1804: کیا شریک حیات کا اختیار بندے کو ہے یا کہ اللہ تعالی کے فیصلے سے ہے


کیا شریک حیات کا اختیار بندے کو ہے یا کہ اللہ تعالی کے فیصلے اور قضاء سے ہے؟

الحمدللہ

ہمارے لئے شروع میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہر چیز کے لئے اللہ تعالی کی تقدیر پر ہمارا ایمان ہے اور اسی طرح اس پر بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں مشیت اور ارادہ عطا کیا ہے جس سے ہمارے لئے کام کرنے ممکن ہوتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں۔ اللہ تعالی نے بندے کی مشیت کو ثابت کرتے ہوئے فرمایا:

"اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے"

اور ہمارا ارادہ اور مشیت اللہ تعالی کی مشیت کے ماتحت ہے اور اس سے خارج نہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے۔

"اور تم اللہ رب العالمین کے چاہے بغیر کچھ نہیں چاہ سکتے"

تو اس بنا پر اسے ایک دوسرے پر پیش نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ایک کی دوسرے سے نفی کرنی جائز ہے کیونکہ اللہ تعالی نے دونوں کو ثابت کیا ہے تو اللہ تعالی نے بندے کی قدرت اور اختیار کو ثابت کیا اور اپنی مشیت کو بھی ثابت کیا جس سے کوئی چیز خارج نہیں ہوسکتی۔

تو اگر ہم اس کی تطبیق اس سوال پر کریں گے تو اس سے ثابت ہوگا کہ ہمارا ایمان ہے کہ بندے کے لئے مشیت ہے جس کی بنا پر وہ شادی کےلئے عورتوں میں سے جسے چاہے اختیار کرسکتا ہے تو بندے کا جو بھی اختیار ہوگا وہ اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ تو بندے کا یہ اختیار اور ارادہ اور مشیت اسکے مقصود اور مطلوب کو حاصل کرنے کا سبب ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ارادے تک پہنچتا ہے۔

اور بعض اوقات بندے کی مراد اور مطلوب کے درمیان کوئی مانع آجاتا ہے تو اس سے اسے علم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے وہ چیز کسی حکمت کی بنا پر اسکے مقدر میں نہیں کی جسے صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے اور اس کے سب افعال بھلائی پر مشتمل ہیں بندہ نہ تو غیب جانتا ہے اور نہ ہی معاملات کے انجام کو اور بعض اوقات وہ کسی چیز کے نہ کرسکنے (فوت ہوجانے سے) سے افسردہ ہوجاتا ہے حالانکہ اسکے فوت ہونے میں اسکی بھلائی تھی اور بعض اوقات کسی چیز کے وقوع میں خیر اور بھلائی ہوتی ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

"ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے تم تو بے خبر ہو" البقرہ 216

اور اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرمائے۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments