13735: ويزا اور سامبا كريڈٹ كارڈ


، اور اگر يہ كارڈ گولڈن ہو تو اس كى قيمت ( 548 ) ريال ہے اور اگر سلور ہو تو اس كى قيمت ( 245 ) ريال ہے جو اس كارڈ كو حاصل كرنے والے نے سالانہ فيس كى مد ميں بنك كو ادا كرنا ہوتى ہے.
اور اس كارڈ كا طريقہ استعمال يہ ہے كہ جس كے پاس يہ كارڈ ہو وہ بنك كى شاخوں سے بطور ادھار جتنى رقم چاہے نكلوا سكتا ہے، اور يہ رقم زيادہ سے زيادہ چون ( 54 ) يوم كے اندر ادا كرنى ہوتى ہے، اور اگر نكلوائى گئى يہ ادھار رقم مقررہ مدت كے اندر ادا نہ كى جائے تو بنك نكلوائى گئى ادھار رقم كے ہر سو ريال پر فائدہ ليتا ہے جو ايك ريال اور پچانوے ہللے ( 1.95 ) ہے، اور اسى طرح بنك كارڈ ہولڈر سے ہر بار نقد رقم نكلوانے كى فيس ہر سو ريال نكلوانے پر ( 3.5 ) ريال ليتا ہے، يا پھر ہر نقد رقم نكلوانے پر زيادہ سے زيادہ ( 45 ) ريال ليتے ہيں.
اور كارڈ ہولڈر ان ماركيٹوں سے جو اس بنك كے ساتھ لين دين كرتے ہيں بغير كسى نقد رقم كے ادا كيے خريدارى كر سكتا ہے، اور يہ خريدارى اس پر بنك كا ادھار ہو گا، اور جب وہ خريدارى كى قيمت كى ادائيگى چون يوم سے تاخير كر دے تو بنك كارڈ ہولڈر سے اس خريدارى كے ہر سو ريال پر ( 1.95 ) ريال فائدہ ليتے ہيں .
لہذا اس كارڈ كے استعمال كا حكم كيا ہے؟ اور اس بنك كے ساتھ اس كارڈ سے استفادہ كرنے كے ليے سالانہ اشتراك كرنا كيسا ہے ؟

الحمد للہ:

يہ سوال مستقل فتوى كيمٹى كے سامنے پيش كيا گيا تو اس كا جواب تھا:

اگر تو اس كارڈ ( سامبا ويزا ) كا حال يہى ہے جيسا بيان كيا گيا ہے تو سودى كاروبار كرنے والوں كى جانب سے يہ ايك نئى پيشكش اور لوگوں كا ناحق اور حرام طريقہ سے مال كھانا اور انہيں گنہگار كرنا اور ان كى كمائى اور معاملات كو پراگندہ اور خراب كرنا ہے.

اور يہ دور جاہليت كے سود كے حكم سے خارج نہيں جو شريعت مطہرہ ميں حرام ہے ( يا تو آپ اس كى ادائيگى كريں يا پھر سود ) لہذا اس طرح كے كارڈ جارى كرنے اور ان كے ذريعہ لين كرنا جائز نہيں.

اور اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحتوں كا نزول فرمائے.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے اس كے متعلق سوال كيا گيا تو ان كا كہناتھا:

الجواب:

اس طريقہ پر معاہدہ كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس ميں سود ہے اور وہ ويزا كارڈ كى قيمت ہے، نيز اس ميں يہ بھى ہے كہ اگر ادائيگى ميں تاخير ہو گئى تو سود لازم كرديا جاتا ہے. اھـ

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments