1848: جديد آلات كے ذريعہ تجارتى معاہدے كرنے كا حكم


جديد ايجاد كردہ آلات مثلا فيكس، ٹيلى فون، ٹيلكس، اور انٹرنيٹ وغيرہ كے ذريعہ خريدوفروخت اور كرايہ وغيرہ كے معاہدے كرنے كا حكم كيا ہے، اور جب كہ عادتا معاہدے كى مجلس تو دفاتر يا دوكان اور ماركيٹ وغيرہ ميں ہوتى تھى تو جديد آلات كے استعمال سے كس طرح ہو گى ؟

الحمد للہ:

شروط شرعيہ كے ساتھ اور موانع كى غير موجودگى ميں جب ايجاب و قبول ہو تو شرعى معاہدہ ہو جاتا ہے، اور خريدوفروخت كے معاہدہ ميں ايجاب وقبول كى مثال يہ ہے كہ: فروخت كرنے والا كہے كہ ميں نے فروخت كيا اور خريدار كہے ميں نے اسے قبول كيا، اور اس ترقى كو ديكھتے ہوئے جو دور حاضر ميں ايك دوسرے سے رابطہ كرنے كے وسائل ميں ہو چكى ہے اور جن وسائل كے ساتھ معاملات جارى ہيں اور مالى معاملات ميں تجارتى معاہدے بڑى تيزى كے ساتھ كيے جارہے ہيں، اور معاہدات كى متعلق جو كچھ فقہاء نے كہا ہے اسے سامنے ركھتے ہوئے كہ معاہدہ لكھ كر يا اشارہ يا پھر ايلچى بھيج كر ہوتا ہے، اور جو يہ فيصلہ شدہ ہے كہ معاہدہ كرنے والے دونوں فريق حاضرہوں اور مجلس ايك ہى ہو - وصيت اور وكالت وغيرہ كے علاوہ - اور ايجاب و قبول ميں مطابقت ہو، اور ايسا كوئى كام صادر نہ ہو جس سے معاہدہ كرنے والے دونوں فريقوں ميں كسى ايك كا معاہدہ سے اعراض پر دلالت كرے، اور ايجاب وقبول كے مابين موالاۃ بھى عرف كے مطابق ہوں، اسے ديكھتے ہوئے مندرجہ ذيل مقرر كيا گيا ہے:

اول:

جب كوئى معاہدہ دو غائب اشخاص كے مابين ہو جو ايك جگہ پر جمع نہ ہوں اورنہ ہى ايك دوسرے كو بعينہ ديكھ رہے ہوں اور نہ ہى ايك دوسرے كى بات سن رہے ہوں، اور ان دونوں كے مابين رابطہ كتابت، يا پھر خط يا ايلچى كے ذريعہ ہو، اور يہ تار اور ٹيلكس اور فيكس اور كمپيوٹر كى سكرين پر بھى منطبق ہوتا ہے، لہذا اس حالت ميں اس وقت معاہدہ پايہ تكميل تك پہنچے گا جب جب دوسرى طرف سے ارسال كيا گيا ايجاب قبول كر ليا جائے.

دوم:

جب ايك ہى وقت ميں دونوں طرف سے معاہدہ پورا ہو جائے اور وہ دونوں ايك دوسرے سے دور جگہ پر ہوں، اور اس طا اطلاق ٹيلى فون، اور وائرليس پر بھى ہوتا ہے، تو اس معاہدہ كو كرنے والے حاضر شمار كيے جائيں گے، اور اس حالت پر وہ اصلى احكام لاگوہونگے جو فقہاء كے ہاں اس مسئلہ ميں مقرر كردہ ہيں جن كا اشارہ الديباجۃ ميں كيا گيا ہے.

سوم:

جب ايجاب كے وقت ان وسائل كے ساتھ كوئى عارض پيش آجائے تو اس مدت ميں ايجاب پر ہى باقى رہے گا اور اسے رجوع كرنے كا كوئى حق نہيں .

چہارم:

سابقہ قواعد و ضوابط نكاح كو شامل نہيں كيونكہ اس ميں گواہوں كى شرط پائى جاتى ہے، اور قبضہ كى شرط سے بھى عليحدہ نہيں ہوا جا سكتا، اور راس المال پہلے دينے كى شرط كي بنا پر بيع سلم بھى نہيں.

پنجم:

جس چيز ميں كھوٹ يا جعل سازى اور غلطى كا احتمال ہو اس ميں ثبوب كے قواعد و ضوابط پر عمل كيا جائےگا.

الاسلام سوال وجواب
Create Comments