170654: میڈیکل انشورنس کا،اور ہسپتال کے شعبہ انشورنس میں کام کرنے کا حکم


کسی پرائیویٹ ہسپتال کے شعبہ انشورنس میں بطور فی میل ڈاکٹر کا م کرنا کیسا ہے؟ میری ذمہ داری مطلوبہ مریض کی طبی رپورٹیں ، میڈیکل ٹیسٹ، اور آپریشن سے متعلقہ اشیاء انشورنس کمپنی کو ارسال کرنا ہے، تا کہ انشورنس کمپنی کی موافقت سےمطلوبہ کاروائی عمل میں لائی جائے، کیا ایسی ملازمت حرام ہے یا حلال؟ مجھے آپ سے اس مسئلے کی وضاحت مطلوب ہے۔

الحمد للہ:

اول:

تجارتی انشورنس کی تمام  تر اقسام  حرام ہیں، اس میں زندگی، صحت، اور پراپرٹی  تمام قسم کی انشورنس شامل ہیں، تاہم دو حالتوں میں انشورنس کروانا جائز ہوگا:

1- انسان کو انشورنس کروانے کیلئے مجبور کر دیا جائے، جیسے کہ  گاڑی وغیرہ کی انشورنس کیلئے مجبور کیا جاتا ہے، یا کوئی کمپنی  اپنے ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس  کو لازمی قرار دے، تو ایسی صورت میں گناہ مجبور کرنے والے پر ہوگا۔

2- انسان میڈیکل  انشورنس کا اتنا مجبور ہو جائے کہ اس کے بغیر مالی مشکلات کی وجہ سے علاج کروانا ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں  میڈیکل انشورنس  متعدد علمائے کرام کے ہاں جائز ہے، کیونکہ میدیکل انشورنس میں  حرمت  کی وجہ ایک ہے اور وہ ہے جہالت[عدمِ تعین]، اس میں سود نہیں ہوتا، اور جس   چیز کی صورت حال ایسی ہو تو ضرورت پڑنے پر وہ جائز ہوتی ہے۔

میڈیکل انشورنس میں  جہالت[عدم تعین]: کی وجہ یہ ہے کہ: انشورنس کروانے والا رقوم تو جمع کرواتا ہے ، لیکن وہ اس بات سے لا علم ہوتا ہے کہ وہ جمع شدہ رقم کے برابر  علاج کی خدمت حاصل کریگا یا اس سے کم و بیش ۔

اور انشورنس کی کچھ صورتیں ایسی ہیں  جن میں  جہالت کے ساتھ ساتھ ربا بھی ہوتا ہے، مثلاً: لائف انشورنس، کیونکہ  اس انشورنس میں انشورنس کروانے والا  اتنی اقساط جمع کرواتا ہے جنکی تعداد کا اسے بھی علم نہیں ہے، لیکن یہ لازمی ہے کہ وہ ادا شدہ رقم سے زیادہ ہی وصول کرتا ہے۔

میڈیکل انشورنس ضرورت کے وقت جائز کہنے والے اہل علم میں :  ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی، داکٹر عبد الرحمن بن صالح اطرم، ڈاکٹر یوسف شبیلی، اور ڈاکٹر خالد دعیجی شامل ہیں۔

یہ قاعدہ کہ "بنا بر جہالت حرام کردہ شے بوقتِ ضرورت مباح ہوتی ہے " متعدد اہل علم کا محورِ گفتگو رہا ہے چنانچہ :

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بیع الغرر [ایسا تجارتی معاہدہ جس میں قیمت یا فروخت شدہ چیز متعین نہ ہو] سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں قمار بازی  اور جوئےکی آمیزش ہے، جو کہ ناحق مال ہڑپ کرنے کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ  اگر کسی [تجارتی معاہدے] میں   اس کے بغیر چارہ نہ ہواور بڑے نقصان کا خدشہ ہو  تو بیع الغرر اس وقت جائز  ہو گی؛ تا کہ کم نقصان کو برداشت  کر کے بڑے نقصان سے محفوظ رہا جائے، واللہ اعلم" انتہی
"مجموع الفتاوى" (29/ 483)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید یہ بھی کہتے ہیں:
"غرر [تجارتی معاہدے میں فروخت شدہ چیز کا عدمِ تعین ] کی وجہ سے  ہونے والا نقصان سود کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے کم ہے، اسی وجہ سے بعض مواقع پر  بوقت ِضرورت اس کی رخصت دی گئی ہے ،  کیونکہ   ان مواقع پر ان اشیاء کی حرمت ان میں موجود  غرر  سے  زیادہ نقصان دہ  ہوتی ہے، مثال کے طور پر: مکان  کی خرید و فروخت جائز ہے، چاہے آپکو کی اس مکان کی دیواروں، اور بنیادوں کیلئے استعمال شدہ مواد کے بارے میں علم نہ ہو، اسی طرح  حاملہ جانور  اور دودھ پلاتے جانور کی خرید وفروخت  جائز ہے خواہ آپکو حمل اور دودھ کی مقدار کے بارے میں علم نہ ہو  (اگرچہ  الگ سے حمل کی خرید و فروخت ،  اور اسی طرح اکثر علمائے کرام کے ہاں تھنوں میں موجود دودھ کی فروخت  الگ سے کرنا منع ہے)،اسی طرح زرعی اجناس کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد انکی خرید و فروخت  جائز ہے،کیونکہ احادیث مبارکہ کے مطابق پھل یا زرعی اجناس  کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد  ان کی خرید و فروخت کرنا ، اور انہیں فصل یا درخت پر باقی رکھنا درست ہے (حالانکہ خرید و فروخت کے بعد ان کا اپنی کونپلوں پہ لگے رہنے میں  کچھ غرر کا اندیشہ موجود ہے۔مترجم) ، اسی بات کے جمہور اہل علم  یعنی مالک، شافعی، اور احمد قائل ہیں، اگرچہ ابھی تک ان زرعی اجناس میں  مکمل طور پر ایسی علامات پیدا نہیں ہوئی ہوتیں   جن  کے ظاہر ہونے پر ان زرعی اجناس کو مکمل تیار  کہا جا سکے۔
اور اسی طرح  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  تابیر شدہ [عمدہ کھجوریں حاصل کرنے کیلئے کھجوروں کی سالانہ پیوند کاری۔ مترجم] کھجور کے درختوں کی فروخت کے وقت خریدار کو  اجازت دی ہے کہ وہ  تابیر شدہ پھل کی شرط لگا دے کہ وہ میرا [یعنی: خریدار  کا] ہوگا، تو ایسی صورت میں خریدار کھجور کے درخت کے ساتھ ساتھ تابیر شدہ پھل کا اسکی مکمل صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے  ہی   مالک بن جاتا ہے ، چنانچہ ان مثالوں سے  یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  ضمنی  اور تھوڑے بہت غرر [جہالت اور عدم تعین] کیساتھ  تجارتی معاہدہ کرنا جائز ہے، جو کسی اور  صورت میں جائز نہیں ہے " انتہی
"الفتاوى الكبرى" (4/ 21)

دوم:

ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہسپتال کے شعبہ انشورنس میں بطور طبیب کام کرنا جائز ہے؛ اور اسے حرام کام میں  تعاون  شمار نہیں کیا جاسکتا؛ کیونکہ بعض ڈاکٹر اور میڈیکل سے منسلک حضرات میں سے بھی ایسے   ہیں جنہیں انشورنس کی ضرورت ہے، یا انہیں انشورنس کیلئے مجبور کیا گیا ہے، یا اسکی کمپنی سے  زبردستی اسکی ، یا اسکے اہل خانہ کی انشورنس کروا دی جاتی  ہے، اور ایسے حالات میں ان لوگوں کیلئے میڈیکل انشورنس  سے فائدہ  اٹھانا اور استعمال کرنا جائز ہے، جیسے کہ پہلے بھی اسکی وضاحت گزر چکی ہے، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں انشورنس کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن  پھر بھی انہوں نے انشورنس کروا لی تو ایسے لوگوں کو پہچاننا  اور انہیں ضرورت مند لوگوں سے الگ کرنا مشکل ہے،  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ  تعالی  انہیں معاف فرمائے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments