14392: اس کی بہن پیدائشی طور پر دماغ میں نقص کی بنا پر فوت ہو گئی اس کا ٹھکانہ کیا ہے


میری بہن پیدا ہوئی تو اس کے دماغ میں نقص تھا اس کے باوجود اس کی عمر سولہ سال تک پہنچی لیکن وہ پڑھنے اور لکھنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی اور مہینے پہلے فوت ہوئی ہے میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ جنت میں گئ ہے یا کہ جہنم میں ؟

الحمدللہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے بعد :

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی اس پر رحم کرے اور اس کو اور آپ کو نعمتوں والی جنتوں میں اکٹھا کرے – آمین

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے :

( ہر پیدا ہونے والا فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین چاہیں تو اسے یہودی بنا دیں یا عیسائی بنا دیں اور یا پھر مجوسی بنا ڈالیں )

صحیح بخاری حدیث نمبر (1296) صحیح مسلم حدیث نمبر (4803)

اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : سوۓ ہوئے سے حتی کہ بیدار ہو جائے اور بچے سے حتی کہ وہ بڑا ہو جائے، مجنون سے حتی کہ وہ عقل مند یا اس سے پاگل پن چلا جائے )

اسے اصحاب سنن نے روایت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء میں حدیث نمبر 297 صحیح کہا ہے ۔

تو جو پیدائشی طور پر بے عقل یا دماغی نقص ہو اور اس کے والدین مسلمان ہوں تو وہ ان کے تابع ہونے کی بناء پر مسلمان ہے ۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا قول ہے :

(اور مجنون بھی بچے کے حکم میں ہے اگر اس کے والدین مسلمان ہوں تو مسلمانوں کے اتفاق سے وہ ان کے تابع ہونے کی بناء پر مسلمان ہے اور اسی طرح اگر اس کی والدہ مسلمان ہو تو جمہور علماء مثلا ابو حنیفہ ، شافعی، اور احمد کے نزدیک مسلمان ہو گا۔

اور ایسے ہی وہ شخص جو کہ اسلام لانے کے بعد مجنون ہو جائے اسے والدین کے تابع ہونے کی بناء پر مسلمان ہی ثابت کیا جائے گا اور ایسے ہی مجنون بھی جو کہ مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوا ہو اس پر بھی والدین کے اور یا پھر اہل دیار کے تابع ہونے کی بناء پر ظاہر اسلام کا حکم لگایا جائے گا جیسا کہ بچوں کا حکم ہے نہ کہ ان کے ایمان کی وجہ سے اور مسلمانوں کے بچے اور مجنون قیامت کے دن ان کے والدین کے تابع ہوں گے )

مجموع الفتاوی 10 / 437

ابن حزم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ:

( اور وہ مجنون جو کہ بے عقل ہو حتی کہ انہیں موت آ جائے تو جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ ملت حنیفی، مومن ، پیدا ہوئے ہیں نہ تو وہ تبدیل ہوئے اور نہ ہی ان میں کوئی تغیر ہوا اور اسی حالت میں وہ مرے تو وہ مومن اور جنتی ہیں ) الفضل 4/ 135

اگر تو آپ کی ہمشیرہ بے عقل اور تمیز نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی وہ عبادت کا معنی اور اسے ادا کرنے کا طریقہ پا سکتی تھی تو اس سے قلم اٹھا لیا گیا اور وہ فطرت (اسلام ) پر ہے – ہم اس کے لۓ جنت کی امید کرتے ہیں- اور پھر ہم کسی معین شخص کے لۓ جنت کی ‏گواہی نہیں دیتے سواۓ اس کے جس کی گواہی نبی نے دی ہو-

لیکن اگر وہ عقل رکھتی اور پہچان اور تمیز کر سکتی تھی تو سب مکلفین کی طرح وہ مکلف ہے بلوغت کے بعد جو کچھ اس نے عمل کۓ ان کا بدلہ دیا جائے گا اور اسی طرح اگر بعض اوقات اسے افاقہ اور بعض اوقات جنون کا دورہ پڑتا تھا تو اسے ان اعمال پر جو فاقہ کے وقت کۓ ہیں جزا وسزا ہو گی ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments