161102: عمرہ كرنے والوں كے ليے مكہ اور مدينہ ميں تروايح اپنے ہوٹل ميں افضل ہيں يا كہ حرم ميں افضل ہونگى ؟


مجھے علم ہے كہ نفلى نماز اور سنتيں مثلا تہجد وغيرہ گھر ميں ادا كرنا مستحب اور افضل ہيں، ليكن اگر مكہ اور مدينہ كى زيارت كرنے جائيں اور ہوٹل ميں رہيں تو كيا حكم مختلف ہوگا ؟
يعنى كيا سنت اور نوافل كمرہ ميں افضل ہوں گى يا كہ حرم ميں ادا كرنا افضل ہونگى ؟
اور عورتوں كے بارہ ميں كيا حكم ہے جن كے بارہ ميں گھر كى نماز مسجد ميں نماز ادا كرنے سے افضل ہے كہ ميں اپنے گھر والوں كے ساتھ مكہ اور مدينہ جاؤں تو كيا حكم ہوگا ؟
كيا ان كى فرضى نماز گھر ميں افضل ہوگى يا كہ حرم ميں ، اور كيا ہم مسافر شمار ہونگے كيونكہ ہم ہوٹل ميں رہ رہے ہيں برائے مہربانى اس سلسلہ ميں معلوما فراہم كريں، جزاكم اللہ خيرا.

الحمد للہ:

اول:

نماز تراويح كے بارہ ميں كہ آيا نماز تروايح باجماعت مسجد ميں ادا كرنى افضل ہے يا كہ گھر ميں اكيلے تراويح كرنا افضل ہے، علماء كرام كے تين اقوال پائے جاتے ہيں:

پہلا قول:

نماز تراويح مسجد ميں باجماعت ادا كرنا افضل ہے، قديم احناف اور امام احمد بن حنبل اور ان كے جمہور اصحاب كا يہى قول ہے.

اس قول كے دلائل اور قائلين كے متعلق ہم سوال نمبر ( 45781 ) كے جواب ميں تفصيلا بيان كر چكے ہيں، اور ہم نے وہاں راجح بھى اسے ہى قرار ديا ہے.

دوسرا قول:

گھروں ميں نماز تراويح اكيلے ادا كرنا افضل ہے، امام مالك امام شافعى اور ان كے جمہور اصحاب كا قول يہى ہے امام مالك رحمہ اللہ نے كبار صحابہ كرام اور اپنے كبار مشائخ كے فعل سے استدلال كيا ہے.

اور امام شافعى رحمہ اللہ نے درج ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

زيد بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے رمضان المبارك ميں چٹائى كا كمرہ بنايا اور اس ميں كئى راتيں نماز ادا كي تو لوگوں نے آپ كے پيچھے نماز ادا كرنا شروع كر دى، جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا علم ہوا تو آپ بيٹھ گئے اور ان كے پاس باہر آئے اور فرمايا:

" جو تم نے كيا وہ ميں نے ديكھ ليا اور معلوم كر ليا، لوگو اپنے گھروں ميں نماز ادا كيا كرو كيونكہ فرضى نماز كے علاوہ باقى نماز گھر ميں افضل و بہتر ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 698 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 781 ).

امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ربيع اور كئى ايك علماء كرام مسجد سے چلے جاتے اور لوگوں كے ساتھ قيام نہيں كرتے تھے.

امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور ميں بھى يہى كرتا ہوں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى قيام اپنے گھر ميں ہى كيا ہے "

اور امام شافعى رحمہ اللہ نے بھى زيد بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث سے استدلال كيا اور اسے بالنص بيان كرنے كے بعد كہا ہے:

" خاص كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ اور مسجد نبوى ميں قيام كرنے جو فضيلت تھى كے باوجود فرمايا گھر ميں افضل ہے " انتہى

ديكھيں: التمھيد ( 8 / 116 ).

اور ابن عبد البر رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" لہذا جب گھر ميں نفلى نماز ادا كرنا مسجد نبوى عليہ السلام ميں نفل ادا كرنے سے بھى افضل ہيں حالانكہ مسجد نبوى ميں ايك ہزار نماز كا ثواب ملتا ہے تو پھر اس سے اور كيا فضيلت واضح ہو سكتى ہے؟!

