13716: تعليمى غرض سے بچوں كا تصاوير ديكھنا


كيا بچوں كے ليے تعليمى غرض سے آدميوں اور حيوانات كى تصاوير ديكھنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

تصوير ميں اصل يہى ہے كہ يہ حرام ہے، مگر اس وقت يہ مصيبت عام ہو چكى ہے، چنانچہ مسلمان شخص كے ليے آدمي اور حيوانات اور كسى ذى روح كى تصوير بنانى جائز نہيں؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مصوروں پر لعنت فرمائى ہے، جيسا كہ صحيح بخارى كى حديث نمبر ( 5374 ) ميں ہے.

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر مصور آگ ميں جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2225 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2110 ).

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے على رضى اللہ تعالى عنہ كو حكم ديا كہ:

" تمہيں جو تصوير بھى ملے اسے مسخ كر دو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 969 ).

چنانچہ جب بچوں كو تصاوير ديكھنے كى ضرورت و حاجت ہو يعنى آدميوں اور حيوانات كى تصاوير چاہے وہ فوٹو گرافى كے ذريعہ لى گئى ہوں، يا پھر ويڈيو پر، اگر تو يہ ضرورت كى بنا پر ہو تو پھر اس ميں كوئى حرج نہيں، مثلا بچے يا بچوں كے علاوہ كوئى اور ہمارے فلسطينى يا شيشانى، يا افغانى بھائيوں پر ظلم و ستم كى تصاوير ديكھے.

اور بچے كے ليے كچھ تعليمى تصاوير ديكھنے ميں بھى كوئى حرج نہيں، ليكن بچوں كو يہ ضرور بتايا جائے كہ تصوير حرام ہے، اور يہ جو آپ ديكھ رہے ہيں حسب ضرورت ، اور حاجت كے اعتبار سے ہے؛ حتى كہ بچے كو شرعى حكم كا علم ہو اور اس كى نشو نما شرعى حكم پر ہو.

واللہ اعلم .

الشيخ سليمان بن ناصر العلوان
Create Comments