Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
171456

اگر مطلقہ عورت شادى كر لے تو بچى كى پرورش كون كريگا ؟

ميں نے اپنے سے خلع كے ذريعہ طلاق حاصل كى ہے جس كى توثيق ہمارى كيمونٹى كے كچھ علماء نے بھى كى ہے كيونكہ ميرا سابقہ خاوند سخت مزاج ہونے كى بنا پر خلع سے انكار كرتا تھا، خلع حاصل كرنے كا سبب يہ تھا كہ وہ ميرے اور بيٹى كے اخراجات برداشت نہيں كرتا تھا بلكہ ہمارا خيال تك بھى نہيں كرتا، اس وقت ميرى بيٹى كى عمر ابھى ايك برس بھى نہيں تھى.
ايك سال كے دوران علماء كرام نے اس كے ساتھ بات چيت كرنے كى كوشش كى ليكن اس كے قوى الحجت ہونے كى بنا پر مجھے امريكى عدالت ميں جانے كا مشورہ ديا تا كہ ميں اپنى بيٹى كے اخراجات خاوند سے حاصل كر سكوں، امريكى عدالت جانا اپنى توہين سمجھى، ليكن محسوس كيا كہ اس كے علاوہ كوئى اور حل نہيں ہے.
اپنے سابقہ خاوند سے بيٹى كے اخراجات ميں اسلام كے مطابق عمل كرتى ہوں، اسى طرح بيٹى كو ملنے كے ليے ايك شيڈول بنايا گيا ہے جس ميں باپ كچھ وقت اپنى بيٹى كے ساتھ رہتا ہے اس دوران وہ بيٹى سے قوى تعلقات بنانے كى كوشش كرتا ہے، اب ميرى بيٹى ميرے اور ميرے والد صاحب كے ساتھ رہتى ہے ميں دوسرى شادى كرنا چاہتى ہوں ميں بچى كے متعلق دريافت كرنا چاہتى ہوں، مجھے يہ تو علم ہے كہ اگر عورت دوسرى شادى كر لے تو وہ بچے كے حق پرورش سے ہاتھ دھو بيٹھتى ہے، حالانكہ ميرى بيٹى اس وقت سات برس كى ہے اور وہ ميرے ساتھ ہى رہنا چاہتى ہے، كيا اس مسئلہ ميں كوئى اختلاف تو نہيں پايا جاتا، اگر حقيقتا ميرى بچى ميرے ساتھ رہنا چاہتى ہو تو كيا شادى كے بعد بھى ميرے ساتھ رہنا ممكن ہے.
يہ ملحوظ خاطر رہے كہ ميرا ہونے والا خاوند ميرى اس بچى كو اپنے ساتھ ركھنے اور پرورش كرنے پر تيار ہے، اور اسے كوئى اعتراض نہيں ہوگا، باوجود اس كے كہ ميرا سابقہ خاوند خود تو سنى ہے ليكن اس كے سارے گھر والے غير مسلم اور شيعہ ہيں اس بنا پر ميں جانتى ہوں كہ ميرا سابقہ خاوند دينى معاملات ميں سست ہے، اور ميں نے نہيں چاہتى كہ ميرى بيٹى ايك غير اسلامى ماحول ميں پرورش پائے كيا يہ ممكن ہے كہ ميرى والدہ اس كى پرورش كرے اور پھر بلوغت كے بعد كيا ہوگا كيا وہ دوبارہ ميرے ساتھ آ كر رہ سكے گى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

ابو داود اور مسند احمد كى درج ذيل حديث كى بنا پر سات برس كى عمر تك ماں پرورش كرنے كى زيادہ حقدار ہے:

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ايك عورت رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر عرض كرنے لگى:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرا پيٹ ميرے اس بيٹے كے ليے برتن اور ميرى چھاتى اس كے ليے مشكيزہ اور ميرى گود اس كے ليے جائے امن تھى، اس كے باپ نے مجھے طلاق دے دى اور اب اسے بھى مجھ سے چھيننا چاہتا ہے.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تك تم نكاح نہيں كر ليتى تم اس كى زيادہ حقدار ہو "

مسند احمد حديث نمبر ( 6707 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2276 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اس ليے جب عورت شادى كر لے تو اس سے حق پرورش منتقل ہو كر دوسرے كى طرف منتقل ہو جائيگا، اس ميں فقھاء اختلاف كرتے ہيں كہ آيا ماں كے بعد حق پرورش كسے منتقل ہوگا ؟

بعض فقھاء كہتے ہيں كہ بچہ نانى كى پرورش ميں چلا جائيگا، مذاہب اربعہ كے جمہور علماء كرام كا مسلك يہى ہے اور كچھ علماء كہتے ہيں كہ حق پرورش باپ كو مل جائيگا، شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ابن قيم رحمہ اللہ نے يہى قول اختيار كيا ہے "

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 17 / 302 ) اور الشرح الممتع ( 13 / 535 ).

زاد المستقنع ميں درج ہے:

" ماں زيادہ حقدار ہے، اس كے بعد نانى پڑنانى اور پھر باپ اور دادى پھر دادا نانا اور ان كى مائيں بھى اسى طرح ....

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ اس كى شرح ميں كہتے ہيں:

" مؤلف رحمہ اللہ نے جو يہ ترتيب ذكر كى ہے يہ كسى دليل پر مبنى نہيں اور نہ ہى كسى تعليل پر اور اس ميں كچھ تناقض سا پايا جاتا ہے اور اس پر دل بھى مطمئن نہيں ہوتا، اس ليے پرورش ميں ترتيب كے متعلق علماء كرام كے كئى ايك اقوال پائے جاتے ہيں، ليكن ان سب اقوال كى كوئى دليل نہيں ہے جس پر اعتماد كيا جاسكے.

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ: مطلق طور پر قريبى كو مقدم كيا جائيگا چاہے باپ ہو يا ماں يا پھر دھديال ميں سے يا ننھيال ميں سے اور اگر سب برابر ہوں تو عورت كو مقدم كيا جائيگا، اور اگر دونوں مرد ہوں يا عورتيں ہوں تو پھر ايك طرف قرعہ ڈالا جائيگا اور دھديال سے باپ مقدم ہو گا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 535 ).

ليكن اس قول كے مطابق كہ نانى پر باپ كو مقدم كيا جائيگا باپ كى حالت كو ديكھا جائيگا كہ آيا اس ميں پرورش كى كتنى صلاحيت پائى جاتى ہے اور وہ بچے كى تربيت كرنے كى كتنى قدرت و استطاعت ركھتا ہے، لہذا اگر خود فاسد ہو يا پھر تربيت كرنے سے عاجز ہو تو پھر حق پرورش دوسرے كى طرف منتقل ہو جائيگا.

اس طرح كے مسائل حل كرنے كے ليے خير و صلاح كے حامل اشخاص كو آگے آنا چاہيے، تا كہ بچے كے ليے بہتر اور اچھا اختيار كيا جائے اور خاوند يا بيوى ميں سے كسى كو بھى ضرر و نقصان پہنچانے سے دور رہنے كى كوشش كرنى چاہيے.

دوم:

جب عورت شادى نہ كرے اور بچہ سات برس كا ہو جائے تو پھر:

1 ـ اگر بچہ ہو تو اسے ماں يا باپ ميں سے كسى ايك كو اختيار كرنے كا كہا جائيگا جسے وہ اختيار كرے بچہ اس كى تحويل ميں ہوگا؛ كيونكہ نسائى اور ابو داود كى حديث ميں ہے كہ:

ايك عورت رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور كہنے لگى:

ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ميرا خاوند ميرے بيٹے كو لے جانا چاہتا ہے، ميرے بيٹے نے مجھے بہت فائدہ ديا ہے اور مجھے ابو عنبہ كے كنويں سے پانى پلاتا رہا ہے.

اس عورت كا خاوند آيا اور كہنے لگا: ميرے بيٹے ميں مجھ سے كون جھگڑتا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بچے يہ تمہارا باپ ہے، اور يہ تمہارى ماں ہے تم ميں جس كا چاہو ہاتھ پكڑ لو "

تو بچے نے ماں كا ہاتھ پكڑ ليا اور ماں اسے لے كر چل دى"

سنن نسائى حديث نمبر ( 3496 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2277 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور حنابلہ اور شافعيہ نے بھى يہى مسلك اختيار كيا ہے.

2 ـ اور اگر بچى ہو تو امام شافعى رحمہ اللہ كے ہاں اسے بھى اختيار ديا جائيگا.

ليكن ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ بچى كى پرورش كى ماں زيادہ حقدار ہے، جب تك بچى كى شادى نہيں ہو جاتى يا پھر بالغ نہيں ہو جاتى وہ ماں كے پاس رہےگى.

اور امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں: شادى اور رخصتى تك اس كى ماں زيادہ حقدار ہے.

اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں: بچى كا باپ زيادہ حقدار ہے؛ كيونكہ باپ حفاظت كے ليے زيادہ بہتر و اولى ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 17 / 314 ـ 317 ).

سوم:

جب بچہ عقل و رشد كو پہنچ جائے تو ماں اور باپ ميں سے جسے چاہے اختيار كر سكتا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حق پرورش اسى پر ثابت ہوگا جو بچہ ہو يا پھر بے عقل ہو، ليكن بالغ اور عقل و رشد ركھنے والے كى پرورش كا كوئى حق نہيں، اور اسے ماں اور باپ ميں سے جسے چاہے كے ساتھ رہنے ميں اختيار ہے.

اگر مرد ہو تو اسے اكيلا رہنے كا بھى حق ہے، كيونكہ وہ ماں اور باپ سے مستغنى ہے، اور مستحب يہى ہے كہ وہ اكيلا نہ رہے اور ماں باپ سے صلہ رحمى كو ترك مت كرے.

ليكن اگر لڑكى ہو تو وہ اكيلا رہنے كا حق نہيں ركھتى باپ اسے روك سكتا ہے، كيونكہ اكيلا رہنے كى حالت ميں اس كے پاس خراب اور غلط قسم كے افراد كو روكنے والا كوئى نہيں ہوگا، اس طرح اس كے خاندان اور گھر والوں كو عار كا سامنا كرنا پڑيگا، اور اگر اس بچى كا باپ نہ ہو تو پھر اس كے ولى اور خاندان والوں كو روكنے كا حق حاصل ہوگا " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 8 / 191 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments