147889: بيوى سے كہا: اگر تم نے اس موضوع پر بات كى تو يہ ہمارے درميان آخرى چيز ہو گى.. نيت ميں شك ہے


ميرا بيوى كے ساتھ جھگڑا ہوا اور ميں نے اللہ كى قسم اٹھاتے ہوئے كہا: اگر تم نے دوبارہ اس موضوع پر بات كى تو يہ ہمارے مابين آخرى چيز ہوگى، پھر كچھ دير بعد ميں نے اپنے آپ سے سوال كيا كہ ميرے اور بيوى كے مابين آخرى چيز كيا ہو گى طلاق تو مجھے خوف محسوس ہونے لگا.
پھر كچھ دير بعد بيوى نے بات كى تو ميں نے اسے چپ كر ديا اور كہا ميں نے قسم اٹھائى تھى كہ تم اس موضوع پر بات نہيں كروگى، چنانچہ وہ چھوڑ كر ڈرائينگ روم ميں چلى گئى، اور ميں نے كہا طلاق واقع ہو گئى، جب ميرا غصہ ٹھنڈا ہوا تو ميں نے سوچا آيا ميں نے طلاق كا قصد كيا تھا يا كہ اپنى اس كلام سے بيوى كو بات كرنے سے روكنا چاہا تھا.
لہذا ميرے اندر يہ بات بيٹھ گئى كہ ميں نے اسے روكنا چاہا تھا اور طلاق كا كوئى ارادہ نہ تھا، اس ليے اپنے علم كے مطابق ميں نے اسے طلاق شمار نہ كيا، كيونكہ طلاق نيت كے ساتھ واقع ہوتى ہے، برائے مہربانى مجھے اس كے متعلق معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

آپ كا اپنى بيوى كو " اللہ كى قسم اگر تم نے اس موضوع پر دوبارہ بات تو يہ ہمارے درميان آخرى چيز ہو گى " كہنا يہ طلاق كے صريح الفاظ ميں شامل نہيں ہوتے، بلكہ يہ كنايہ كے الفاظ ميں شامل ہوتے ہيں جو طلاق كے معانى پر محتمل ہو سكتے ہيں اور اس كے علاوہ دوسرے معانى پر بھى.

كنايہ كےالفاظ ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ اس سے نيت كے بغير طلاق واقع نہيں ہوتى، چاہے يہ جھگڑے يا غصہ كى حالت ميں ہى ہو، راجح يہى ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 136438 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اس بنا پر جب آپ نے ان الفاظ كى ادائيگى كے وقت طلاق كا ارادہ نہيں كيا تو طلاق واقع نہيں ہوئى.

اور اگر آپ نے ان كلمات كى ادائيگى كے وقت طلاق كى نيت كى تھى تو بيوى كے اس موضوع پر دوبارہ بات كرنے كى صورت ميں ايك طلاق واقع ہو جائيگى، اور اگر اس نے كوئى بات نہ كى تو طلاق واقع نہيں ہوئى.

جس نے طلاق كے كنايہ والے الفاظ بولے اور پھر اسے شك ہو كہ آيا اس نے طلاق كى نيت كى تھى يا نہيں تو طلاق واقع نہيں ہوگى؛ كيونكہ اصل ميں طلاق نہيں ہے.

اس ليے كہ آپ كى نيت كے وجود ميں شك ہے، بلكہ غالب يہى ہے كہ آپ نے طلاق كى نيت نہيں كى تھى تو اس سے طلاق واقع نہيں ہوئى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments