Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
145412

بچوں كے ساتھ نماز ادا كرنے كى غرض سے گھر ميں نماز ادا كرنا

ہمارے گھر كے قريب مسجد ہے جس ميں ہم روزانہ نماز پنجگانہ ادا كر سكتے ہيں، ليكن ہفتہ كے آخر ميں چھٹى كے دن اور جمعہ ادا كرنے ميں قريب ترين مسجد جاتا ہوں, ميرا ايك بيٹا ہے جس كى عمر سولہ برس ہے وہ اكثر نماز كى پابندى نہيں كرتا.
اور نماز بھى اس وقت ادا كرتا ہے جب اسے بار بار كہا جائے اور اور اس كا پيچھا كيا جائے، اور بعض اوقات تو تجاہل سے كام ليتا ہے، اسى طرح ہمارے ساتھ ميرى بيوى كا بھائى بھى رہتا ہے جو يونيورسٹى ميں زير تعليم ہے، جب ميں گھر ميں ہوتا ہوں تو گھر ميں ہى نماز پڑھانے كى كوشش كرتا ہوں تا كہ بيٹا اور اس ماموں بھى نماز ادا كر ليں، اور اسى طرح بيوى اور ميرى دونوں بيٹياں بھى وقت پر نماز ادا كريں.
ميرا سوال يہ ہے كہ:
اول:
گھر كے نزديك مسجد نہ ہونے كى صورت ميں گھر ميں ہى نماز ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟
دوم:
مسجد كى بجائے گھر ميں نماز باجماعت ادا كرنے كا حكم كيا ہے تا كہ يقين كيا جا سكے كہ گھر كے افراد نے بھى نماز ادا كر لى ہے ؟
سوم:
مجھے علم ہے كہ والدين كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اپنے بچوں كو دينى تعليم ديں، اور اللہ سبحانہ و تعالى كے احكام كى پابندى كا التزام كروائيں، ميں يہ پوچھنا چاہتا ہوں كہ آيا كوئى ايسى عمر ہے جس كے بعد والدين بچے كى ذمہ دارى سے سبكدوش ہو جاتے ہيں ؟
اللہ سبحانہ و تعالى ہميں اور سب كو سيدھى راہ كى توفيق عطا فرمائے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اول:

ہر مسلمان بالغ شخص جو آذان سنے اسے نماز باجماعت مسجد ميں جا كر ادا كرنا فرض ہے.

اذان سننے كا مقصد يہ ہے كہ انسان عام آواز سے اور بغير كسى لاؤڈ اسپيكر كے مؤذن كى بلند آواز كے ساتھ دى گئى اذان سنے، اور فضاء ميں بالكل سكون ہو شور وغيرہ نہ ہو جو سماعت پر اثرانداز ہو سكے.

يہ تو نماز پنچگانہ باجماعت ادا كرنے كے متعلق ہے، ليكن جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو شہر يا بستى ميں رہتا ہو جہاں جمعہ ادا كيا جاتا ہو، چاہے وہ اذان سنے يا نہ سنے، اور چاہے شہر كتنا بھى بڑا ہو.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 89676 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اس بنا پر اگر آپ كے گھر سے مسجد اتنى دور ہے كہ آپ آذان نہيں سنتے تو آپ پر مسجد ميں جانا واجب نہيں اس صورت ميں آپ اپنے گھر والوں كے ساتھ مل كر جماعت كروا سكتے ہيں.

ليكن اگر آپ اذان سنتے ہيں تو پھر آپ كو مسجد ميں جا كر نماز باجماعت ادا كرنا ہوگى، اور افراد خانہ نماز ادا كرتے ہيں يا نہيں اسے ديكھنے كے ليے آپ كا مسجد ميں جا كر نماز باجماعت ادا نہ كرنا جائز نہيں ہوگا.

كيونكہ ايسا كرنے ميں كسى دوسرے كى بنا پر واجب و فرض ترك كيا جا رہا ہے، جس كى تحقيق كسى دوسرے طريقہ سے بھى ہو سكتى ہے كہ مسجد ميں نماز باجماعت ادا كر كے گھر آ كر انہيں نماز كى ادائيگى كا پوچھ ليا جائے.

سوم:

جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ مكلف اور ذمہ دار بن جاتا ہے اس سے شرعى احكامات كے بارہ ميں باز پرس كى جائيگى، ليكن اس سے والدين كا اپنے بچے كو وعظ و نصيحت كرنے كا واجب ساقط نہيں ہو جائيگا.

جب بچہ والدين كے ساتھ رہتا ہے تو بچے كو احسن طريقہ سے نيكى كا حكم ديا جائے اور اسے برائى سے منع كيا جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے افراد خانہ كو جہنم كى اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، جس پر ايسے شديد اور سخت فرشتے مقرر ہيں جو اللہ كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے، اور وہ وہى كچھ كرتے ہيں جو انہيں حكم ديا جاتا ہے }التحريم ( 6 ).

اور حديث ميں بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ سے ثابت ہے كہ والدين ذمہ دار ہيں:

عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سب سے تمہارى ذمہ دارى اور رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا تم اس كے جوابدہ ہو، حكمران اپنى رعايا كا ذمہ دار ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا وہ اس كا جوابدہ ہے، اور مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا، اور عورت اپنے خاوند كے گھر كى ذمہ دار ہے اس سے اس كى رعايا اور ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 853 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1829 ).

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى جس بندے كو بھى اپنى رعايا كا حكمران بناتا ہے اور وہ اس حالت ميں مرے كہ اس نے اپنى رعايا كے ساتھ دھوكہ كيا ہو تو اللہ تعالى اس پر جنت كو حرام كر ديتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6731 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 142 ).

اس ذمہ دارى اور مسؤليت ميں يہ بھى شامل ہے كہ:

والد اپنے گھر ميں كوئى برائى والى چيز داخل مت كرے اور اگر بچہ گھر ميں لے آئے تو وہ اسے گھر ميں ركھنے كى اجازت مت دے، مثلا اگر كوئى بچہ فحش اور بےحيائى والى چينل گھر ميں لگوانا چاہے تو والد پر واجب ہے كہ وہ ايسا نہ كرنے دے.

كيونكہ يہ كام اس كے گھر ميں ہو گا جس كا ذمہ دار والد ہے، اور اس نے كل قيامت كے دن اس كا جواب دينا ہے اور اگر بچہ اپنے والدين سے عليحدہ اپنے گھر ميں منتقل ہو جاتا ہے تو وہ جو چاہے كرتا پھرے اور اس حالت ميں والد اچھے طريقہ سے وعظ و نصيحت كرے.

اللہ تعالى سے ہم دعا گو ہيں كہ وہ آپ كو سيدھى راہ كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments