Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
14017

صوفیاء کے ہاں ضعیف اورموضوع احادیث

یہ حدیث جوصوفیاء کے ہاں معروف ہے ( میں نہ تواپنے آسمان میں سما سکا اورنہ ہی اپنی زمین میں لیکن اپنےمومن بندے کے دل میں سما گیا ) کیا یہ حديث صحیح ہے ؟

الحمد للہ
شیخ الاسلام ابن تیمۃ رحمہ اللہ تعالی سے اس حدیث (میں نہ تواپنے آسمان میں سما سکا اورنہ ہی اپنی زمین میں لیکن اپنےمومن بندے کے دل میں سما گیا ) کے متعلق سوال کیا گيا توان کا جواب تھا :

الحمدللہ :

یہ اسرائلی روایات میں سے ہے جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئ معروف سند نہیں ملتی ، اوراس کا معنی یہ ہے کہ اس کے دل میں میری محبت اور معرفت رکھ دی گئ ہے ۔

اوریہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ :

( رب کا گھر دل ہے ) یہ بھی پہلی والی جنس سے ہے اوراسرائیلی روایت ہے ، دل تو اللہ تعالی پرایمان اور اس کی معرفت اور محبت کی جگہ ہے ۔

اور یہ بھی راویت کرتے ہیں :

( میں ایک غيرمعروف خزانہ تھا میں نے چاھا کہ معروف ہوجا‎ؤں تومیں نے مخلوق پیدا کی تومیں نے انہیں اپنی وجہ سے اورمجھے انہوں نے میری وجہ سے جانا ) ۔

یہ کلام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں اورنہ ہی اس کی کوئ‏ صحیح اورضعیف سند ہی میرے علم میں ہے ۔

اوریہ بھی روایت کی جاتی ہےکہ :

( اللہ تعالی نے عقل پیدافرمائ تواسے کہا ادھرآ‎ؤ تووہ آگئ ، پھر اسے کہا واپس جاؤ تووہ واپس چلی گئ ، تواللہ تعالی نےفرمایا : مجھے میری عزت وجلال کی قسم میں نے تجھ سے زیادہ شان والی کوئ مخلوق پیدا ہی نہیں فرمائ ، میں تیری وجہ سے پکڑکروں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا ) ۔

یہ حدیث محدثین کے ہاں بالاتفاق موضوع اورباطل ہے ۔

اورجویہ حدیث روایت کی جاتی ہے :

( دنیا سے محبت ہرگناہ کی جڑ ہے ) ۔

یہ قول جندب بن عبداللہ البجلی کا قول معروف ہے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی کوئ سند معروف نہیں ۔

اوریہ بھی روایت کرتے ہیں :

( دنیا مومن کا قدم ( چلنے میں دوقدموں کا درمیانی فاصلہ ) ہے ) ۔

یہ کلام نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورنہ ہی سلف صالحین وغیرہ میں سے کسی سے معروف ہے ۔

اوریہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ :

( جس کسی کے لیے کسی چيزمیں برکت کردی جاۓ تووہ اس کا التزام کرے ) ( اورجس نے کسی چيزکو اپنے لیے لازم کیا وہ اسے لازم ہوجاۓ گی ) ۔

پہلی کلام توبعض سلف سے ماثور ہے ، اوردوسری باطل اس لیے کہ جس نے بھی اپنے لیے کسی چیز کولازم کیا تووہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کبھی لازم ہوگی اورکبھی لازم نہيں ہوسکتی ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کرتے ہیں :

( فقراء کے ساتھ مل کرقوت حاصل کرو کیونکہ کل انہیں غلبہ حاصل ہوگا اوراس کے علاوہ اور کونسا غلبہ ہے )

( فقیری میرا فخر ہے جس سے میں فخر کرتا ہوں ) ۔

یہ دونوں کذب ہیں مسلمانوں کی معروف کتب میں سے کسی میں بھی نہیں پائ جاتیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے :

( میں علم کا شہراورعلی اس کا دروازہ ہیں ) ۔

محدثین کے ہاں یہ حدیث ضعیف بلکہ موضوع درجے کی ہے ، لیکن اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے اس کا وقوع توہے لیکن ہے کذب بیانی ۔

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم :

( قیامت کے روز فقراء کوبٹھا کراللہ تعالی فرماۓ گا : مجھے میری عزت وجلال کی قسم میں نے دنیا کوتم سے اس لیے دورنہیں کیا تھا کہ تم میرے نزدیک حقیر تھے ، لیکن میں نے یہ کام آج کے دن تمہاری قدرومنزلت بڑھانے کے لیے کیا ، میدان محشر میں جا‎ؤجہاں لوگ کھڑے ہیں ان میں سے جس نے بھی تمہیں کوئ ورٹی کا ٹکڑا دے کر یا پھر پانی پلاکر یاپھر خرقہ پہنا کر احسان کیا اسے جنت میں لے جاؤ ) ۔

شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ یہ کذب ہے اہل علم اورمحدثین میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہيں کیا بلکہ یہ باطل اورکتاب وسنت اوراجماع کے خلاف ہے ۔

اوریہ بھی بیان کرتے ہیں کہ :

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھجرت کر کے مدینہ تشریف لاۓ تو بنونجار کی بچیاں دفیں لے کر نکلیں اوروہ یہ اشعار پڑھ رہی تھیں :

ہم پرثنیۃ الوداع سے چودویں کا چاند طلوع ہوا ، شعروں کے آخر تک ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اپنی دفوں کوحرکت دو اللہ تمہیں برکت عطا فرماۓ ۔

خوشی وسرور کے وقت عورتوں کا باتیں اوردف بجانا صحیح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ کام کیا جاتا تھا ، لیکن یہ قول کہ ( دفوں کوحرکت دواورانہیں ہلا‎ؤ )نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےاس کا ثبوت نہیں ملتا ۔

اوریہ روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اے اللہ تونے مجھے میری سب سے محبوب جگہ سےنکالا ہے تومجھے اپنی سب سے محبوب جگہ میں رہائش عطافرما ) ۔

یہ حديث بھی باطل ہے ترمذی وغیرہ نے روایت کی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مکہ کو یہ کہا تھا :

یقینا تومیرے نزدیک احب البلاد یعنی شہروں میں سب سے محبوب ہے ، اور یہ بھی فرمایا : کہ تو اللہ تعالی کے ہاں بھی احب البلاد ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ :

( جس نے میری اورمیرے باپ ابراھیم علیہ السلام کی ایک ہی سال میں زیارت کی وہ جنت میں داخل ہوگا ) ،یہ کذب اورموضوع ہےاہل علم میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا ۔

علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں :

ایک اعرابی نے نمازپڑھی اورٹھونگے مارے یعنی اس میں جلدی کی توعلی رضی اللہ تعالی عنہ اسے کہنے لگے نمازمیں جلدی نہ کر، تووہ اعرابی کہنے لگا : اے علی اگر یہ ٹھونگے تیرا باپ بھی مارلیتا تووہ آگ میں داخل نہ ہوتا ۔

یہ بھی کذب اورجھوٹ ہے ۔

اور جو یہ بیان کرتے ہیں کہ :

عمر رضي اللہ تعالی عنہ نے اپنے باپ کوقتل کیا تھا ۔ یہ بھی کذب وجھوٹ ہے اس لیے کہ ان کے والد تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ہی فوت ہوچکا تھا ۔

اوریہ بھی روایت بیان کی جاتی ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جب آدم علیہ السلام ابھی مٹی اورپانی کے درمیان تھے تومیں نبی تھا اور میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام نہ توپانی اور نہ ہی مٹی تھے ) تویہ الفاظ بھی باطل ہیں ۔

یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے :

غیرشادی شدہ کا بستر آ گ ہے ، آدمی عورت کے بغیر اورعورت مرد کے بغیر مسکین ہے ۔

اس کلام کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتا ۔

اوریہ بھی ثابت نہیں کہ جب ابراھیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تواس کے ہرکونےمیں ایک ہزار رکعت نماز پڑھی تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائ کہ " اے ابراھیم یہ کیا ، بھوک مٹائ جارہی ہے یا کہ پردوپوشی ہے ۔

تویہ بھی ظاہری کذب وجھوٹ ہے اس کا مسلمانوں کی کتب میں وجود تک نہیں ملتا ۔

اورایک یہ روایت بھی بیان کرتے ہیں :

فتنے کوکراھت سے نہ دیکھا کرو کیونکہ اس میں منافقوں کی جڑکا ٹی جاتی ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت اورمعروف نہیں ۔