اس ليے امام مالك اور شافعى اور ان كى راہ پر چلنے والوں كى يہى رائے ہے كہ گھر ميں ہر نفلى نماز انفرادى طور پر افضل ہے، اس ليے اگر رمضان المبارك ميں مساجد ميں چاہے كم ہى نفلى نماز ادا كى جائے تو اس صورت ميں بھى گھر ميں نماز ادا كرنا افضل ہے " انتہى

ديكھيں: الاستذكار ( 2 / 73 ).

يہاں اس پر متنبہ رہنا چاہيے كہ جن آئمہ كرام نے گھر ميں انفرادى نماز تراويح كو مسجد ميں باجماعت نماز تراويح ادا كرنے سے افضل قرار ديا ہے وہ صرف اس شخص كے ليے ہے جو قرآن مجيد كا كچھ نا كچھ يا سارے قرآن كا حافظ ہو، اور گھر ميں نماز ادا كرنے كى طاقت ركھتا ہو، اور اسے سستى و كاہلى كا خدشہ نہ ہو كہ نماز تراويح ادا ہى نہ كرے.

اور مسجد ميں نماز باجماعت كى ادائيگى منقطع نہ ہو تو ان شروط كى موجودگى ميں گھر ميں انفرادى نماز تراويح ادا كرنا افضل ہوگا، اور اگر يہ شروط نہ پائى جائيں تو پھر ان كے ہاں بھى مسجد ميں باجماعت تراويح ادا كرنا افضل ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہمارے اصحاب عراق اور صيدلانى اور بغوى وغيرہ دوسرے خراسانى حضرات كا كہنا ہے كہ:

جو شخص قرآن مجيد كا حافظ ہو اور اگر انفرادى طور پر نماز تراويح ادا كرنا چاہے تو اسے سستى و كاہلى كا خدشہ نہ ہو اور مسجد سے پيچھے رہنے سے مسجد ميں باجماعت نماز كو كوئى خلل نہ ہوتا ہو تو اس ميں اختلاف ہے.

ليكن اگر ان امور كى عدم موجودگى ميں بغير كسى اختلاف كے نماز تراويح باجماعت ادا كرنا ہى افضل ہے، اور ايك گروہ نے اس مسئلہ ميں تين طريقے بيان كيے ہيں، اور تيسرے ميں يہ فرق ہے " انتہى

ديكھيں: المجموع ( 4 / 31 ).

اور اس ميں ايك اور شرط كا اضافہ ممكن ہے اس اہم شرط كا اضافہ بعض اہل علم نے كرتے ہوئے كہا ہے اور وہ شرط سائل پر لاگو ہوتى ہے كہ:

گھر ميں نماز تراويح ادا كرنے والا منفرد يعنى اكيلا ہو ـ تو اسے حرمين ميں نماز تراويح ادا كرنے سے افضل ہے ـ اور وہ اہل حرمين ميں سے ہو؛ اس ليے مكہ اور مدينہ ميں باہر سے آنے والا شخص جو عمرہ كى ادائيگى اور زيارت كے ليے آيا ہے اس پر يہ فضيلت لاگو نہيں ہو گى كہ اس كے ليے بھى گھر ميں نماز تراويح ادا كرنا افضل ہے.

محمد دسوقى مالكى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نماز تراويح تين شروط كے ساتھ گھر ميں ادا كرنى مندوب ہے:

مساجد معطل ہو كر نہ رہ جائيں، اور گھر ميں نماز تراويح ادا كرنے والے شخص سستى كا شكار ہو كر اسے چھوڑ نہ بيٹھے، اور وہ حرمين ميں رہنے والا نہ ہو.

اس ليے اگر ان ميں سے كوئى ايك شرط بھى پورى نہ ہو تو نماز تراويح مسجد ميں باجماعت ادا كرنا افضل ہے " انتہى

ديكھيں: حاشيۃ الدسوقى ( 1 / 315 ).

اب اس وقت لوگوں كے حال پر غور كرنے واضح يہى ہوتا ہے كہ ان كے ليے ـ جن ميں خاص كر بہت سارے اطاعت پر استقامت اختيار كرنے والے نوجوان شامل ہيں ـ مسجد ميں نماز تراويح باجماعت ادا كرنا افضل ہے.

