Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
163531

خاوند كا اجازت كے بغير دوسرى بيوى كو پہلى بيوى كےگھر لے آنا

ايك بار پہلى بيوى اپنے گھر ميں نہيں تھى تو خاوند اپنى دوسرى بيوى كو اس كى اجازت كے بغير پہلى بيوى كے گھر لے آيا، جب وہ گھر آئى اور اس كا سبب دريافت كيا تو وہ كہنے لگا يہ ميرا گھر ہے اور مجھے حق حاصل ہے كہ ميں جسے چاہوں يہاں لاؤں، اور اگر آپ كے پاس اس كے خلاف كتاب و سنت كى كوئى دليل ہے تو پيش كرو، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا خاوند كى يہ بات صحيح ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

ظاہر تو يہى ہوتا ہے كہ خاوند كو ايسا كرنے كا حق نہيں، اسے ايسا كرنے سے قبل اس گھر ميں رہنے والى بيوى سے اجازت لينى چاہيے، اور جب وہ راضى ہو تو دوسرى بيوى كو وہاں لائے، كيونكہ عام طور پر عورتوں كى غيرت يہ برداشت نہيں كرتى، اور ہر عورت كى رغبت ہوتى ہے كہ اس كا اپنا خاص گھر ہو جہاں دوسرے دخل نہ ديں.

صورت مسئولہ ميں اس اعتبار سے اور بھى ممانعت ہو جاتى ہے كہ خاوند نے پہلى بيوى كى غير موجودگى ميں دوسرى بيوى كو داخل كيا؛ كيونكہ اس سے يہ گمان ہوتا ہے كہ وہ دوسرى بيوى سے پہلى بيوى كے گھر ميں استمتاع كرنا چاہتا تھا، اور اس ميں جو تكليف اور اذيت ہے وہ كسى پر مخفى نہيں.

شيخ سليمان الماجد حفظہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا ميرا حق ہے كہ اگر ميرا خاوند اپنى دوسرى بيوى كو ميرے گھر لائے تو اسے ميرى اجازت لينا ہوگى، يہ علم ميں رہے كہ وہ كہتا ہے يہ معاملہ ميرے ہاتھ ہے تيرے ہاتھ ميں نہيں ؟

اللہ سبحانہ و تعالى ہميں آپ كے علم سے فائدہ دے اس كا جواب عنائت كريں.

جواب:

اگر دونوں بيويوں ميں سے كسى ايك كو حرج ہوتا ہو تو پھر خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ اس كے گھر ميں دوسرى بيوى كو لانے پر مجبور كرے، ليكن عورت كو چاہيے كہ وہ اپنى سوكن كے ساتھ اچھے تعلقات ركھے، اور اس سے ميل جو اور تعلق قائم كرے چاہے قليل ہى ہو؛ كيونكہ ان دونوں كا آپس ميں ايك دوسرے سے قطع تعلقى كرنا اولاد كے مابين قطع تعلقى كا باعث بنےگا.

اور اولاد كا آپس ميں قطع تعلقى ركھنا ان كے دين اور دنيا دونوں پر اثرانداز ہوگا، دنيا ميں اس طرح كہ وہ اپنے والد كى جانب سے بہن بھائيوں كے حقوق كو ضائع كر بيٹھيں گے اور ان سے استقادہ نہيں كر سكيں گے، اور اسى طرح بركت بھى جاتى رہےگى، اور قطع رحمى كى بنا پر ان كى عمروں ميں بھى كمى ہو جائيگى.

اور آخرت پر اثرانداز اس طرح ہوگا كہ: اور آخرت كى سزا بہت شديد ہے، اس ليے بيوى كو چاہيے كہ وہ دور كے مستقبل كو مدنظر ركھتے ہوئے آخرت كے ليے كچھ صبر و تحمل سے كام ليتے ہوئے برداشت كرے، كيونكہ ہو سكتا ہے وہ سوكن كى جانب سے كچھ تنگى پائے تو صبر كرنے پر اسے آخرت ميں بھى اجروثواب حاصل ہوگا.

اور اسے خاوند كے مقصد كو بھى سمجھنا چاہيے كہ وہ اولاد كے مابين محبت و الفت قائم كرنا چاہتا ہے، اور يہ اسى صورت ميں ہو گى جب دونوں بيويوں كے آپس ميں تعلقات صحيح ہونگے، اور خاوند كے ليے كوئى بھى ايسا كام بيوى پر لازم كرنا جائز نہيں جس ميں بيوى كو تنگى اور حرج ہوتا ہو. انتہى

ماخوذ از: شيخ سليمان الماجد كى ويب سائٹ:

http://www.salmajed.com/node/11187

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments