Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
1528

ھلال ( چاند ) کوشعاراورعلامت بنانا

مسلمانوں کے ہاں چاند اورستارہ کس چیز کی علامت ہے ؟
میں نے انٹرنیٹ پرآپ کی ویپ سائٹ پر اوراپنی لائـبریری میں موجود مراجع میں اسے تلاش کرنے کی جستجو کی لیکن مجھے اس کے متعلق سواۓ عثمانی دورحکومت کی علامت کے اشارہ کے کچھ نہیں ملا، آپ کے اس اھتمام پرمیں مشکورہوں ۔

الحمد للہ
چانداورستارہ مسلمانوں کی علامت بنانے کی شریعت اسلامیہ میں کوئ اصل نہیں اور نہ ہی یہ دورنبوي اورخلفاء راشدین کے دور میں معروف تھا ، بلکہ بنو امیہ کے دورمیں بھی موجود نہیں تھا ، یہ توان ادوار کے بعدکی پیدوار ہے ، مؤرخین اس بارہ میں اختلاف کرتے ہیں کہ اس کی ابتدا کب اورکیسے ہو‏ئ اورکس نے اسے شروع کیا ۔

ایک قول تو یہ ہے کہ یہ فارسیوں نے شروع کیا ، اوریہ بھی کہا جاتا ہےکہ اسے شروع کرنے والے اغریق تھے اوربعد میں یہ کچھ حادثات میں مسلمانوں میں منتقل ہوا ۔ دیکھیں : الترتیب الاداریۃ للکتانی ( 1 / 320 ) ۔

اوراس کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہےکہ جب مسلمانوں نے مغربی ممالک کوفتح کیا توان کے کنیسوں میں صلیب لٹک رہی تھی تومسلمانوں نے اس صلیب کے بدلہ میں ھلال رکھ دیا تواس بنا پریہ لوگوں میں منتشر ہوگیا ۔

سبب جوبھی ہو معاملہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے جھنڈے اورشعار سب کے سب شریعت اسلامیہ کے موافق ہونے ضروری ہیں ، اورجب کہ ھلال کر شعار ہونے پرکوئ شرع دلیل نہیں ملتی تواس میں اولی اوربہتر یہ ہے کہ اسے ترک کردیا جاۓ ، لھذا چاند اور ستارہ مسلمانوں کی علامت وشعارنہيں اگرچہ اسے بعض لوگوں نے اپنا بھی رکھا ہے ۔

اوررہا مسئلہ چاند ‎ستاروں میں اعتقاد کا تومسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ذاتی طور پرنہ توکسی کونفع دے سکتے اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں اورنہ ہی زمینی احداث میں ان کی کو‏ئ تاثير ہی ہے ، یہ تو صرف اللہ تعالی نے بشروانسان کے فائدہ کے لیے پیدا فرمائيں ہيں ، اسی کو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

{ آپ سے ھلال کے بارہ میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیۓ یہ تولوگوں کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہیں } البقرۃ ( 189 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس کے بارہ میں نقل کرتے ہیں :

وہ اس سے اپنے دین کی حلتیں اورعورتوں کی عدت اوراپنے حج کا وقت معلوم کرتے ہیں ، اللہ تعالی نے اسے مسلمانوں کے روزے رکھنے اورعیدالفطر اور ان کی عورتوں کی عدت معلوم کرنے کا وقت بنایا ہے ۔ تفسیر ابن کثیر ۔

اورامام قرطبی رحمہ اللہ تعالی اس آيت کی تفسیرمیں کہتےہیں :

چاند میں کمی و بیشی کی حکمت کی وجہ کا بیان یہ ہے کہ اس اشکال کا خاتمہ ہے جواوقات و معاملات اور قسموں اورحج اور گنتی اورروزوں اور عیدالفطر اورمدت حمل اورکراۓ وغیرہ کی مدت میں پیدا ہوتا ہے اوراس کے علاوہ اوراشیاء میں بھی جس میں انسان کی مصلحت ہوتی ہے ، اسی قول کی طرح اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا :

{ ہم نے رات اوردن کواپنی قدرت کی نشانیاں بنایا ، رات کی نشانی کوتوہم نے بے نور کردیا اوردن کی نشانی کوروشن بنایا ہے تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور اس لیے بھی کہ سالوں کا شمار اورحساب معلوم کرسکو } الاسراء ( 12 ) ۔

توچاندکوشمارکرنا اورگننا دنوں کوشمار کرنے سے زیادہ آسان ہے ۔ دیکھیں تفسیر قرطبی ۔

اورستاروں کےبارہ میں علماء نے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے ستاروں کوتین مقاصد کے لیے پیدا فرمایا ہے ، انہیں آسمان کی زینت بنایا ، اورشیاطین کورجم کرنے کے لیے ، اور ایسی علامتیں بنایا جن سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے ۔

امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے صحیح بخاری کتاب بدء الخلق میں کہا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اوروہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کوپیدا کیا تا کہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں اورخشکی میں اورسمندر میں راستہ معلوم کرسکو } الانعام ( 97 ) ۔

اوراللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

{ بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کوچراغوں ( ستاروں ) سے مزین کیا ہے اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنادیا اورشیطانوں کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کیا ہے } الملک ( 5 ) ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments