Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
140246

روزہ ركھنے سے كاہلى اور وزن ميں كمى پيدا ہوتى ہو تو كيا روزہ نہ ركھے

ميں تئيس برس كى ہوں اور عمر كے اعتبار سے ميرا وزن بہت كم ہے يعنى صرف پچاس كلو گرام، ميں بہت سارے ڈاكٹروں كے پاس گئى ہوں انہوں نے جواب ديا كہ وزن كى كمى ايك طبعى چيز ہے اور مجھے كوئى بيمارى لاحق نہيں، ميرا سوال روزوں كے متعلق ہے:
جب ميں روزہ ركھتى ہوں روزے كى ابتدا ميں ہى مجھے بہت كاہلى اور پياس كا سامنا كرنا پڑتا ہے اور منہ خشك ہو جاتا ہے اور اس طرح ميرے وزن ميں اور كمى ہوتى ہے، اس بنا پر والدہ كہتى ہے كہ تم روزے نہ ركھو ليكن ميں اس رائے ميں راحت محسوس نہيں كرتى.
مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں روزہ ركھ كر ميں گھرميں ليٹى رہتى ہوں اور چلنے كى بھى سكت نہيں ہوتى والدہ كہتى ہے كہ تم بيمار كے حكم ميں ہو روزہ نہ ركھو ليكن ميں اس سے متفق نہيں كيا يہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ و تعالى نے مريض كو رمضان المبارك ميں روزہ چھوڑنے كى رخصت ديتے ہوئے فرمايا ہے:

{ اور جو كوئى مريض ہو يا مسافر تو وہ دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرے، اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى كرنا چاہتا اور تمہارے ساتھ تنگى نہيں كرنا چاہتا }البقرۃ ( 185 ).

ايسے شخص كو بھى مريض كے ساتھ ہى ملحق كيا جائيگا جسے روزہ ركھنے كى بنا پر مرض لاحق ہو جائے، جيسا كہ اس كى تفصيل سوال نمبر ( 12488 ) كے جواب ميں بيان كى جا چكى ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" وہ بيمارى روزہ چھوڑنے كے ليے مباح سبب بنےگى جو شديد ہو اور روزہ ركھنے اس بيمارى ميں اضافہ ہو جائے يا پھر شفايابى ميں تاخير كا باعث بنے.....

اور وہ صحيح شخص جسے خدشہ ہوكہ روزہ ركھنے سے بيمار ہو جائيگا، مثلا وہ مريض جسے بيمارى كے زائد ہونے كا خدشہ ہو تو اس كے ليے روزہ چھوڑنا مباح ہے؛ كيونكہ مريض كے ليے روزہ چھوڑنا ہى مباح اس ليےكيا گيا ہے كہ كہيں روزہ ركھنے سے بيمارى بڑھ نہ جائے يا لمبى نہ ہو جائے، لہذا بيمارى كى تجديد بھى بيمارى كےمعنى ميں ہى ہوگى " انتہى

ديكھيں: مغنى ابن قدامہ ( 4 / 403 ).

اور بيمارى كا علم تو كسى قابل اعتماد طبيب اور ڈاكٹر كے ذريعہ ہى ہو سكتا ہے، يا پھر اس شخص كے ذاتى تجربہ سے كہ وہ روزہ ركھتا ہو تو روزے كى بنا پر اسے بہت زيادہ مشقت ہوتى ہو، يا پھر روزہ اسے نقصان و ضرر ديتا ہو.

آپ نے سوال ميں بيان كيا ہے كہ آپ كو كوئى بيمارى لاحق نہيں، اور ڈاكٹر حضرات نےآپ كے وزن كى كمى كو طبعى امر قرار ديا ہے نہ كہ مرض كى بنا پر.

اس ليے اگر آپ كو روزہ ركھنے كى بنا پر شديد مشقت ہوتى ہے تو آپ كے ليے روزہ چھوڑنے ميں يہ عذر ہے، اور اگر اتنى مشقت ہو كہ برداشت كر سكتى ہوں اور اس كى عادت بن سكتى ہو تو پھر آپ كے ليے روزہ ركھنا واجب ہے.

مستقل فتوى كميٹى علماء كرام سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ميرى بيٹى بہت ہى كمزور جسم والى ہے اور رمضان المبارك آ رہا ہے اس كى والدہ نے اسے دو برس سے رمضان المبارك كے روزے ركھنےسے منع كر ركھا تھا، اور جب وہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو ماہ كے روزے تھے، ميرا سوال يہ ہے كہ:

كيا اس كى والدہ پر كوئى گناہ تو نہيں كيونكہ اس نے ہى اسے روزے نہيں ركھنے ديے، اور كيا والدہ پر بيٹى كے روزوں كى قضاء ميں روزے ركھنے واجب ہيں ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر يہ بچى كمزورى كى بنا پر روزے نہيں ركھ سكتى تھى تو يہ مريض كے حكم ميں آئيگى، اور رمضان المبارك كے روزے ركھنے سے منع كرنے پر والدہ كو كوئى گناہ نہيں ہوگا، اور اگر بچى كى موت تك يہى حالت تھى كہ وہ روزے ركھنے كى استطاعت نہيں ركھ سكى تو اس كى جانب سے قضاء ميں روزے ركھنا واجب نہيں.

ليكن اگر كمزور ہونے كے باوجود بچى بغير مشقت كے روزے ركھنےكى طاقت ركھتى تھى تو پھر روزے سے منع كرنے كى بنا پر گنہگار ہوگى، اور اس كى جانب سے روزے ركھنا مشروع ہونگے، بہتر يہى ہے كہ قضاء كے روزے والدہ ہى ركھے كيونكہ روزے نہ ركھنےكا سبب والدہ ہى بنى ہے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 376 ).

ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ روزے چھوڑنے سے قبل آپ ايسے اسباب اپنائيں جن كى بنا پر آپ روزہ مكل كرسكنے كى استطاعت ركھ سكيں، مثلا سحرى پابندى سے كھائيں اور سحرى بالكل رات كے آخرى حصہ ميں كى جائے، اور آپ روزے كى حالت ميں كوئى بھى مشقت مت كريں جو آپ كو ضرر دے.

اور آپ نيند اور آرام ضرور كريں، اور اس كے ساتھ ساتھ ليڈى ڈاكٹر سے مشورہ ضرور كريں جو آپ جيسى حالت كا ماہر ہو، ہو سكتا ہے وہ آپ كو ايسى ادويات لكھ دے جو روزے ميں ممد و معاون ثابت ہوں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments