145619: مہر يا رہائش اور گھر بيوى يا ولى كے ذمہ ڈالنا خلاف شرعا رواج ہے


ميں ہندوستان كے جس علاقے ميں رہائش پذير ہوں وہاں كے رواج كے مطابق لڑكى كا والد لڑكى كے ليے مكان بنا كر لڑكى كے نام لگوا كر بيٹى كى شادى كرتا ہے، اور خاوند بيوى شادى كے بعد اسى مكان ميں رہتے ہيں، قانون نے بھى يہ مكان لڑكى كا حق تسليم كيا ہے، اس ليے اگر خاوند بيوى كو طلاق ديتا ہے تو وہ اس گھر كا مطالبہ نہيں كر سكتا.
عنقريب ميرى منگنى ہونے والى ہے، ليكن ميں جس لڑكى سے منگنى كر رہا ہوں اس كے پاس گھر نہيں ہے، اس وجہ سے ميرے والد صاحب اس كے متعلق سوچ و بچار كر رہے ہيں كيونكہ ان كے خيال كے مطابق لڑكى مستقبل كوئى مامون نہيں ہوگى، اس كا نتيجہ ميرے خلاف نكل سكتا ہے، اسى ليے والد صاحب ميرے سسر كو كہنا چاہتے ہيں كہ لڑكى كے ليے گھر تيار كروايا جائے تا كہ منگنى اور شادى كى تكميل ہو.
ليكن ميں نے والد صاحب سے عرض كى ہے كہ جب خاوند نے مہر ادا كرنا ہے، اور اسى كے ذمہ گھر كى تيارى اور رہائش كى ذمہ دارى ہے تو پھر ہم سسرال والوں پر طاقت سے زيادہ كيوں بوجھ ڈاليں وہ اس طرح كى اشياء تيار كريں، ليكن اگر وہ خود اپنى مرضى سے كچھ كريں تو اس ميں كوئى حرج نہيں.
اس كى دليل اللہ رب العزت كا يہ فرمان ہے:
{ اور تم عورتوں كو ان كے مہر خوشدلى سے ادا كرو، اور اگر اس ميں سے وہ كچھ تمہارے ليے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائيں تو اسے كھا لو اس حال ميں كہ مزے دار و خوشگوار ہے }النساء ( 4 ).
ليكن مشكل يہ درپيش ہے كہ ميرے والد صاحب ہى نہيں بلكہ پورا معاشرہ ہى اسے حتمى حق تصور كرتا ہے كہ لڑكے كا والد لڑكى كے والد سے يہ ضرور مطالبہ كرے، برائے مہربانى جتنى جلدى ہو سكے اس كے متعلق شرعى حكم كى وضاحت فرمائيں ؟

الحمد للہ:

مہر بيوى كا اپنے خاوند كے ذمہ حق ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم عورتوں كو ان كے مہر خوشدلى سے ادا كرو، اور اگر وہ اس ميں سے تمہارے ليے كچھ چھوڑنے كے ليے دل سے راضى ہو جائيں تو تم اسے كھا لو اس حال ميں كہ مزے دار اور خوشگوار ہے }النساء ( 4 ).

امام طبرى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

" اس سے اللہ سبحانہ و تعالى يہ مراد لے ہيں كہ: تم عورتوں كو ان كے مہر ادا كرو، يہ مہر واجب اور فرض كردہ عطيہ ہے جس كى ادائيگى لازم ہے "

اور ان كا كہنا ہے: قتادہ رحمہ اللہ اس آيت كے متعلق كہتے ہيں:

{ اور تم عورتوں كو ان كے مہر خوشدلى سے ادا كرو }.

يعنى يہ فرض ہے، اور ابن جريج كہتے ہيں:

{ اور تم عورتوں كو ان كے مہر خوشدلى سے ادا كرو }. يہ مقرر كردہ فريضہ ہے.

اور ابن زيد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

{ تم عورتوں كو ان كے مہر خوشدلى كے ساتھ ادا كر دو} .

عرب كى كلام ميں النحلۃ واجب كو كہتے ہيں " انتہى

ديكھيں: تفسير الطبرى ( 4 / 241 ).

اس ليے بيوى يا اس كے ولى اسے لازم كرنا جائز نہيں؛ ليكن اگر بيوى مہر لے كر كچھ خاوند كو ہبہ كر دے يا پھر بيوى اپنے مال ميں كچھ خاوند كو عطيہ كر دے تو يہ جائز ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور اگر وہ تمہارے ليے اس ميں سے كچھ چھوڑنے پر دل سے راضى ہو جائيں تو تم اسے كھا لو اس حال ميں كہ وہ مزے دار و خوشگوار ہے }.

رہائش بيوى كا حق ہے جو كہ خاوند كى ذمہ دارى ہے، اس ليے خاوند اپنى استطاعت و قدرت كے مطابق بيوى كے ليے رہائش كا انتظام كرنا چاہيے، اور يہ واجب كردہ نفقہ ميں شامل ہوتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم انہيں ( بيويوں كو ) وہاں رہائش دو جہاں تم خود رہتے ہو اپنى استطاعت كے مطابق }الطلاق ( 6 ).

يہ تو اس عورت كا حق ہے جسے طلاق دى گئى ہے؛ ليكن جو عورت ابھى نكاح ميں ہے اس كى رہائش تو بالاولى واجب ہو گى؛ اور اس ليے بھى كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے خاوند اور بيوى پر آپس ميں حسن معاشرت كا حكم ديا ہے، جيسا كہ بيان ہو چكا ہے، اور يہ چيز معروف ہے كہ خاوند اپنى بيوى كو ايسے گھر اور رہائش ميں ركھے جہاں اس كى جان و مال محفوظ ہو اسے كوئى خطرہ نہ ہو.

اسى طرح لوگوں كى آنكھوں سے چھپنے اور اپنے مال كو محفوظ ركھنے كے ليے اور خاوند سے فائدہ حاصل كرنے كے ليے بھى اسے رہائش اور گھر كى ضرورت اس كے بغير نہيں رہ سكتى، اس ليے خاوند كے ذمہ رہائش واجب ہوگى.

لہذا جو بات مہر كے متعلق كہى جائيگى وہى رہائش كے متعلق بھى ہے، اس ليے رہائش عورت كے ولى يا عورت كے ذمہ نہيں ڈالى جائيگى.

اس ليے جب بيوى رہائش عطيہ نہيں ديتى تو رہائش مہيا كرنے كا بيوى سے مطالبہ كرنے كى وجہ نہيں ہے، اس ليے آپ كو چاہيے كہ اپنے والد كے سامنے اسے بيان كريں، اور آپ مخالف شريعت اس رواج اور عادت كو تسليم مت كريں، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مرد كو عورت پر نگران بنايا ہے اور اس كے اسباب يہ ہيں كہ:

خاوند اپنى بيوى پر خرچ كرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ مرد عورتوں پر نگران ہيں، اس وجہ سے كہ اللہ نے ان كے بعض كو بعض پر فضيلت عطا كى ہے، اس وجہ سے كہ انہوں نے اپنے مالوں سے خرچ كيا }النساء ( 34 ).

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 45527 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments