Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
158075

مطلقہ عورت پہلے خاوند سے دوبارہ نكاح كے ليے صاحب فراش شخص سے شادى كرنا چاہتى ہے

ميں نے ايك عالم دين سے دريافت كيا تو اس نے جواب ديا كہ آپ كى طلاق رجعى نہيں ہے، اور ميں اپنى بيوى كو دوبارہ اپنے پاس واپس لانا چاہتا ہوں، اور ميرى بيوى ايك ايسے شخص سے شادى كرنا چاہتى ہے ( جو جماع كى استطاعت نہيں ركھتا ) جو صاحب فراش ہے، اور اس كے بارہ ميں ڈاكٹروں كى رائے ہے كہ وہ چند ايام ميں فوت ہو جائيگا يہ سب كچھ اس ليے ہے تا كہ ميں اس سے دوبارہ شادى كر سكوں.
اس كے ليے ممكن ہے كہ وہ صاحب فراش شخص جو موت و حيات كى كشمكش ميں ہے كو شادى كرنے كے ليے كچھ رقم بھى ادا كرے، تو كيا ميرے ليے اس كى وفات كے بعد اس عورت سے شادى كرنا حلال ہوگا ؟
ميں آپ كے جواب كا منتظر ہوں، برائے مہربانى ميرا تعاون فرمائيں.

الحمد للہ:

جب كوئى شخص اپنى بيوى كو تين طلاق دے دے تو وہ اس كے ليے اس وقت تك حلال نہيں ہو سكتى جب تك كسى دوسرے شخص سے نكاح نہ كر لے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ پھر اگر اس كى ( تيسرى بار ) طلاق دے دے تو اب اس كے ليے حلال نہيں جب تك كہ وہ عورت اس كے سوا كسى دوسرے شخص سے نكاح نہ كرے، پھر اگر وہ بھى اسے طلاق دے دے تو ان دونوں كو آپس ميں ملنے ( نكاح كرنے ) ميں كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ يہ جان ليں كہ وہ اللہ كى حدود كو قائم ركھ سكيں گے، يہ اللہ تعالى كى حدود ہيں جنہيں وہ جاننے والوں كے ليے بيان كر رہا ہے }البقرۃ ( 230 ).

اور اس ميں ضرورى ہے كہ دوسرا خاوند اس كے ساتھ جماع كرے، اور اگر ان دونوں ميں جماع نہيں ہوتا تو پھر وہ عورت اپنے پہلے خاوند كى طرف نہيں لوٹ سكتى، علماء كرام اس پر متفق ہيں، اس كى دليل درج ذيل حديث نبوى ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رفاعہ نے اپنى بيوى كو تيسرى طلاق دے دى، اور اس عورت نے عبد الرحمن بن زبير سے شادى كر لى اور يہ دعوى كيا كہ اس نے اس سے دخول نہيں كيا، اور عبد الرحمن سے طلاق لينا اور اپنے پہلے خاوند كى طرف واپس جانا چاہا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" كيا تم رفاعہ كى طرف واپس جانا چاہتى ہو؟ يہ نہيں ہو سكتا جب تك كہ تم اس كا اور وہ تمہارا ذائقہ نہ چكھ لے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2639 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1433 ).

امام نووى رحمہ اللہ اس حديث كى شرح كرتے ہوئے لكھتے ہيں:

قولہ صلى اللہ عليہ وسلم:

" ايسا نہيں ہو سكتا حتى كہ تم اس كا اور وہ تمہارا ذائقہ نہ چكھ لے "

يہ جماع اور دخول سے كنايہ ہے، جس كى لذت كو شہد اور مٹھاس كى لذت سے تشبيہ دى گئى ہے.

اور اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ:

تين طلاق والى عورت اپنے مطلق شخص كے ليے اس وقت تك حلال نہيں ہو سكتى جب تك وہ كسى دوسرے شخص سے نكاح نہيں كر ليتى، اور وہ دوسرا شخص اس كے ساتھ وطئ كر كے اسے چھوڑ نہيں ديتا، اور عدت گزرنے كے بعد وہ پہلے شخص كے ليے جائز و حلال ہوگى.

ليكن صرف نكاح كر لينے سے ہى وہ پہلے شخص كے ليے جس نے اسے تيسرى طلاق دى ہو حلال نہيں ہوگى.

سب صحابہ كرام اور تابعين اور ان كے بعد والے سب علماء كرام كا يہى قول ہے، صرف سعيد بن مسيب رحمہ اللہ اس كے قائل نہيں، ہو سكتا ہے ان كے پاس يہ حديث نہ پہنچى ہو " انتہى

ابن قدامہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" كتاب اللہ ميں ( تيسرى طلاق كے حلال نہ ہونے ) سے جو مراد ہے اسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا واضح طور پر بيان كر دينا كہ وہ پہلے خاوند كے ليے اس وقت تك حلال نہيں ہو سكتى جب تك وہ دوسرا خاوند اس كا اور وہ اس خاوند كا ذائقہ و مٹھاس نہ چكھ لے، اس سے ہٹ كر كوئى اور مراد لينا اور كسى اور قول كى طرف جانا جائز نہيں ہے " انتہى

ديكھيں: مغنى ابن قدامہ ( 10 / 549 ).

اور جب دوسرے خاوند كے ساتھ يہ اتفاق ہو كہ وہ پہلے خاوند كے ساتھ نكاح حلال كرنے كے ليے اس عورت سے شادى كريگا، يا پھر دوسرا خاوند بغير كسى اتفاق كے ايسى نيت ركھتا ہو، نہ تو وہ اس عورت سے نكاح كى رغبت ركھتا ہو اور نہ ہى اس عورت كو اپنے پاس ركھنا چاہتا ہو صرف حلال كى نيت ركھتا ہو تو يہ حلالہ كہلاتا ہے، اور اس عمل پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لعنت فرمائى ہے.

اور اس كے ساتھ وہ عورت اپنے پہلے خاوند كے ليے حلال نہيں ہوگى كيونكہ يہ نكاح ہى حرام ہے، چاہے دوسرے خاوند نے اس عورت كے ساتھ جماع بھى كر ليا ہو.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عام اہل علم كے قول كے مطابق نكاح حلالہ حرام اور باطل ہے،.. لہذا اگر عقد نكاح سے پہلے حلالہ كى شرط ركھى گئى ہو چاہے اسے نكاح كرتے وقت ذكر نہ كرے، يا پھر بغير كسى شرط كے حلالہ كى نيت كى گئى ہو تو يہ نكاح بھى باطل ہوگا " انتہى مختصرا

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 10 / 49 - 51 ).

اس ليے جب صرف عورت كى جانب سے نكاح حلالہ كى نيت پائى جائے، اور دوسرے خاوند كے ساتھ اس پر اتفاق نہ ہو اور نہ ہى حلالہ كى نيت كى گئى ہو تو نكاح صحيح ہوگا، اور اس سے پہلے خاوند كے ساتھ حلال ہو جائيگى، ليكن شرط يہ ہے كہ اگر دوسرے خاوند نے عورت سے دخول كيا اور پھر اپنى مرضى سے طلاق دى يا پھر مر گيا تو يہ چيز عورت كو نقصان نہيں دےگى.

اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 159041 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

ليكن اس عورت كا اس شخص كو مال ادا كرنا كہ وہ اس عقد نكاح پر راضى ہو جائے، يہ اس بات كى دليل ہے كہ اس حلالہ كى نيت كا علم ہے، اور اصل ميں وہ شخص نكاح كى رغبت ہى نہيں ركھتا؛ تو اس طرح يہ اس سانڈ كى طرح ہو گا جو عاريتاً ليا گيا ہو، جو طلاق يافتہ خاوند اور بيوى كے درميان دخول كر رہا ہے، تا كہ وہ پہلے خاوند كے ليے حلال ہو جائے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 76324 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments