

اوراگر اس میدان میں وہ شخص داخل ہوجاۓ جس میں یہ دونوں ( ایمان و علم ) قسم کے اسلحہ نہ ہوں یا پھر ان میں سے کوئ ایک غائب ہوتوبہت ہی کم ہیں جو اس جال سے نکل سکیں ، اوراگر آپ میں یہ دونوں شرطیں پائ جاتی ہیں تو آپ کا اس میدان میں شریک ہونا ممکن ہے ۔

اے سوال کرنے والی آپ نے باپرد بن کر ایک بہت اچھا کام کیا ہے جوکہ مسلمان عورت پرواجب ہے اس لیے کہ اللہ تعالی کافرمان ہے :

{ اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اورمسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کريں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کرے گی پھرانہيں ستایا نہ جاۓ گا اوراللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے } الاحزاب ( 59 ) ۔

تو اللہ تعالی نے اس آیت میں پردہ کرنے کی حکمت یہ بیان کی گئ ہے کہ اس سے عورت فاسق اورغلط قسم کے لوگوں سے محفوظ رہتی ہے ۔

اورآپ پر ضروری ہے کہ آپ ایسے غلط قسم معاشرے اور گندے دوستوں سے دور رہیں اور جاہل قسم کے لوگوں سے اعراض کریں ، اورسب تعریفا اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments