Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
14253

رمضان ميں شيطان قيد كر دينے كے باوجود جمائى آنا، اور ٹيلى ويژن پر حرام تصاوير نشر كرنا

معروف يہ ہے كہ رمضان المبارك ميں شيطان جكڑ ديے جاتے ہيں، اور جمائى شيطان كى جانب سے ہوتى ہے.... تو پھر ہميں رمضان ميں جمائي كيوں آتى ہے ؟
اور يہ بھى معروف ہے كہ انسان كى تصوير حرام ہے، تو كيا ٹيلى ويژن پر تصاوير نشر كرنا حرام ہونگى ؟

الحمد للہ:

صحيح بخارى اور مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يقينا اللہ سبحانہ و تعالى كو چھينك پسند ہے، اور جمائى ناپسند ہے، اس ليے تم ميں سے جب كوئى چھينك لے اور الحمد للہ كہے تو ہر مسلمان جس نے اسے سنا ہو وہ يہ كلمات كہے:

يرحمك اللہ اللہ تعالى آپ پر رحم كرے.

اور جمائى لينا شيطان كى جانب سے ہے، اس ليے جب تم ميں سے كسى شخص كو جمائى آئے تو وہ اسے اپنى استطاعت كے مطابق روكے؛ كيونكہ جب تم ميں سے كوئى شخص جمائى ليتا ہے تو شيطان اس سے ہنستا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6226 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2994 ).

اس كى شرح ميں كہا گيا ہے:

شيطان يہ پسند كرتا ہے كہ انسان كو جمائى ليتا ہوا ديكھے، اور اسے يہ اچھا لگتا ہے؛ كيونكہ يہ وہ حالت ہے جس ميں انسان كى شكل بدل جاتى ہے، جس سے شيطان ہنسنے لگتا ہے، اور اس سے يہ مراد نہيں كہ جمائى شيطان نے كا فعل ہے.

اور ايك قول يہ بھى ہے:

جمائى كى شيطان كى طرف نسبت اس ليے كى گئى ہے كہ جمائى اس وقت آتى ہے جب انسان كا پيٹ بھرا ہوا ہو، اور اس سے سستى و كاہلى پيدا ہوتى ہے؛ اور يہ شيطان كے اثر سے ہوگى.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جمائى كى نسبت شيطان كى طرف سے اس ليے كى گئى ہے كہ شيطان شہوات كى طرف دعوت ديتا ہے، اور يہ بدن كے بھارى ہونے اور اس كے ڈھيلے اور بھر جانے سے ہوتا ہے، اور اس سے مراد يہ ہے كہ اس سے اجتناب كيا جائے جو اس كا سبب بنتا ہے، اور وہ زيادہ كھانا ہے.

اور المناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" شيطان كى طرف اس كى نسبت اس ليے كى گئى ہے كيونكہ يہ يہ نفس كو شہوت كى حصہ دينے كا باعث ہے، اور اس سے مراد يہ ہے كہ ان اسباب سے اجتناب كيا جائے جس كى بنا پر يہ جمائى آتى ہے اور وہ زيادہ كھانا، اور پيٹ بھر كر سير ہو كر كھانا پينا ہے جس كى بنا پر بدن اطاعت كرنے سے بوجھل ہو جاتا ہے اور پيچھے رہتا ہے"

اور رمضان المبارك ميں بندے كو جمائى آنے اور شيطان كے جكڑے ہونے ميں كوئى اشكال نہيں؛ كيونكہ اس قول كى بنا پر كہ شيطان اسے پسند كرتا ہے، اور اسے جمائى اچھى لگتى ہے، اور وہ اس پر راضى ہوتا ہے، تو شيطان كى محبت و اسے پسند كرنے كے ليے يہ شرط نہيں كہ شيطان كھلا ہوا ہو، بلكہ يہ تو اس حالت ميں بھى ہو سكتى ہے جبكہ شيطان جكڑا ہوا ہو.

اور اس قول كے مطابق كہ: يہ شيطانى تاثير كى بنا پر ہے جو كہ بلاواسطہ شيطان كى تاثير سے ہوتى ہے، يا پھر بالواسطہ تاثير سے ہوتى ہے، اس كے متعلق يہ كہا گيا ہے كہ: رمضان المبارك ميں جنہيں قيد كيا جاتا اور جكڑا جاتا ہے وہ سركش اور بڑے بڑے شيطان ہوتے ہيں، ليكن ان كے علاوہ باقى اپنى حالت ميں ہى رہتے ہيں، ہو سكتا ہے جمائى ان كى جانب سے ہو جنہيں جكڑا نہيں گيا.

اور اس قول كى بنا پر كہ: شيطان جكڑے جانے سے مراد ان كا گمراہ كرنا، اور مومنوں كو شر و برائى ميں لگانے ميں باقى مہينوں كى بنسبت اس ماہ مبارك ميں كمى پيدا ہو جاتى ہے، اس ليے ہو سكتا ہے جمائى ان كے اس قليل تصرف ميں شامل ہوتى ہو جو رمضان المبارك ميں وہ كر سكتے ہيں.

رمضان المبارك ميں شيطانوں كے جكڑے جانےكى شرح كے متعلق مزيد تفصيل سوال نمبر ( 39736 ) ميں ديكھ سكتے ہيں، اور شيطانوں كے جكڑے ہونے كے باوجود رمضان المبارك ميں برائياں كس طرح ہوتى ہيں كا جواب ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 37965 ) كا مطالعہ كريں.

اور ٹيلى ويژن ميں تصاوير نقل كرنے كے متعلق سوال كا جواب آپ سوال نمبر ( 10326 ) ميں ديكھ سكتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments