141208: كيا اپنا بيٹا سمجھتے ہوئے كسى دوسرے بچے كو دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو جاتى ہے ؟


چند برس قبل ميرى خالہ ( ميرے والد كى بيوى ) نے اپنى پڑوسن كے بچے كو اپنا دودھ پلايا حتى كہ وہ سير ہو كر صبح تك سوتا رہا، يہ اس كى دليل ہے كہ بچے نے پيٹ بھر كر دودھ پيا ہے.
سوال يہ ہے كہ: ميرى خالہ نے اسے اپنا بيٹا سمجھ كر دودھ پلايا تھا، كيونكہ دونوں بچے چار ماہ كى عمر اور ايك ہى حجم و جسم كے مالك تھے، اس طرح غلطى سے دوسرے بچے كو دودھ پلا ديا، اور يقينى طور پر دس رضعات سے زائد بار دودھ پلايا ہے اور اس كے گواہ بھى ہيں، كيا غلطى سے بھى دودھ پلانا معتبر شمار ہوگا، برائے مہربانى مكمل وضاحت سے بيان كريں، اور پھر اب تو دونوں ميں بہت قوى مودت و محبت بھى پائى جاتى ہے ؟

الحمد للہ:

اگر كوئى عورت كسى بچے كو دو برس كى عمر ميں پانچ رضعات يعنى پانچ بار دودھ پلا دے تو وہ اس كى رضاعى ماں بن جائيگى، اور اس عورت كا خاوند اس بچے كا رضاعى باپ اور اس شخص اور عورت كى سارى نسب اور رضاعى اولاد اس بچے كے رضاعى بہن بھائى بن جائينگے.

رضاعت سے ثابت شدہ حرمت كے ليے يہ شرط نہيں كہ عورت كسى كو قصدا دودھ پلائے، يا كوئى بچہ قصدا دودھ پيئے يا پھر يہ عورت كو اپنے بچے كا علم ہونا ضرورى ہو.

علماء كرام نے رضاعت كے احكام ومسائل ميں اسے مسائل بيان كيے ہيں جن سے يہ حكم ملتا ہے.

علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ اگر كوئى دودھ پيتى بچى رينگتى ہوئى كسى سوئى ہوئى عورت كے پاس جا كر اس كا دودھ پى لے تو اس سے ممتا ثابت ہو جائيگى، اور رضاعت كے احكام ثابت ہو جائينگے "

آپ مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے المغنى ( 11 / 333 ) اور تحفۃ المحتاج ( 3 / 492 ) كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر آپ كے باپ كى بيوى اس بچے كى رضاعى ماں بن جائيگى، اور آپ كا والد اس بچے كا رضاعى باپ بن جائيگا، اور آپ كى اس كى رضاعى بہن بن جائيگى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments