Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
13941

جادوگر کے حکم میں صحیح قول

جادوگر کے متعلق صحیح حکم کیا ہے؟

الحمدللہ

جادو کی تمام قسمیں تمام شریعتوں میں حرام ہیں اور اسکے کرنے اور سیکھنے کی حرمت پر اجماع ہے۔

اور یہ جسے رسل لے کر مبعوث ہوئے اسکے خلاف اور جسکی بنا پر کتابیں نازل کی گئیں اسکے معارض ہے۔

اور اکثر اہل علم کا یہ قول ہے کہ جادوگر کافر ہے اور حاکم پر اسے قتل کرنا واجب ہے۔

فرمان ربانی ہے۔

"سلیمان (علیہ السلام) نے تو کفر نہیں کیا لیکن شیطانوں نے کفر کیا تھا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے"

ارشاد باری تعالی ہے:

"وہ دونوں کسی بھی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر"

یعنی جادو کے عمل سے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ کفر ہے۔

اور اکثر فقہاء شافعیہ کا یہ قول ہے کہ اگر یہ اعتقاد رکھے کہ جادو حرام ہے تو اسےکافر نہیں کہا جائے گا اور اگر اس کا یہ عقیدہ ہو کہ یہ حلال ہے تو اسے کافر کہا جائے گا اور یا پھر اسکا عقیدہ بابل والوں کی طرح ہو کہ سات ستاروں کا تقرب حاصل کرنا تو وہ کافر ہے۔

تو اس قول میں نظر ہے۔ اور یہ شرط لگانے کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

اور صحیح یہی ہے کہ جادوگر اسکی حرمت کا عقیدہ رکھے یا نہ رکھے صرف وہ جادو کرنے کی بناء پر ہی کافر ہوجائے گا دلائل سے یہی ظاہر ہے اور اسکی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ملتی۔

تو اگر کسی شخص سے جادو کرنا ثابت ہو جائے تو اسے وجوبا قتل کیا جائے گا تو یہی بات صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے لیکن لوگوں میں سے کسی ایک کےلئے یہ جائز نہیں کہ وہ حاکم یا اسکے نائب کے حکم کے بغیر حدود کا نفاذ کرے۔ کیونکہ حکام کے بغیر حدود کا نفاذ فتنہ وفساد کا باعث اور امن میں خرابی کا باعث بنتا ہے اور اس سے حاکم کا رعب اور دبدبہ اور ہیبت ختم ہو جاتی ہے۔ .

الشیخ سلیمان العلوان
Create Comments