اوریہ روایت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں :

( میں نے اپنی امت کے گناہ دیکھے توسب سے بڑا گناہ یہ تھا کہ کسی نے آیت سیکھی اوراسے بھلا دیا یہ سب سے بڑا گناہ تھا ) اگر تویہ حدیث صحیح ہوتو اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے آیت سیکھی پھراس کی تلاوت کرنا بھول گيا ۔

اور ایک حدیث کے لفظ ہیں : " میری امت کےگناہوں میں ہے کہ ایک شخص کو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی آیات دیں تووہ اس سے سوگیا حتی کہ وہ اسے بھول گئيں " تونسیان اعراض کے معنی میں ہے کہ اس نے قرآن مجید سے اعراض کرلیا اس پرایمان نہ لایا اور عمل بھی نہ کیا ، لیکن اسے پڑھنے میں سستی کرنا ایک گناہ ہے ۔

اوریہ بھی روایت بیان کرتے ہیں :

" قرآن مجید میں ایک ایسی آیت ہے جو محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بہتر ہے ، قرآن مجید اللہ تعالی کانازل کردہ کلام ہے مخلوق نہیں کس دوسرے سے تشبیہ نہی دی جاۓ گی " مذکورہ الفاظ ثابت اورماثور نہیں ہیں ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے :

( جس نے علم نافع حاصل کیا اور اسے مسلمانوں سے چھپایاتواللہ تعالی قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہناۓ گا ) ۔

سنن میں اس معنی کی حدیث معروف ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جس سے کسی علم کا سوال کیا گيا اوروہ اس کا علم رکھتے ہوۓ بھی چھپاۓ توقیامت کے دن اللہ تعالی اسے آگ کی لگا ڈالے گا ) ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے :

( جب تم میرے صحابہ ميں پیدا ہوۓ اختلاف تک پہنچو تو وہیں رک جاؤ اور کچھ نہ کہو ، اور جب قضاء و قدر کے مسئلہ میں آؤ‎ توپھر بھی خاموشی اختیار کرلو) ۔

یہ منقطع اسناد کے ساتھ معروف ہے ۔

یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے فرمایا اوروہ دو دو انگور کھا رہے تھے ۔ تو اس روایت میں دو دو کا کلمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کلام نہیں بلکہ یہ باطل ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے :

( جس نے کسی عورت سے زنا کیا اوراس سے بیٹی پیدا ہوئ‏ توزانی اپنی زنا کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہے ) یہ قول بعض غیرشافعیوں کا ہے ، اوربعض نے اسے شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے ، کچھ شافعی اس کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ : اس کی حلت کی تصریح نہیں کی لیکن رضاعت میں اس کی صراحت کی ہے مثلا :

جب بچی نے زنا کے حمل والی عورت کا دودھ پیا ، اور عام علماء یعنی احمد اور ابوحنیفہ وغیرہ رحمہم اللہ اس کی حرمت پرمتفق ہیں ، اورامام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی صحیح قول ہے ۔

اوریہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے :

سب سے حق اوراچھی اجرت کتاب اللہ پراجرت لینا ہے ۔

جی ہاں یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ سب سے اچھی اجرت کتا ب اللہ کی ہے ، لیکن یہ حدیث رقیہ میں یعنی دم کرنے والی حدیث میں ہے اوریہ معاوضہ اس قوم کے مریض کی عافیت اور صحیح ہونے پر تھا نہ کہ تلاوت کرنے پر ۔

اورجو یہ روایت بیان کی جاتی ہے :

( جس کسی نے ذمی پر ظلم کیا اس کی طرف سے اللہ تعالی جھگڑا کرے یا میں قیامت کے دن اس کا مقدمہ لڑوں گا )

یہ روایت ضعیف ہے ، لیکن یہ معروف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کسی نے کسی معاھد کوناحق قتل کیا وہ جنت کی راحت حاصل نہیں کرسکے گا ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے :

( جس کسی نے مسجد میں چراغ جلایا توجب تک مسجد میں اس کی روشنی رہے گی فرشتے اور عرش اٹھانے والے اس کی بخشش کی دعا کرتے رہیں گے ) میرے علم میں اس کی کوئ سند نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے ۔ .

دیکھیں : الفتاوی الکبری ( 5 / 88 - 93 )
Create Comments