1695: حيوانات كے چمڑے سے بنى ہوئى مصنوعات كا حكم


چمڑا كے استعمال ميں كيا اصول ہے، چمڑا چاہے اس جانور كا ہو جس كا گوشت كھايا جاتا ہے، يا كسى اور جانور كا، چاہے ذبح كيا گيا ہو يا ذبح نہ كيا گيا ہو ؟

الحمد للہ:

وہ جانور جو ذبح كرنے سے حلال ہو جاتے ہيں ان كا چمڑا پاك اور طاہر ہے، كيونكہ وہ ذبح كرنے سے پاك ہو گئے ہيں، مثلا اونٹ، گائے، بكرى، ہرن، خرگوش وغيرہ كا چمڑا، چاہے اس چمڑا كو دباغت دى گئى ہو يا نہ دى گئى ہو.

ليكن جن جانوروں كا گوشت نہيں كھايا جاتا مثلا كتے، بھيڑيے، شير، اور ہاتھى وغيرہ كا چمڑا تو يہ نجس ہے، چاہے اسے ذبح كيا گيا ہو يا مر گيا، يا پھر مارا گيا ہو، اس ليے كہ اگر اسے ذبح بھى كر ليا جائے تو يہ نہ تو حلال ہوتا ہے، اور نہ ہى پاك، بلكہ يہ نجس ہى رہےگا، چاہے اسے دباغت دى گئى ہو يا پھر دباغت نہ دى گئى ہے، راجح قول يہى ہے.

كيونكہ راجح قول يہ ہے كہ اگر ذبح كرنے سے جانور حلال نہ ہوتا ہو تو چمڑے كى نجاست دباغت دينے سے پاك نہيں ہوتى.

اور ذبح كيے جانے والے مرے ہوئے جانور كا چمڑا يعنى اگر وہ جانور اپنى موت خود ہى مر جائے اور ذبح نہ كيا گيا ہو تو اس كا چمڑا دباغت دينے سے پاك ہو جاتى ہے، ليكن دباغت دينے سے قبل نجس ہے.

چنانچہ چمڑے كى تين اقسام ہوئيں:

پہلى قسم:

طاہر اور پاك، چاہے اسے دباغت دى جائے يا نہ دى جائے، يہ ان جانوروں كا چمڑا ہے جو ذبح كيے گئے ہوں اور جن كا گوشت كھايا جاتا ہے.

دوسرى قسم:

ايسے چمڑے جو نہ تو دباغت سے پہلے پاك ہوتے ہيں، اور نہ ہى دباغت كے بعد، بلكہ يہ نجس ہيں.

يہ ان جانوروں كے چمڑے ہيں جن كا گوشت نہيں كھايا جاتا، مثلا خنزير.

تيسرى قسم:

ايسے چمڑے جو دباغت سے قبل پاك نہيں بلكہ دباغت كے بعد پاك ہو جاتے ہيں.

يہ ان جانوروں كے چمڑے ہيں جن كا گوشت كھايا جاتا ہے، ليكن بغير ذبح كيے مر گئے ہوں.

واللہ اعلم .

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ابن عثيمين ( 52 / 39 ).
Create Comments