كيونكہ مساجد ميں نماز ادا كرنا ان كے ليے نشاط اور چستى كا باعث ہے كيونكہ وہاں رات كے ابتدائى حصہ ميں نماز تراويح ادا كى جاتى ہيں، اور پھر امام بھى اچھى قرآت اور آواز ميں تلاوت كرتا ہے .

اور اس ليے بھى كہ وہاں نماز تراويح ادا كرنے والوں كى كثرت ہوتى ہے، اور اس ليے بھى كہ گھر ميں بہت سارے كام ہوتے ہيں جن كى بنا پر نماز تراويح كى ادائيگى ميں سستى و كاہلى ہو سكتى ہے، اس ليے ہمارى رائے تو يہى ہے كہ اب عامۃ الناس كو گھروں ميں نماز تراويح كى دعوت دينا كا مطلب يہ ہے كہ وہ نماز تراويح چھوڑ ديں!

ان ميں كس كو قرآن مجيد حفظ ہے؟! اور رات كے ابتدائى حصہ ميں مساجد ميں نماز تراويح ادا كرنے كے وقت يہ لوگ كيا كريں گے؟!

اور وہ كونسا سبب ہے جو انہيں رات كے آخرى حصہ ميں نماز تراويح ادا كرنے پر تيار كرےگا ؟!

لہذا فرض كريں كہ اس مسئلہ ميں كچھ لوگوں كے ہاں دوسرا قول راجح ہے تو پھر يہ نوٹ ضرورى ہے كہ يہ خاص لوگوں كے ليے ہے نہ كہ عامۃ الناس كے ليے.

اور لگتا ہے كہ سلف رحمہ اللہ نے جو اختيار كيا ہے ان كى مراد بھى يہى تھى؛ اسى ليے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كو مسجد ميں نماز تراويح ادا كرنے كے ليے جمع كر ديا تھا، اور خود گھر ميں انفرادى طور پر نماز تراويح ادا كرتے تھے.

اور امام مالك رحمہ اللہ نےكتنى خوبصورت بات كہى ہے اور جو ہم كہنا چاہتے ہيں امام مالك كا قول اس كا خلاصہ ہے:

جب ابن قاسم نے ان سے دريافت كيا كہ:

كيا آدمى رمضان المبارك ميں لوگوں كے ساتھ باجماعت قيام كرے يا كہ اپنے گھر ميں قيام كرنا آپ كو زيادہ پسند ہے ؟

تو امام مالك رحمہ اللہ نے جواب ديا:

" اگر وہ گھر ميں قيام كرنے كى زيادہ طاقت ركھتا ہے تو مجھے يہ زيادہ پسند ہے، اور سب لوگ اس كى طاقت نہيں ركھتے " انتہى

ديكھيں: المدونۃ الكبرى ( 1 / 287 ).

دوم:

رہا مسئلہ عورتوں كا گھروں ميں نماز تراويح ادا كرنے كا مسئلہ تو اس سلسلہ ميں سوال نمبر ( 3457 ) كے جواب ميں تفصيل سے بيان ہو چكا ہے.

ہم اس جواب ميں يہ كہہ چكے ہيں كہ: عورتوں كے ليے افضل اور بہتر يہى ہے كہ وہ اپنے گھروں ميں نماز تروايح ادا كريں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم اپنى عورتوں كو مسجد سے مت منع كرو، اور ان كے گھر ان كے ليے بہتر و افضل ہيں " سنن ابو داود.

ليكن يہ افضليت انہيں مسجدوں ميں جانے كى اجازت دينے ميں مانع نہيں، ليكن انہيں مسجدوں ميں جانے كے ليے كچھ شروط پر عمل كرنا ہوگا، يہ شروط مندرجہ بالا سوال نمبر كے جواب ميں آپ ديكھ سكتے ہيں.

اس جواب ميں شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے فتوى بھى منقول ہے كہ عورت كے ليے اپنے گھر ميں نماز تراويح مسجد ميں ادا كرنے سے افضل و بہتر ہے.

اور سوال نمبر ( 12451 ) كے جواب ميں ہم شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كا درج ذيل قول نقل كر چكے ہيں:

" سنت نبويہ اس پر دلالت كرتى ہے كہ عورت كے ليے كسى اور جگہ سے اپنے گھر ميں نماز ادا كرنا افضل ہے، چاہے مكہ ہو يا كوئى اور جگہ اس كى گھر ميں نماز افضل ہے " انتہى

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments