Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
182258

مقرر شدہ منافع پر حصص خریدنے کا حکم

ar
مجھے ابھی کچھ دن پہلے ایک انویسٹمنٹ کمپنی کے بارے میں پتہ چلاہے ، جسکا طریقہ کار کچھ ایسے ہے: کمپنی کی جانب سے حصص فروخت کئے جاتے ہیں، ایک حصہ کی قیمت دس ڈالرہے، اور آپکی حصص خریداری پر 2٪ منافع 75 دنوں تک ملتا رہے گا، یعنی جب آپ حصص کی خریداری کرینگے تو آپ 0.20 ڈالر روزانہ 75 دنوں تک بطور منافع حاصل کرینگےجسکی بنا پر آپکے پاس دس ڈالر کی بجائے پندرہ ڈالر ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سودی کمپنی ہے؟

الحمد للہ:

شریعتِ اسلامیہ میں ایسا کوئی خرید وفروخت کا معاملہ نہیں ہے جس میں انسان دوسرے کو رقم دے اور وہ اسے حتمی طور پر نفع کیساتھ واپس کرے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ حرام ہے چاہے لوگ اسکے بدل بدل کر مختلف نام رکھ لیں، یہ تمام تر شکلیں یا تو سود سے تعلق رکھتی ہیں یا پھر حرام اور فاسد مشارکہ کے قبیل سے ہیں۔

سوال میں ذکر شدہ صورت حصص کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت سے تعلق ہی نہیں رکھتی، بلکہ انکا حرام بانڈزکے لین دین سے زیادہ تعلق معلوم ہوتا ہے، اس لئے ایک شیئر کسی کمپنی کا حصہ ہوتا ہے، اور ایک شیئر کا مالک کمپنی میں حصہ دار ہونے کی حیثیت سے اس کمپنی میں اسی قدر نفع نقصان کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے، جبکہ بانڈز میں کسی کمپنی کو قرض دیا جاتا ہے، اور بانڈز کے خریدار کو نفع ملنا ہی ملنا ہے کمپنی کو چاہے نفع ہو یا نقصان، کمپنی کے نقصان سے اسے کچھ بھی حصہ نہیں ملتا اس لئے کہ وہ کمپنی میں شریک نہیں ہے۔

ان بانڈز کا لین دین کرنا شرعی طور پر حرام ہے، کیونکہ یہ طے شدہ نفع کے بدلے میں قرض ہے، اور یہ ہی سود ہے جسے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حرام قرار دیتے ہوئے سخت وعید بھی سنائی اور فرمایا: ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنْ الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ ) ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم مؤمن ہوتو ، اللہ سے ڈرو اور باقیماندہ سود چھوڑ دو، اگر ایسے نہ کیا تو اللہ اور اسکے رسول سے اعلانیہ جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے صرف راس المال ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی وہ تم پر ظلم کریں۔

مجمع فقہ الاسلامی کی قرار داد کے مطابق: "ایسے تمام بانڈز جنکی خریداری کیلئے خاص رقم ادا کرنی پڑے،اور ساتھ میں مشروط یا غیر مشروط نفع بھی ملےان کا اجراء کروانا، خریدو فروخت کرنا ہر طرح کا لین دین حرام ہے، اس لئے کہ یہ سودی قرضہ ہے، چاہے ان بانڈز کا اجراء پرائیویٹ اداروں کی طرف سے ہو یا حکومتی اداروں کی جانب سے، اور انکے مختلف نام انویسٹمنٹ انسٹرومنٹ، سیونگ انسٹرومنٹ یا حاصل ہونے والے سود کو نفع، کمیشن وغیرہ کہنے سے ان کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی" انتہی، "قرارات مجمع الفقہ الاسلامی" صفحہ(126)

مزید کیلئے سوال نمبر (69941) (102010) (65689) کے جوابات بھی ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments