Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
1397

زانی کے اعمال صالحہ کی قبولیت

کیا اللہ تعالی زانی کی نماز روزہ قبول کرتا ہے ؟
اورکیا جب وہ توبہ کرے تواللہ تعالی اس کی توبہ بھی قبول کرتا ہے کہ نہيں ؟

الحمد للہ
جی ہاں اللہ تعالی اس کی نماز روزہ اورصدقہ وغیرہ اورباقی دوسرے اعمال صالحہ بھی قبول فرماتا ہے ، اوراس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوروہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اورگناہوں سے درگزر کرتا ہے اوروہ جوکچھ تم عمل کرتے ہو وہ اسے جانتا بھی ہے } الشوری ( 25 ) ۔

لیکن ایک شرط ہے کہ وہ توبہ صحیح کرے ، توکیا وہ شخص اپنے کیے پرحقیقی نادم ہے ؟ اورکیا اس نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ دوبارہ اس کام کی طرف پلٹے گا بھی نہيں ؟ ، اورکیا اس نے ہر اس چيز کوجواس معصیت کی طرف لےجانے والی ہے ترک کر دی ہے ؟

کیا اس نے ایسے تعلقات منقطع کردیۓ ہیں جواس کام کی طرف لے جائيں یا پھر اس نے وہ سب ایڈریس اورٹیلی فون نمبر ضائع کردیے ہيں جو اس فحاشی کا سبب تھے ؟ ، یا پھر اس نے حرام جگہ کے قریب جانا ترک کر دیا ہے ؟ یا بری سوسائٹی اوربرے دوست احباب سے کنارہ کشی کرلی ہے ؟

اوریا پھر وہ گندی فلموں سے نجات حاصل کرچکا ہے اورننگی اورفحش قسم کی تصاویر سے بھی چھٹکارا حاصل کیا ہے کہ نہيں ؟ ، ہمارے خیال میں اگر یہ شخص حقیقی توبہ کرتا تواس معصیت اورگناہ سے کنارہ کش ہوجاتا اوراسے ضرور ترک کرتا ۔

اورپھر زنا توایک بہت ہی بڑا فحش کام ہے اللہ سبحانہ وتعالی نے تو اس کے بارہ میں کچھ اس طرح فرمایا :

{ اورزنا کے قریب بھی نہ پھٹکو بلاشبہ یہ فحش کام اوربہت ہی برا راہ ہے } الاسراء ( 32 ) ۔

اورشادی شدہ زانی کوتو بہت ہی بری اورشدید قسم رجم کی سزا دی جاتی ہے جس میں انہیں پتھر مار مار کر سنگسار کردیا جاتا ہے جس سے ان دونوں کی موت واقع ہوجاتی ہے تا کہ وہ اپنے اس گناہ کی سزا چکھیں اورجس طرج ان دونوں نے حلال کے موجود ہوتے ہوۓ حلال چھوڑ کر حرام کام کیا اسی طرح ان کے جسم کا ہرحصہ تکلیف محسوس کرے ۔

اوروہ زانی مرد وعورت جوشرعی نکاح میں نہیں انہیں حدود شرعیہ میں سب سے زيادہ ایک سوکوڑے مارے جائيں گے ، اوراس کے ساتھ ساتھ اس کی سزا کے وقت لوگوں کوبھی جمع کیا جاۓ گا تا کہ اسے ذلت ورسوائی حاصل ہو اورانہيں ایک برس کے لیے ان کے وطن سے بھی نکال دیا جاۓ تا کہ وہ اس جرم والے علاقہ سے ہی نکل جائيں ۔

اوربرزخ میں انہیں عذاب اس طرح ہوگا کہ وہ ایک تنورکی شکل والی عمارت میں ہوں گے جس کا اوپر والا حصہ تنگ اورنچلا کھلااوروسیع ہوگا جس کے نیچے آگ بھڑکائي جاۓ گی اوروہ سب اس میں ننگے ہوکررہیں گے جب ان کے نیچے آگ جلائي جاۓ گی تووہ چیخ وپکار کریں گے اوراوپروالی جانب بلند ہوجائيں گے اورجب وہ نکلنے کے قریب ہوں گے توآگ کم ہوکر انہیں پھر دوبارہ نیچے لے جاۓ گی ، اسی طرح وہ قیامت تک ایسا ہی عذاب پاتے رہیں گے ، توپھر انہيں جہنم میں کس طرح کا عذاب ہوگا ؟ ۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ ہم پر ناراض نہ ہو اورراضی رہے اورہماری توبہ قبول فرماۓ ، اورہمیں ہرقسم کی نیکی و بھلائي کرنے اورتمام برائيوں کوختم کرنےکی توفیق عطا فرماۓ بلاشبہ وہ سننے والا اوردعا قبول کرنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments