160491: نقصان و ضرر كے وقت خاوند كى اجازت كے بغير مانع حمل دوائى استعمال كرنا


ميں اپنے خاوند كے ساتھ رہتى ہوں اور ميرے چار بچے ہيں، ليكن افسوس ہے كہ خاوند مجھ پر بہت سختى كرتا اور مارتا بھى ہے، ہميں جسمانى اذيت تك دى جاتى ہے، حالانكہ ميرى عمر چاليس برس ہوچكى ہے، ميرے چار بچے بھى دوران حمل پيٹ ميں اذيت برداشت كرتے رہے.
اس ليے اب ميں دوبارہ حاملہ نہيں ہونا چاہتى، ليكن ميرا خاوند ہميشہ دوبارہ حمل كا كہتا اور مجھے طلاق كى دھمكى ديتا ہے، كيا ميرے ليے خاوند كے علم كے بغير مانع حمل دوائى استعمال كرنا جائز ہے، خاص ڈاكٹروں نے بھى مجھے حمل سے منع كيا ہے كيونكہ ميرى صحت صحيح نہيں، اس كے ساتھ ميں اور ميرے بچے تكليفوں كا سامنا كر رہے، اس ليے ميں كسى اور بچے كى متحمل نہيں ہو سكتى.
ميرے خاوند نے مجھ پر دو بار چھرى بھى سونتى ہے، اور ميرى صحت كا خيال نہيں كرتا، حالانكہ اس نے آخرى بار بچے كى ولادت كے وقت ہاسپٹل ميں ميرى حالت بھى اپنى آنكھوں سے ديكھى ہے كہ ميں كتنى مشكل ميں تھى، برائے مہربانى مجھے كوئى مشورہ ديں، آيا ميں مانع حمل دوائى استعمال كر لوں ؟

الحمد للہ:

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ خاوند اور بيوى دونوں كو ہى اولاد پيدا كرنے كا حق حاصل ہے، اس ليے خاوند اپنى بيوى كى اجازت كے بغير عزل نہيں كر سكتا، اور نہ ہى بيوى خاوند كى اجازت كے بغير كوئى مانع حمل وسيلہ اختيار كر سكتى ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ اللفقھيۃ ( 3 / 156 ).

ابن نجيم الحنفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بيوى كى اجازت كے بغير خاوند كے عزل كرنے كى ممانعت پر قياس كرتے ہوئے عورت كا خاوند كى اجازت كے بغير اپنا رحم بند كروا لينا جيسا كہ كچھ عورتيں اولاد نہ ہونے كے ليے كرتى ہيں بھى حرام ہونا چاہيے "

ديكھيں: البحر الرائق ( 2 / 215 ).

اور ابن مفلح الحنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عورت كو حيض منقطع كرنے كے ليے مباح دوائى استعمال كرنے كا حق حاصل ہے...

اور قاضى رحمہ اللہ كہتے ہيں: عزل كى طرح خاوند كى اجازت كے ساتھ كريگى، اس كى تائيد امام احمد كے اس جواب سے ہوتى ہے جس ميں انہوں نے فرمايا: بيوى اپنے خاوند سے اجازت حاصل كريگى " انتہى

ديكھيں: الفروع ( 1 / 392 ).

مرداوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" صحيح بھى يہى ہے " انتہى

ديكھيں: الانصاف ( 1 / 272 ).

اور بھوتى حنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قاضى كا قول ہے: بيوى خاوند كى اجازت كے بغير ايسا نہيں كر سكتى، كيونكہ خاوند كو بھى حصول اولاد كا حق حاصل ہے " انتہى

ديكھيں: كشاف القناع ( 2 / 96 ).

ليكن اگر بيوى كے ليے اولاد نہ پيدا كرنے كا كوئى واضح اور ظاہر عذر ہو، مثلا قابل اعتماد ڈاكٹروں كى گواہى اور چيك اپ كى بنا پر اس كے ليے حمل واضح طور پر نقصاندہ ہو تو اس حالت ميں خاوند كا حق اجازت ساقط ہو جائيگا، كيونكہ عورت كى صحت كى حفاظت والى مصلحت خاوند كے حق اولاد كى مصلحت پر مقدم ہو گى.

اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" نہ تو خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہى كسى دوسرے كو نقصان سے دوچار كرو "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2340 ) امام نووى رحمہ اللہ نے اپنى كتاب الاذكار صفحہ ( 502 ) پر اسے حسن قرار ديا ہے.

بلكہ اگر عورت كى صحت حمل كى بنا پر ضرر و نقصان سے دوچار ہوتى ہو تو حمل كے ابتدائى ايام ميں علماء كرام نے حمل ساقط كرانے كى اجازت دى ہے.

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 82851 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ كے فتاوى جات ميں درج ہے:

ميں شادى شدہ ہوں اور ميرا خاوند مجھے مانع حمل ادويات استعمال نہيں كرنے ديتا، كيونكہ وہ ميرى تكليف تو محسوس نہيں كر سكتا، ميں جس تكليف ميں ہوں اور مجھے ضرر ہوتا ہے، ميں نے خاوند كے علم كے بغير مانع حمل گولياں استعمال كى ہيں، كيا اس ميں كوئى حرج تو نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

اگر ان كا استعمال ترك كرنا ميسر ہو تو يہ بہتر ہے، ليكن اگر مشقت زيادہ اور زيادہ ضرر ہو تو پھر استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں، وگرنہ اسے ترك كرنا ہى احتياط ہے، اور پھر بيوى پر خاوند كى اطاعت كرنا واجب ہے، ليكن اگر آپ كو شديد مشقت اور ضرر ہونے كى شكل ميں نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ حسب استطاعت اللہ كا تقوى اختيار كرو }. انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 21 / 183 ).

ليكن بہتر يہى ہے كہ آپ اپنے خاوند كے ساتھ بات كرنے كى كوشش كريں تا كہ يہ مسئلہ افہام و تفہيم كے ساتھ حل ہو سكے، اور مرد كو بھى چاہيے كہ وہ اپنى بيوى كى حالت كا خيال كرے اور اس كى جسمانى صحت كا خيال ركھے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر خاوند ديكھے كہ بيوى كو حمل كى بنا پر عادت سے ہٹ كر زيادہ تكليف اور ضرر ہو رہا ہے اور وہ عادت سے زيادہ متاثر ہو رہى ہے، تو پھر اسے مانع حمل ادويات استعمال كرنے كى اجازت دے دينى چاہيے، يا پھر بيوى پر رحم كرتے ہوئے خود مانع حمل وسيلہ اور طريقہ اختيار كر لے، تا كہ بيوى كى صحت اچھى ہو جائے اور وہ حمل كے قابل ہو جائے " انتہى

ماخوذ از: فتاوى نور على الدرب.

رہا مسئلہ خاوند كے برے سلوك اور برے اخلاق كا تو يہ چيز اولاد پيدا نہ كرنے كا عذر نہيں بن سكتا، كيونكہ ہو سكتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى اس بچے ميں نعم البدل پيدا كر دے اور خير كثير بنا دے.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ وہ اللہ تعالى ميت سے زندہ كو نكالتا ہے، اور زندہ سے ميت كو نكالتا ہے }.

اور اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو ناپسند كرو اور اللہ تعالى اس ميں خير كثير پيدا كر دے }النساء ( 19 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments