Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
13722

قسطوں اورنقد ميں عليحدہ قيمت مقرر كرني

كيا خريدار اگر نقد خريدنا چاہے تواس كي اور قيمت اور اگر قسطوں ميں خريدنا چاہےتواس كي اور قيمت مقرر كي جاسكتي ہے؟ مثلا: يہ گاڑي نقد ميں پچاس ہزار اور قسطوں ميں ساٹھ ہزار كي ہے.

الحمد للہ :

جب بائع يہ كہےكہ: يہ گاڑي نقد پچاس ہزار اور قسطوں ميں ساٹھ ہزار كي ہے، تو اس مسئلہ كي دوصورتيں ہيں:

پہلي صورت:

بائع اور مشتري گاڑي كي قيمت اور ادائيگي كا طريقہ طے كرنے كےبعد جدا ہوں جائيں، تويہ بيع جائز ہے.

دوسري صورت:

قيمت پر متفق ہوئےبغير ہي جدا ہو جائيں، تو يہ بيع حرام ہو گي اور صحيح نہيں.

امام بغوي رحمہ اللہ تعالي " شرح السنۃ " ميں اس دوسري صورت كےمتعلق كہتےہيں:

اكثراہل علم كےہاں يہ فاسد ہےاس ليے كہ اس ميں كوئي علم نہيں كہ دونوں ميں سے كس بنياد پر قيمت ركھي گئي ہے.اھ

اوربہت سےعلماء نے نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي ايك بيع ميں دو بيع كي نہي كي يہي تفسير اور شرح كي ہے.

ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے ايك سودے ميں دو سودے كرنےسے منع كيا ہے.

جامع ترمذي حديث نمبر ( 1152 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ترمذي ( 985 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام ترمذي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

اہل علم كا عمل اسي پر ہے، اور بعض اہل علم نے اس كي تفسير كرتے ہوئےكہا ہےكہ: ايك بيع ميں دوبيع يہ ہے كہ كوئي يہ كہے: ميں نےيہ كپڑا نقد ميں آپ كو دس اور ادھار بيس ميں فروخت كيا، اور دونوں ميں سےايك بيع پر جدا ہو، لھذا جب وہ دونوں ميں سےايك پر جدا ہو اوركسي ايك پر سودا بھي طے ہوچكا ہو تواس ميں كوئي حرج نہيں. اھ

اور امام نسائي رحمہ اللہ تعالي سنن نسائي ميں كہتےہيں:

ايك بيع ميں دو بيع يہ ہےكہ: فروخت كرنے والا يہ كہے ميں نےيہ سامان آپ كو نقدسودرھم ميں اور ادھار دو سودرھم ميں فروخت كيا .

اور اما شوكاني رحمہ اللہ تعالي نيل الاوطار ميں كہتےہيں:

ايك بيع ميں دو بيع كي حرمت كي علت يہ ہےكہ ايك ہي چيز كودو قميتوں ميں فروخت كرنےكي صورت ميں قيمت كا عدم استقرار ہے. اھ.

مستقل فتوي كميٹي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا: ِ

ايك گاڑي نقد دس ہزار اور قسطوں ميں بارہ ہزار ميں فروخت كرنے كے متعلق آپ كي رائےكيا ہے؟

كميٹي كا جواب تھا:

جب كوئي شخص كسي دوسرے كو گاڑي نقد دس ہزار اور ادھار بارہ ہزار ميں فروخت كرے اور مجلس سے بغير كسي سودے پر متفق ہوئےبغير ہي اٹھ جائيں يعني نقد يا ادھار كي قيمت پر متفق ہوئےبغير ہي، تو يہ بيع جائز نہيں اور جھالت كي بنا پر كہ آيا نقد بيع ہوئي يا ادھار اس كا كوئي علم نہ ہونے كي بنا پر يہ بيع صحيح نہيں ہوگي.

اس پر بہت سےعلماء كرام نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم كي ايك بيع ميں دو بيع كي نہي والي حديث سے استدلال كيا ہے، جسےامام احمد اور نسائي ترمذي نےروايت كيا اوراسےصحيح كہا ہے، اور اگر خريدنےاور فروخت كرنے والا مجلس سے اٹھ كرجدا ہونے سے قبل نقد يا ادھار ميں سےكسي ايك پر متفق ہوجائيں اور پھر جدا ہوں توقيمت اور اس كي حالت كي علم كي بنا پر صحيح اور جائز ہے. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 192 ) .

اور ايك دوسرے سوال ميں ہےكہ:

جب فروخت كرنےوالا يہ كہےكہ: يہ سامان ادھار دس ريال ميں اور نقد پانچ ريال ميں ہے تواس كا حكم كيا ہوگا؟

كميٹي كا جواب تھا:

جب واقعتا ايسا ہي جيسا سوال ميں مذكور ہے توبيع جائز نہيں، اس ليے يہ ايك بيع ميں دوبيع كي صورت بنتي ہے، اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ايك بيع ميں دو بيع كي نہي ثابت ہے، كيونكہ اس ميں ايسي جہالت ہے جو اختلاف اور جھگڑے كاباعث بنےگي. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 197 ) .

اور فقہ اكيڈمي كي قرار ہے كہ:

جس طرح نقد اور معلوم مدت كي قسطوں والي بيع كي قيمت ميں زيادتي جائزہےاسي طرح موجودہ اور ادھار كي قيمت ميں بھي زيادتي جائز ہے، اور بيع اس وقت جائزنہ ہوگي جب تك دونوں فريق نقد يا ادھار كا فيصلہ نہ كرليں، لھذا اگر بيع نقد اور ادھار كےمابين متردد ہو اور فريقين كا كسي ايك قيمت پر اتفاق نہ ہوا ہو تو يہ بيع شرعا ناجائزہوگي. اھ

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments