Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
169654

دعوت و تبليغ كى غرض سے فيس بك اكاؤنٹ ميں عورتوں كو ايڈ كرنا

كيا كسى مسلمان مرد كے ليے فيس بك اكاؤنٹ ميں دعوت و تبليغ اور نصيحت كى غرض سے غير محرم عورتوں كو ايڈ كرنا جائز ہے ؟
برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اول:

فيس بك ويب سائٹ ميں فائدہ اور نقصان دونوں چيزيں پائى جاتى ہيں، اور اس سلسلہ ميں فيس بك اكاؤنٹ بنانے والے كے مقصد كو ديكھا جائيگا كہ اس نے كس غرض سے اكاؤنٹ بنايا ہے، اور وہ اسے كس غرض سے استعمال كر رہا ہے اسى اعتبار سے اسے فائدہ اور نقصان ہوگا، اور اس كے استعمال كا طريقہ پر بھى منحصر ہے.

اس ويب سائٹ كے متعلق ہم نے خصوصى طور پر سوال نمبر ( 137243 ) كے جواب ميں تفصيل بيان كى ہے، اس ليے آپ اس كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

ہمارى رائے ميں مرد كے ليے اپنے اكاؤنٹ ميں غير محرم عورتوں كو ايڈ كرنا جائز نہيں، اور اسى طرح ہم غير محرم عورتوں كے ساتھ خط و كتابت اور اى ميل كا تبادلہ بھى جائز نہيں سمجھتے، اور ان كے ساتھ بات چيت تو بالاولى جائز نہيں ہوگى، اور اس سے بھى زيادہ خطرناك تو ويڈيو چيٹ اور انہيں ديكھنا ہے؛ كيونكہ اس ميں پڑنے والے فتنہ كے دروازے ميں داخل ہونگے.

مرد و عورت كے مابين تعلقات كى خرابياں اتنى زيادہ ہيں كہ انہيں شمار اور ذكر كرنا ہى مشكل ہے، اس ليے كسى بھى مسلمان شخص كو شيطان كے پھندے ميں نہيں آنا چاہيے كہ وہ دعوت تبليغ كى غرض سے انہيں ايڈ كر رہا ہے.

اگر آدمى حقيقتا بالفعل دعوت و تبليغ كى حرص ركھتا ہے تو اس كے سامنے دعوت و تبليغ كے ليے لاكھوں مرد موجود ہيں تو دعوت كے محتاج ہيں اس ليے وہ انہيں ايڈ كر كے انہيں فائدہ پہچائے.

اور اسى طرح جو بہنيں فائدہ حاصل كرنا اور كسى دوسرے كو فائدہ دينا چاہتى ہيں ہم ان سے بھى يہى كہيں گے كہ وہ اپنى ہم جنس عورتوں كوفائدہ ديں اور مردوں كو مرد حضرات كے ليے رہنے ديں.

مرد و عورت كا آپس ميں خط و كتابت كرنے كا حكم ہم سوال نمبر ( 78375 ) اور ( 26890 ) اور ( 82702 ) كے جوابات ميں پورى تفصيل كے ساتھ بيان كر چكے ہيں، اور اس سلسلہ ميں وہاں ہم نے كئى ايك فتاوى جات بھى نقل كيے ہيں لہذا آپ ان جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اور خاص كر سوال نمبر ( 98107 ) كے جواب كو ضرور ديكھيں اس ميں ہم نے بيان كيا ہے كہ شيطان داعى كو انٹرنيٹ كےذريعہ كس طرع عورتوں كے فتنہ ميں پھانستا ہے اور كون كون سےطريقہ استعمال كرتا ہے.

اس ليے ہمارى سائل سے يہى گزارش ہے كہ وہ اپنى خير خواہى كرتے ہوئے سارے شكوك و شبہات كو چھوڑ كر اپنے ليے فتنہ و فساد كے سارے دروازے بند كرے، اور اپنے اكاؤنٹ ميں كسى بھى اجنبى عورت كو ايڈ مت كرے، اور اگر اس نے ايسا كيا ہے تو اسے جلدى سے ان عورتوں كے نام حذف كر دينے چاہييں، كيونكہ ايسا كرنا ہى اس اور ان عورتوں كے ليے پاكيزگى كا باعث ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كے دين كى حفاظت فرمائے، اور انہيں عورتوں كے فتنہ سے محفوظ ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments