Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
14098

قرضے كى كٹوتى

بعض تاجر حضرات كے گاہكوں كے ذمہ موجل قرضے ہوتے ہيں اور يہ تاجر كسى بنك ميں جاكر بنك كو وہ معاہدہ يا اسٹام اس ميں پائى جانے قيمت سے كم قيمت پر فروخت كر كے رقم حاصل كرتے ہيں اور بنك وقت مقررہ پر ان گاہكوں سے پورى رقم وصول كرتا ہے، اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

بنكارى كے نظام ميں اس معاملہ كو ( قرضوں كى كٹوتى ) كے نام سے موسوم كيا جاتا ہے، اور يہ حرام معاملات ميں سے اور سود كى صورت ميں ميں سے ايك صورت ہے.

كيونكہ وہ مثلا اسٹام يا معاہدہ جس ميں ايك ہزار ہے اور اس كى تاريخ ادائيگى ايك ماہ ہے كو نقد نو سو ميں فروخت كرديتا ہے.

اور يہ سود ہے، بلكہ اس معاملہ ميں تو دو قسم كے سود جمع ہو گئے ہيں ايك تو ادھار كا سود اور دوسرا زيادہ كا سود، يعنى ربا الفضل اور ربا النسيئۃ دونوں ہى جمع ہيں، كيونكہ اس نے نقد اور حاضر كو اسى جنس كے ساتھ ادھار اور زيادہ ميں فروخت كيا ہے.

اور جب دو نقد جنسوں كى نقد كے ساتھ بيع ہو تو مجلس عقد ميں قبضہ واجب اور ضرورى ہے، لہذا اگر دونوں نقد اشياء ايك ہى جنس كى ہوں تو پھر برابرى اور قبضہ ضرورى ہے، جو كہ اس معاملہ ميں نہيں ، اس ليے اس معاملہ ميں برابرى نہ ہونے كى بنا پر رباالفضل ( زيادہ والا سود ) اور قبضہ نہ ہونے كى بنا پر ربا النسيئۃ ( ادھار سود ) جمع ہو گئےہيں.

اس كے بارہ ميں مستقل فتوى كميٹى سے سوال كيا گيا تو اس كا جواب تھا:

( بنك كو كمپيالہ ( معاہدہ نامہ اور بل ) رقم كى ادائيگى كے بدلے ميں فائدہ كے ساتھ فروخت كرنا بائع جو بنك كو دے، اور اسٹام ميں پائى جانے والى رقم كى خريدار سے وصولى بنك كرے سود ہونے كى بنا پر حرام ہے ) اھـ

ديكھيں: فتاوى البيوع ( 352 ).

اور فقہ اكيڈمى كے فيصلوں ميں ہے كہ:

تجارتى اوراق ميں كمى ( كٹوتى ) شرعا ناجائز ہے، كيونكہ يہ سود كى طرف جاتى ہے. اھـ

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments