1698: ماء زمزم کی فضیلت اورخصوصیات


کیا زمزم کی کوئ اھمیت وقیمت ہے ، اورکیا کو‏ئ ایسی حدیث واد ہے جس میں ماء زمزم کوشفا قرار دیا گیا ہے ، یا یہ کہ پینے سے قبل کو‏ئ نیت کرنا ضروری ہے ؟ جزاکم اللہ خیرا ۔

الحمد للہ
مسجد حرام میں مشہورکنویں کا نام زمزم ہے جوبیت اللہ سے اڑٹیس 38 ہاتھ کی مسافت پرواقع ہے ،یہ وہی کنواں ہے جوابراھیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی تشنگی ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے نکالاگیا تھا جب کہ وہ ابھی دودھ پیتے اورماں کی گود میں تھے ۔

جب ان کے پاس کھانا پینا ختم ہوا توھاجرہ رضي اللہ تعالی عنہا نے پانی کی تلاش کی لیکن انہیں کچھ حاصل نہ ہوا توبالاخر وہ اسماعیل علیہ السلام کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرتی ہوئيں کوہ صفا پرجاچڑھیں پھر مروہ پرتشریف لے گئيں تواللہ تعالی نے جبریل امین علیہ السلام کوبھیجا جنہوں نے اپنے پاؤں کی ایڑی ماری توزمین سے پانی نکل آیا ۔

ماء زمزم نوش کرنا :

اہل علم متفق ہیں کہ خصوصا حج اورعمرہ کرنے والے کے لیے ماء زمزم پینا مستحب ہے ، اورعمومی طورپرہرمسلمان کے لیے سب حالات میں زمزم پینا مستحب اورجائز ہے ، جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماء زمزم پیا ۔ صحیح بخاری ( 3 / 492 ) ۔

اورابوذررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماء زمزم کے بارہ میں فرمایا :

( یہ بابرکت اورکھانا والے کے لیے ایک کھانا ہے ) صحیح مسلم ( 3/ 1922 ) ۔

اورایک روایت میں ہے کہ ( یہ بیماری کی شفا ہے ) الطیالسی حدیث نمبر ( 61 ) ۔

یعنی زمزم پینے سے کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اوربیماریوں سے شفا نصیب ہوتي ہے لیکن اس میں صدق و سچائ کارفرما ہے ، جیسا کہ ابوذررضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں ایک ماہ رہے اورصرف زمزم پرہی گزارا کیا اس کے علاوہ کو‏ئ اورغذا استعمال نہیں کی ۔

اورعباس بن عبدالمطلب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ زمزم کے بارہ میں ایک دوسرے سے سبقت لےجانے کی کوششش کرتے تھے ، حتی کہ اہل عیال والے لوگ اپنے سب اہل عیال کولاتے اوروہ زمزم دن کے ابتدائ حصہ میں نوش کرتے اورہم زمزم کواہل عیال کا ممد ومعاون شمارکرتے تھے ۔

عباس رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں زمزم کوشباعۃ ( پیٹ بھردینے والا ) کا نام دیا جاتا تھا ۔

علامہ الآبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جب انہوں نے پیا تواللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام اوران کی والدہ رضي اللہ تعالی عنہا کے لیے کھانا اورپینا بنادیا ۔

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالی عنہ جب زمزم کے پاس پہنچے توکہنے لگے :

اے اللہ مجھے مؤ‎مل نے ابوزبیر عن جابررضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( ماء زمزم اسی لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ )

اے اللہ میں روزقیامت کی تشنگی دورکرنے کے لیے پی رہا ہوں ۔

دو فرشتوں نے بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھی اسی زمزم کے ساتھ دھویا اورپھراسے اپنی جگہ پرواپس رکھ دیا ، حافظ عراقی رحمہ اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ زمزم کے ساتھ دھونے میں حکمت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ آسمان وزمین اورجنت وجہنم دیکھنے کی لیے طاقت حاصل کرسکیں ، اس لیے کہ زمزم کی خصوصیت ہے کہ وہ دل کا طاقت پہنچاتا اورخوف کوختم کردیتا ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شق صدراوراسے زمزم سے دھونے کا واقعہ ابوذررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( میں مکہ میں تھا تومیرے گھرکی چھت کھولی گئ اورجبریل علیہ السلام اترے اورمیرا سینہ کھولا ، پھراسے زمزم سے دھویا ، پھرسونےکا ایک حمکت اورایمان سے بھراہوا طشت لاۓ اوراسے میرے سینہ میں انڈیل کرسینے کوبند کردیا ، پھرمیراہاتھ پکڑ کرآسمان دنیا پر لےگۓ ) صحیح بخاری ( 3/ 429 )۔

زمزم پینے میں سنت یہ ہے کہ پیٹ بھر کرپیا جاۓ حتی کہ کوکھیں باہر نکل آئيں اورتشنگی مکمل طور پرجاتی رہے ، فقھاء کرام نے زمزم پینے کے کچھ آداب بیان کیے ہیں جن میں قبلہ رخ ہونا ، بسم اللہ پڑھنا ، زمزم پیتے وقت تین سانس لینا ، پیٹ بھر کرپینا ، اورزمزم پی کرالحمدللہ کہنا ، بیٹھ کرپینا ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی وہ حدیث جس میں انہوں نے یہ ذکرکیا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوزمزم پلایا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے ۔ صحیح بخاری ( 3 / 492 ) ۔

تویہ حدیث جواز کا بیان ہے کہ کھڑے ہوکربھی پینا جائز ہے ، اورکھڑے ہوکر پینے والی حدیث کراہت پرمحمول ہے ، زمزم پینے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ زمزم اپنے سر چہرے اورسینہ وغیرہ پر ڈالے ، اورزمزم پیتے وقت کثرت سے دعا کرے ، اوراپنے دنیاوی اوراخروی معاملات کے لیے پی سکتا ہے ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( زمزم اسی چیزکے لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ ) سنن ابن ماجہ ( 2 / 1018 ) اوردیکھیں المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص ( 359 ) ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ زمزم پیتے تویہ دعا پڑھتے : ( اللهم إني أسألك علماً نافعاً ، ورزقاً واسعاً وشفاء من كل داء ) اے اللہ میں علم نافع اوررزق کی کشادگي اورہربیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔

اوردینوری نے حمیدی رحمہ اللہ تعالی سے بیا ن کیا ہے کہ :

حمیدی رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفیان بن عیینہ کے پاس تھے توانہوں نے ہیں یہ حدیث بیان کی کہ زمزم اسی چیز کےلیے ہے جس کے لیے وہ نوش کیا جاۓ ، تومجلس سے ایک شخص اٹھ کرچلا گيا اورپھر واپس آکر کہنے لگا اے ابومحمد کیا وہ حدیث جوآّپ نے زمزم کے بارہ میں بیان کی وہ صحیح نہیں ؟

توانہوں نے جواب دیا جی ہاں ، وہ شخص کہنے لگا : تو میں ابھی زمزم کا ایک ڈول اس لیے پی کر آیا ہوں کہ آپ مجھے ایک سو حدیث بیان کریں توسفیان رحمہ اللہ تعالی کہنے لگے بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ‎ ، توانہوں نےاسے ایک سو حدیث بیان کیں ۔

اوربعض فقھاء نے زمزم کوبطور زاد راہ دوسرے ممالک لے جانا مستحب قرار دیا ہے اس لیے کہ اسے جوبھی بیماری سے شفا کے لیے پیۓ اسے شفا حاصل ہوتی ہے ، اورحدیث عائشہ رضي اللہ تعالی عنہ میں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ انہوں نے بوتلوں میں زمزم بھرکے لائيں اورفرمانے لگيں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بھرکرلاتے اوربیماروں پرانڈیلتے اورانہيں پلاتے تھے ۔ سنن ترمذي ( 4 / 37 )۔

فقھاء اس پرمتفق ہیں کہ زمزم سے پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے ، لیکن انہوں یہ کہا ہے کہ اس کا استعمال ایسی جگہوں پرنہیں کرنا چاہیے جہاں اہانت کا پہلو نکلتا ہو ، مثلا نجاست زائل کرنا وغیرہ ۔

علامہ بھوتی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب : کشاف الفتاح میں ذکر کیا ہے کہ اوراسی طرح ( ماء زمزم کوصرف نجاست وغیرہ کوزائل کرنے میں استعمال کرنا ) اس کے شرف کی بناپرمکروہ ہے ، لیکن اس کا طہارت حدث کے استعمال میں استعمال مکروہ نہیں ۔

اس لیے کہ علی رضي اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ :

پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے اورزمزم کا ایک ڈول منگوا کراس سے وضو کیا اورپیا ۔

اسے عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ انتھی ۔ دیکھیں نیل الاوطار کتاب الطہارۃ باب طھوریۃ ماء البحر ۔

حافظ سخاوی رحمہ اللہ تعالی نے المقاصد الحسنۃ میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ :

بعض لوگ یہ ذکرکرتے ہیں کہ زمزم کی فضيلت صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ اپنی جگہ ( یعنی مکہ ) میں ہو اوراگر اسے کسی اورجگہ منتقل کرلیا جاۓ تواس کی کچھ حقیقت اوراصل نہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سھیل بن عمرو رضي اللہ تعالی کی طرف خط لکھا کہ اگر میرا خط رات کوپہنچے توصبح سے قبل اوراگر دن کوپہنچے تورات ہونے سے قبل میری طرف زمزم روانہ کردو ، اسی خط میں ہے کہ انہوں نے دو مٹکے بھیجے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فتح مکہ سے قبل مدینہ میں تھے ۔

یہ حدیث شواھدکی بنا پر حسن درجہ کی ہے ، اوراسی طرح عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا بھی زمزم لےجاتیں اوریہ بتاتیں تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ کام کرتے اورمشکیزوں اور مٹکوں میں زمزم بھرکرلےجاتے اوربیماروں اورمریضوں کوپلاتے اوران پرانڈیلتے تھے ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کے جب بھی کوئ‏ مہمان آتا تووہ اسے زمزم کا تحفہ پیش کرتے ،اورعطاء رحمہ اللہ تعالی عنہ سے بھی زمزم لےجانے کے بارہ میں سوال کیا گیا توان کا جواب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورحسن اورحسین رضي اللہ تعالی عنہما بھی اسے لے کرجاتے تھے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments