Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
13816

حدیث ( لاترضین احدا بسخط اللہ ) کا درجہ

اس حدیث ( اللہ تعالی کی ناراضگی مول لے کر کسی کوراضي نہ کرو اوراللہ تعالی کے فضل کے مقابلہ میں کسی کی تعریف نہ کرو ، اور جواللہ تعالی نے تمہیں نہیں دیا اس کی وجہ سے کسی کی مذمت نہ کرو ، کیونکہ اللہ تعالی کے رزق کوکسی لالچی کا لالچ نہیں کھینچ سکتا ، اور نہ ہی کسی ناپسند کرنے والے کی کراھت اسے روک ہی سکتی ہے ، اور یقینا اللہ تعالی نے اپنے عدل وانصاف سے روح اورخوشی کورضا اوریقین میں رکھا ہے ، اور غم و پریشانی کوناراضگی میں رکھا ہے ) کا درجہ کیا ہے ؟

الحمد للہ
یہ حديث طبرانی نے الکبیر ( 10 / 215 ) میں روایت کی ہے ۔

اس کے بارہ میں ھیثمی کا قول ہے کہ :

یہ حديث طبرانی نے الکبیرمیں روایت کی ہے جس کی سند میں خالدبن یزید العمری ہے جو متھم بالکذب ہے ۔ مجمع الزوائد ( 4 / 71 ) ۔

اورابونعیم نے الحلیۃ ( 5 / 106 ) میں ایک دوسرے طریق سے اور بیھقی نے شعب الایمان ( 1 / 221 ) میں روایت کیا ہے ، جس میں عطیہ العوفی ہے جو کہ ضعیف ہے اور محمد بن مروان السدی متروک الحدیث ہے ۔

یحیی بن معین رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ ثقہ نہیں ، اور ایک دفعہ یہ کہا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں لیس بشیئ ۔

اورابراھم نے اسے کذاب قرار دیا اور السعدی نے ذاھب گیا گذرا کہا ہے ، اور امام نسائ اور ابوحاتم رازی اور ازدی کا کہنا ہے کہ یہ متروک الحدیث ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس کی احادیث نہ لکھی جائيں ، اورایک جگہ سکتوا عنہ کہا ہے ، اور ابن حبان کا کہنا ہے کہ اس کی احادیث لکھنا حلال نہیں صرف اعتبار کے لیے اور کسی بھی حال میں اس سے حجت نہیں پکڑي جاسکتی ۔

دیکھیں " ميزان الاعتدال ( 6 / 328 ) اورالضعفاء والمتروکین ( 3 /98 )

اورھناد السری نے " الزھد ( 1 / 304 ) اور بیھقی نے شعب الایمان ( 1 / 221 ) میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ پرموقوف بیان کی ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments