Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
13721

بعض اوقات قسطوں كي بيع مستحب ہوتي ہے

ميں قسطوں ميں اشياء فروخت كرتا اور نقد والي قيمت سے زيادہ ليتا ہوں، كيا مجھےاس كام ميں اجروثواب حاصل ہوگا، اس ليے كہ ميں مسلمانوں كوان كي ضروريات والي اشياء كي خريداري ميں تعاون كرتا ہوں ؟

الحمد للہ :

قسطوں ميں اشياء زيادہ قيمت كےساتھ فروخت كرنا جائزہے اس كي تفصيل كےليے سوال نمبر ( 13973 ).

بعض اوقات بيع التقسيط كا حكم تاجر كےليے مستحب يا مباح ہوتا ہے.

خريدارجب محتاج اورفقير ہوتوتاجراس كےساتھ اس كي ضرورت والي اشياء كي قسطوں ميں خريداري ميں نرمي اوراس كےتعاون كا قصد ركھتا ہواور قسطوں كي ادائيگي ميں اس پر تنگي نہ كرے بلكہ جب قسط كي ادائيگي كا وقت آئے اور اس كےپاس رقم نہيں تواسے مہلت دے يا پھر ساري قسط يا قسط كا كچھ حصہ معاف كردے تواس كےليےمستحب ہےاور اسےاس كا اجروثواب حاصل ہوگا.

اللہ سبحانہ وتعالي كا فرمان ہے:

{اور اگر كوئي تنگي والا ہو تواسے آساني تك مہلت ديني چاہيے اور صدقہ كرو تو تمہارے ليے بہت ہي بہتر ہے، اگر تم ميں علم ہے ہو} البقرۃ ( 280 )

شيخ سعدي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

يعني: اور اگر مقروض شخص تنگ دست ہو تواس كےقرض خواہ پر واجب ہے كہ وہ اسے آساني ہونے تك مہلت دے.... اور اگر قرضہ لينے مقروض پر( سارا يا كچھ قرضہ معاف كردے ) صدقہ كردے تواس كےليے بہتر ہے. اھ

تفسير السعدي صفحہ نمبر ( 168 ) .

بخاري اور مسلم نے ابومسعود رضي اللہ تعالي عنہ سےروايت بيان كي ہے كہ: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

( تم سےپہلےلوگوں ميں سےايك شخص كا حساب كتاب ہوا تو اس كي اس كےعلاوہ اور كوئي نيكي نہ تھي كہ وہ لوگوں سے ميل جول ركھتا اوركافي مالدار تھا اور اپنےملازموں كويہ كہتا كہ تنگ دست شخص كومعاف كردو، تواللہ تعالي نےكہا: اس سے زيادہ ہميں حق ہے اس شخص كو معاف كردو ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1307 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1561 ) .

اوراگر تاجر قسطوں ميں اشياء فروخت كرنےسے پورا معاوضہ اور منافع چاہتا اور قسطوں كي بنا پرقيمت بڑھاتا ہے اس كےليے مباح ہے.

اور بعض تاجر قسطوں كےعلاوہ كوئي چيز فروخت ہي نہيں كرتےتا كہ منافع زيادہ ہو، امام احمد رحمہ اللہ تعالي نےاس كي كراہت بيان كي ہے، ليكن اگر وہ نقد بھي اور قسطوں ميں بھي فروخت كرتا ہے تواس ميں كوئي حرج نہيں.

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي نےاس كي كراہت كي علت يہ بيان كي ہے كہ يہ مجبور كي بيع ميں شامل ہوتي ہے، اس ليے كہ غالباادھار ( يعني قسطوں ميں ) وہي خريدتا ہے جونقد نہ خريد سكتا ہو، لھذا اگر وہ شخص صرف ادھار ہي فروخت كرتا ہے اورنقد نہيں تواس كا منافع ضرورت اور حاجت مند لوگوں پرہے، اور جب وہ نقد بھي اور ادھار بھي فروخت كرتا ہے توتاجروں ميں سےايك تاجر ہے. اھ

ديكھيں: من تھذيب السنن لابن قيم . اور عون المعبود ( 9 / 347 ) .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments